تیل کتنا مہنگا ؟
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- بدھ 22 / جولائی / 2026
اس وقت دنیا تیل کے بحران سے گزر رہی ہے۔تیل کے عالمی بحران سے مراد وہ صورتحال ہے جب دنیا میں خام تیل کی فراہمی، قیمتوں یا رسد میں بڑی خرابی پیدا ہو جائے، جس سے معیشتیں، صنعتیں اور صارفین متاثر ہوں۔
اس کے اہم حقائق میں فراہمی اور طلب کا عدم توازن بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اگر تیل کی طلب بڑھ جائے اور پیداوار اس رفتار سے نہ بڑھے تو قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔ جغرافیائی سیاسی تنازعات: مشرقِ وسطیٰ، روس، یوکرین یا دیگر تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں جنگ یا کشیدگی عالمی منڈی کو متاثر کرتی ہے۔ حالیہ امریکہ ایران بڑھتی کشیدگی نے اس صورت حال کو مزید نازک اور تشویش ناک بنا دیا ہے۔ اوپیک اور اوپیک پلس تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی پیداوار کم یا زیادہ کر کے عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
قدرتی آفات: سمندری طوفان زلزلے یا دیگر آفات تیل کی پیداوار اور ترسیل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ان وجوہات کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہو جاتے ہیں۔
نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔
متبادل توانائی کی اہمیت: تیل کے بحران کے باعث ممالک شمسی، ہوائی، آبی اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
1973 کا تیل بحران آ یا تو عرب ممالک کی جانب سے تیل کی پابندی کے نتیجے میں قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔
1979 میں ایران کے انقلاب کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی شدید قلت پیدا ہوئی۔
2022 کے بعد: روس یوکرین جنگ نے تیل اور توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی، جس سے کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اور اب امریکہ ایران جنگ میں آ بنانے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے یہ تشویشناک صورتحال سامنے آ رہی ہے۔
کیا واقعی دنیا میں تیل ختم ہو رہا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت سے ذہنوں میں جنم لے رہا ہے۔ اب تک دستیاب شواہد کے مطابق دنیا میں تیل مکمل طور پر ختم ہونے کے قریب نہیں ہے۔ اصل مسئلہ زیادہ تر فراہمی، سرمایہ کاری، سیاسی حالات، اور طلب میں تبدیلی ہوتا ہے، نہ کہ فوری طور پر ذخائر کا ختم ہو جانا۔ تاہم، طویل مدت میں محدود ذخائر اور ماحولیاتی خدشات کی وجہ سے دنیا بتدریج متبادل توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
تیل کا عالمی بحران صرف تیل کی کمی کا نام نہیں، بلکہ عالمی سیاست، معیشت، پیداوار، ترسیل اور توانائی کی پالیسیوں کا مجموعی نتیجہ ہوتا ہے۔
اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا عمومی رجحان اوپر کی طرف ہے، اگرچہ مارکیٹ میں کافی اتار چڑھاؤ بھی موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی کے خدشات کی وجہ سے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کے بجائے حال ہی میں مہنگا ہوا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک میں پٹرول کی قیمتوں پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، اگرچہ مقامی ٹیکس، لیوی اور حکومتی پالیسی بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان میں اب تیل کی قیمتوں پر اضافے یا کمی کے لئے روزانہ کی بنیاد پر پالییسی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر عوام کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے عوامی نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اس سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا نظام بھی متاثر ہوگا اور عوام کی قوت خرید بھی اس کی راہ میں رکاوٹ بنے گی
روزانہ پٹرول کی قیمتوں کا تعین صرف پاکستان میں نہیں ہوتا۔ دنیا میں مختلف ممالک مختلف نظام اپناتے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ پالیسی کے تحت حکومت نے روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کا نظام متعارف کرایا ہے تاکہ عالمی تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا فوری اثر مقامی قیمتوں میں شامل کیا جا سکے۔ بھارت میں بھی بیشتر شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ اپ ڈیٹ ہوتی ہیں، اگرچہ ہر روز لازمی طور پر قیمت تبدیل نہیں ہوتی۔
آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں قیمتیں بڑی حد تک آزاد منڈی کے مطابق ہوتی ہیں۔ اس لیے مختلف پٹرول پمپ اپنی قیمتیں روزانہ بلکہ بعض اوقات دن میں کئی بار بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب، کویت، قطر، ایران اور کئی دیگر ممالک میں حکومت قیمتوں کو کنٹرول کرتی ہے، اس لیے قیمتیں عموماً ماہانہ یا اس سے بھی کم وقفے سے تبدیل ہوتی ہیں، روزانہ نہیں
اس لیے پاکستان اس معاملے میں منفرد نہیں ہے۔ کئی ممالک میں روزانہ یا مارکیٹ کی بنیاد پر قیمتیں بدلتی ہیں، جبکہ کئی دوسرے ممالک میں حکومت مقررہ وقفوں (جیسے ماہانہ یا ہفتہ وار) سے قیمتوں کا اعلان کرتی ہے۔
تازہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق، فی لیٹر پٹرول کی قیمت کے لحاظ سےسب سے سستا پٹرول ایران، لیبیا، وینزویلا الجزائر اور کویت میں دستیاب ہے۔ ان ممالک میں حکومت کی سبسڈی یا مقامی تیل کی بڑی پیداوار کی وجہ سے پٹرول بہت سستا ملتا ہے۔ اس کے برعکس سب سے مہنگا پٹرول ہانگ کانگ، آ ئس لینڈ، نیدرلینڈز، ڈنمارک اورسوئٹزرلینڈ میں مل رہا ہے۔ ان ممالک میں زیادہ ٹیکس اور ماحولیاتی پالیسیوں کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں دنیا میں بلند ترین ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک میں پٹرول سستا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر ناروے خود بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، لیکن وہاں بھاری ٹیکس کی وجہ سے پٹرول دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان میں چونکہ پہلے بہت سے مسائل ہیں مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ملک میں بے روزگاری ہے اور یہاں ملازمین کی تنخواہیں اور امدنی ان کے اخراجات سے کم ہے اور ذیادہ تر افراد غربت سے بھی نیچے کی لکیر کی زندگی گزار رہے ہیں، اس لئے یہاں تیل کے بحران کو زیادہ محسوس کیا جارہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے مربوط حکمت عملی وضع کرے۔ عام آ دمی کو تیل پر سبسڈی دے اور عام آ دمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کرے طبقاتی تقسیم اور وسائل کی مساویانہ فراہمی سے بھی صورت حال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
پٹرول پمپس پر ملاوٹ ملے تیل کی شکایات کا بھی ازالہ ہو جب کہ پیمانوں کی مقدار پر بھی نظر رکھی جائے۔ قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے کی وجہ سے اکثر پٹرول پمپ۔ ذخیرہ اندوزی کرتے ہوئے پٹرول کی فراہمی روک کر مصنوعی بحران پیدا کرتے ہیں اس کا بھی تدارک ہونا چاہیے۔ حکومت اور عوام کو مل کر اس عالمی توانائی اور تیل کے بحران پر قابو پانے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ کفایت شعاری مہم کو بھی کامیاب کرنا ہوگا۔ تاکہ ہم اس اہم مسئلے اور صورت حال کے منفی اثرات سے بچ سکیں اور کامیابی کے ساتھ اس بحران کا مقابلہ کر سکیں۔