مرنا کبھی اس قدر آساں نہ تھا
- تحریر امر جلیل
- منگل 21 / جولائی / 2026
اکثر اوقات کچھ ایسی باتیں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں جن پر سردست یقین کرنا ممکن نہیں لگتا۔ ایسی باتوں کو عام طور پر ہم الف لیلہ کی بھولی بسری کہانی سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے، ہر لحاظ سے بات سچ ہوتی ہے۔
حال ہی میں ایک پراسرار کہانی مجھے پڑھنے کو ملی ہے۔ کہانی پڑھ کر آپ چکرا جاتے ہیں، کہانی کو آپ مضحکہ خیز سمجھنے لگتے ہیں، کہانی کا نچوڑ سن لیجئے۔ اس کے بعد ہم کہانی پر بات چیت کریں گے۔ فرانس کی حکومت نے پچھلے دنوں چونکا دینے والا قانون بنا ڈالا ہے، اس قانون کے تحت آپ جب چاہیں یہ دنیا چھوڑ سکتے ہیں۔ یعنی جب چاہیں آپ مر کھپ سکتے ہیں۔ اپنی مرضی سے مرنے کے لیے سرکار نے چند شرائط رکھی ہیں۔ اپنے ڈاکٹر کو مطلع کرنے کے لیےکہ اب آپ مزید اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتے، آپ اپنی مرضی سے مرنا چاہتے ہیں، آپ کا تشویش ناک حد تک بیمار ہونا ضروری ہے۔ آپ کا مرض لاعلاج ہونا چاہیے، آپ کے روبصحت ہونے کی قطعی کوئی امید نہ ہو، تب ڈاکٹر آپ کو مرنے میں قانوناً مدد کرنے کو تیار ہوگا۔
آپ ڈاکٹر سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کو نزلہ زکام ہوگیا ہے، اس لیے آپ مزید زندہ رہنا نہیں چاہتے۔ آپ مرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر آپ کی کوئی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا، ڈاکٹر کی مدد سے مرنے کے لیے آپ کا بے انتہا بیمار ہونا ضروری ہے۔ بات یہاں آکر ختم نہیں ہوتی، یہاں سے قانون کو وسعت ملتی ہے۔ اپنی مرضی اور منشا سے مرنے کا حق آپ کے ورثا کو دے دیا جاتا ہے، آپ اگر بے انتہا بیمار ہیں۔ آپ بول نہیں سکتے، آپ کچھ لکھ نہیں سکتے، آپ ٹھیک سے کچھ سن نہیں سکتے۔ آپ ٹھیک سے کوئی مناسب فیصلہ نہیں کرسکتے، ایسے میں فرانسیسی حکومت نے آپ کے ورثا کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ آپ کے اس دنیا سے چلے جانے کا فیصلہ کریں۔ میڈیکل ہسٹری کو سامنے رکھتے ہوئے سرکار نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
تیز رفتاری سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ایک لڑکے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا، اس کا دماغ پاش پاش ہوگیا۔ لڑکا کوما میں چلا گیا۔ ڈاکٹروں نے لڑکے کو وینٹی لیٹر پر زندہ رکھا۔ یہ امریکا کی کسی اسٹیٹ کا قصہ ہے، ڈاکٹروں نے لمبے عرصہ تک مصنوعی طریقے سے لڑکے کو زندہ رکھا۔ بچہ صرف سانس لے سکتا تھا اور کچھ نہیں۔ بچے کی المناک حالت دیکھ کر والدین اور ورثا پریشان ہوگئے۔ والدین اس دوران نفسیاتی مریض بنتے گئے۔ جب ڈاکٹروں سے رجوع کرتے، ان سے پوچھتے کہ ہمارے بچے کے صحت یاب ہونے کے کتنے چانسز ہیں؟ ان کو ڈاکٹروں کی طرف سے دل توڑنے والا جواب ملتا۔ ڈاکٹر جواب دیتے، آپ کے بچے کا ٹھیک ہوکر میڈیکل سائنس کے مطابق زندگی گزارنا امکان سے باہر ہے۔
والدین نے پوچھا ’ایسی المناک حالت میں ہمارا بچہ کب تک زندہ رہے گا؟ ’کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا‘ ڈاکٹر کہتے۔ ’آپ کے بچے کو زندہ رکھنا ہمارا پیشہ ورانہ فرض ہے، ہم اپنا پیشہ ورانہ فرض بچے کی آخری سانسوں تک نبھاتے رہیں گے‘۔ والدین نے دکھ سے پوچھا۔ ’مگر آپ فرما رہے تھے کہ ہمارا بچہ ٹھیک ہوکر نارمل زندگی نہیں گزار سکتا ہے؟‘ وہ تو میڈیکل سائنس کے مطابق طے ہے، ڈاکٹر فرماتے۔ ’آپ کا بچہ نارمل زندگی نہیں گزار سکتا‘۔ آخرکار معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا۔ یہ پہلا کیس تھا جس میں والدین نے مصنوعی طریقے سے اپنے بچے کی المناک زندگی دیکھنے سے انکار کردیا تھا اور عدالت سے وینٹی لیٹر ہٹانے کی درخواست کی تھی۔ عالم، دانشور، پوپ اور پادری عدالت میں جمع ہوگئے۔
یاد رہے کہ امریکا دہریوں کا ملک نہیں ہے، امریکا کرسچن یعنی عیسائیوں کا ملک ہے۔ عدالت میں بحث نکل پڑی تھی کہ کسی بھی بنا پر، منطق پر، کسی کو قانونی طور پر دوسرے کی جان لینے کی اجازت دی جاسکتی ہے یا کہ نہیں۔ بڑھتے بڑھتے بات جج اور سزائے موت کے حکم تک جا پہنچی۔ بحث، مباحثوں نے عدالتوں کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا،
جب کسی نے کہا ’جج صاحب کو قانوناً اجازت ملی ہوئی ہے کہ وہ ملز کو سزائے موت کا حکم سنا سکتا ہے۔ یہ بات جج صاحب اور معاشرے کی مشترکہ خیر و عافیت کے حق میں سمجھی جاتی ہے‘۔ والدین کی المناک کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ڈاکٹروں کو حکم دیا کہ وہ مصنوعی طریقےسے بچےکو زندہ رکھنے کی کوشش نہ کریں اور وینٹی لیٹر ہٹا دیں۔
امریکا کی کئی اسٹیٹس نے یہ قانون اپنایا ہے۔ اس سے پہلے یورپ کے کئی ممالک نے منشا سے مرنے کا قانون اپنایا ہے۔ ایسے ممالک میں دنیا کا سب سے خوب صورت ملک سوئٹزرلینڈ ملک شامل ہے۔ بلجیم بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ قوانین کیسے بنائے جاتے ہیں۔ اس کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان ہی ممالک میں جہاں مہلک بیماریوں میں مبتلا کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے مرنے کی قانونی خواہش کرسکتا ہے، ایسے ممالک میں خودکشی کے عمل کو لاقانونیت اور جرم سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ خودکشی کرنے و الا بھی اپنی مرضی اور منشا سے اپنی جان لیتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)