کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے

آزاد کشمیر میں الیکشن سر پر کھڑے ہیں لیکن معاملہ یہ ہے کہ کشمیر کے سیاستدان پیچھے رہ گئے ہیں اور معاشرہ آگے بڑھ گیا ہے۔ جب سیاستدان اور سیاست پیچھے رہ جائے اور سماج آگے بڑھ جائے تو بیچ میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔

سیاست میں ارتقا کا عمل جاری رہے تو یہ خلا فطری سے بھر جاتا ہے لیکن اگر ارتقا کا  یہ عمل رک جائے تو حادثے جنم لیتے ہیں۔ سیاست رومان سے چلتی ہے۔ سیاست دان کے پاس اتنا زاد راہ ضرور ہونا چاہیے کہ عوام کو خود سے جوڑے رکھے۔ کشمیر کے اہل سیاست کو سوچنا چاہیے کہ کشمیر کی سیاست میں کیا کوئی ایسا نعرہ، کوئی ایسی امید، کوئی ایسا خواب، کوئی ایسا رومان باقی ہے؟  باقی ہے تو کس شکل میں؟ اور باقی نہیں تو کیوں نہیں؟

سیاست کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جب عوام سے دور ہو جائے گی، سیاست جب صرف اقتدار کی غلام گردشوں کے چکر لگانے کا اور مفادات کے تعاقب کا نام ہو جائے گا، تو عوام اس سے لاتعلق ہو جائے گی۔ جب عوام سیاست سے لاتعلق ہو جاتے ہیں تو سیاست اور سیاسی عمل نامعتبر ہو جاتا ہے۔ جب سیاست صرف جوڑ توڑ اور موقع پرستی کا نام رہ جائے تو معاشرہ اس پر اپنا بھروسا کھو دیتا ہے۔ سیاست کے لیے ضروری ہے کہ عوام میں اس کا کوئی رومان باقی رہے۔ اس وقت کشمیر کی سیاست کا کوئی رومان باقی ہے تو بتائیے۔ پیپلز پارٹی ہے، نون لیگ ہے، تحریک انصاف ہے، اگرچہ تحریک انصاف اس انتخابی عمل  کا حصہ نہیں ہے لیکن سیاسی عمل میں موجود ہے تو رومان کون سا ہے؟ تحریک انصاف کے دامن میں نفرت  بھرے پوسٹ ٹروتھ کے سوا کچھ نہیں ہے اور باقیوں کے ناموں میں تو نعرے بھی نہیں رہے۔ تو عام آدمی سیاسی جماعتوں کے ساتھ کس بنیاد پر جڑے گا؟

وقت بدل رہا ہے۔ روایتی سیاست کا ڈھانچہ تبدیل ہو رہا ہے۔ یورپ میں جس طریقے سے انڈسٹریلائزیشن نے معاشرے کو بدلا تھا، پاکستان میں سوشل میڈیا نے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ معاشرے کی ساخت کو بدل دیا ہے۔ برادری اور دھڑے بندی کی سیاست پیچھے رہ گئی ہے۔ ہر فرد اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔ ایک ڈیجیٹل انڈویجولزم اس وقت معاشرے کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ اس میں نوجوان سوچ رہے ہیں، سوال اٹھا رہے ہیں، مشتعل ہو رہے ہیں، ان کی ہتھیلی پر کچھ سوالات رکھے ہیں، اور ان کا سوال سنے بغیر، ان کے سوال کا جواب دیے بغیر، جمہوریت اور جمہوری عمل معتبر نہیں ہو سکتا۔

سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا کیا جائے؟

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کشمیر ایکشن کمیٹی ہو یا اس کی کوئی مزید انتہائی شکل ہو، یہ نہ مسائل حل کر سکتے ہیں، نہ ان کے ذریعے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ یہ کتھارسس کے کام آ سکتے ہیں۔ وقتی جذبات اور ہیجان کی آسودگی بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن معاملات سیاسی اور جمہوری طریقے سے ہی حل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایک جمہوری بندوبست کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے کوئی سا بھی اور راستہ اختیار کر لے جس کا تعلق مروجہ سیاست سے نہ ہو، تو اس میں شاید کسی وقت کہیں پر کوئی جزوی کامیابی تو مل جائے لیکن مستقل بنیادوں پر نہ کامیابی مل سکتی ہے نہ یہ راستے کسی کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ یہ راستے صرف افراتفری اور تخریب کی طرف لے جاتے ہیں۔

راستہ ایک ہی ہے، اور وہ ہے جمہوری جدوجہد۔  جمہوریت کے ذریعے، الیکشن کے ذریعے اقتدار میں آنا۔  آپ کا جو بھی نظامِ حیات ہے، جو بھی تعبیرِ حیات ہے، الیکشن میں حصہ لیں اور جیت کر  اسے لاگو کر دیں ۔ الیکشن کا حصہ بنے بغیر شہروں کو بند کر کے، نظام زندگی معطل کر کے،  سڑکوں پر آ کر بیٹھ جانا اور سمجھنا کہ اس طریقے سے ہم مطالبات منوا لیں گے، یہ خام خیالی ہے۔ بالخصوص اس وقت جب آپ کے مطالبات میں سے بعض کا تعلق خالصتاً آئینی ترامیم کے ساتھ ہو۔ یہ ترامیم ظاہر ہے سڑکوں پر بیٹھ کر تو نہیں ہوتیں۔ یہ ترامیم جمہوری عمل کا حصہ بن کر، اسمبلی میں جا کر، آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ہو سکتی ہیں۔

جمہوریت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود دستیاب آپشنز میں سے بہترین آپشن ہے۔ اس کا فی الوقت کوئی متبادل دستیاب نہیں ہے۔ اگر ایک گروہ آج سڑکوں پر بیٹھ کر مطالبات پیش کر کے یہ چاہتا ہے کہ اس کے سارے مطالبات مان لیے جائیں تو کل کو دوسرا گروہ آئے گا، پرسوں تیسرا گروہ آئے گا، پھر یہ سلسلہ چل نکلے گا اور  انارکی پیدا ہوگی۔ اسی لیے راستہ جمہوری ہی ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جو سڑکوں پر آتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں، وہ بھی اپنا مطالبہ حکومتوں کے سامنے ہی رکھتے ہیں۔ تو اگر وہ اپنے نعرے کے حوالے سے، اپنے خیالات کے حوالے سے اتنے ہی پرامید ہیں کہ عوامی مقبولیت ان کے ساتھ ہے، تو پھر یہ بھی ایک بہتر راستہ ہو سکتا ہے کہ الیکشن میں حصہ لے کر خود حکومت بنا لی جائے اور اپنے اس سارے فلسفۂ حیات کو اقتدار کے ذریعے لاگو کر لیا جائے۔ یا پھر کسی ایسی سیاسی جماعت کی حمایت کر لی جائے جو ان مطالبات کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہو۔ احتجاج جمہوری عمل پر اثر انداز ہونے کا نام ہوتا ہے لیکن احتجاج کسی جمہوری عمل کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

الیکشن میں بلاشبہ بہت سارے مسائل ہوتے ہیں۔ الیکشن کی شفافیت تو ہمارے ہاں ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ لیکن اس کا حل بھی جمہوری عمل کا حصہ بن کر ہی نکالا جا سکتا ہے۔ سڑکوں پر بیٹھ کر نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کا علاج مزید جمہوریت ہے۔

(بشکریہ: وی نیوز)