حوثیوں کی سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیاں ناقابل قبول: پاکستان

  • بدھ 22 / جولائی / 2026

پاکستان نے بدھ کو یمن میں سرگرم حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایسے اقدامات کو ’علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں اور تجارتی جہاز رانی کو دی جانے والی دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔‘ حوثیوں نے پیر کو کہا تھا کہ وہ سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی عائد کریں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں کی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی کے تحت فوری طور پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر عائد ناجائز محاصرے کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔

تاہم سعودی عرب نے منگل کو حوثیوں کے ان الزامات کی سخت مذمت کی کہ مملکت یمن کا محاصرہ کر رہی ہے اور اس پر بحری ناکہ بندی مسلط کیے ہوئے ہے۔  سعودی وزارت خارجہ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب اپنے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے ’تمام ضروری اقدامات‘ کرے گا۔

اس بارے میں پاکستان نے بھی بدھ کو ایک بیان جاری کیا جس میں اس کا کہنا ہے کہ ’پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکتِ سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف جاری دھمکیوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خاص طور پر ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے جن کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں یا پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا‘۔

اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، پاکستان اپنے سمندری اثاثوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے دفاع کے حق کے تحت تمام ضروری اقدامات، بشمول قانون کے مطابق طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور برادر سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔