اور ’کاکروچ‘ اکٹھے ہوگئے!

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے آن لائن تحریک نے اب باقاعدہ طلبہ احتجاج کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر نریندر مودی کی حکومت نے اب بھی  نوجوانوں کی باتوں پر غور نہ کیا اور بنیادی سوالات کے جوابات فراہم کرنے سے گریز کیا گیا تو  انتخابات میں شاندار کامیابیوں کے باوجود ان کی حکومت کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا آغاز اس سال مئی میں چیف جسٹس  سوریا کانت کے ایک عدالتی ریمارکس  سے ہؤا تھا۔ ایک مقدمے کی کارروائی کے دوران انہوں نے پڑھے لکھے اور سوشل میڈیا  پر متحرک نوجوانوں کو ’کاکروچ اور کیڑے مکوڑے ‘ قرار دیا تھا۔  امریکہ میں مقیم ایک بھارتی نژاد طالب علم  ابھے جیت  ڈپکے نے  اس ریمارکس پر تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا   پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’اگر سب کاکروچ کسی  دن اکٹھے ہوگئے‘۔  اس تبصرے کی مقبولیت کے بعد سوشل میڈیا پر ہی نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔  اگرچہ یہ اعلان چیف جسٹس کے ریمارکس کے جواب میں استہزایہ انداز  میں کیا گیا تھا لیکن تعلیمی مسائل اور بے روزگاری کے تنگ آئے ہوئے بھارتی نوجوانوں میں اس نعرے اور پھر پارٹی نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔  دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نوجوان اس بینر تلے جمع ہونے لگے۔

 اس کے باوجود یہی قیاس  کیا جارہا تھا کہ یہ سوشل میڈیا پر چلنے والا ٹرینڈ ہے لیکن اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور نہ ہی اپنے گھروں  سے سوشل میڈیا پر تحریک چلانے والے نوجوان کبھی میدان میں نکل کر حکومت یا بی جے پی کے لیے کوئی حقیقی چیلنج بن سکیں گے۔ تاہم گزشتہ چند روز میں رونما ہونے والے واقعات نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے۔ میڈیکل  کالج  میں داخلے کے لیے ہونے ولا پرچہ لیک ہونے کے بعد اس امتحان کو منسوخ کرنا پڑا اور طالب علموں سے از سر نو امتحان میں بیٹھنے کے لیے کہا گیا۔ اس پر ’کاکروچ  جنتا پارٹی ‘ کے بینر تلے نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں ہزاروں طالب علموں نے دھرنا اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔  پہلے  تعلیمی نظام میں کمزوریوں اور سرکاری ذمہ داریوں میں کوتاہی پر آواز اٹھائی گئی لیکن جلد ہی اس مطالبے نے وزیر تعلیم  دھرمیندرا پردھان   کے استعفے کا تقاضا شروع کردیا۔    اپنے مطالبوں کی تکمیل کے لیے طالب علموں نے بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کیا۔  تاہم اس احتجاج میں شمالی انڈیا کے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگ چک کی شمولیت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔  وہ نہ صرف جنتر منتر کے احتجاجی کیمپ میں شریک ہوئے بلکہ بھوک  ہڑتال کرنے والے پہلے لوگوں میں شامل تھے۔ ان کے ساتھ مزید چھے طالب علموں نے  بھوک  ہڑتال کا آغاز کیا۔

تین  ہفتے بعد سونم وانگ چک کی حالت خراب  ہونے کے بعد انہیں  زبردستی ہسپتال لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر ان کا علاج کیا جارہا ہے۔ تاہم طالب علم لیڈروں کو شبہ ہے کہ انہیں بالواسطہ طور سے حراست میں لیا  گیاہے۔ اور طالب علموں کے جائز مطالبات کی  حمایت کی وجہ سے ان کے کیرئر پر اثر  پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے اب اس تحریک کے تین مطالبات میں سر فہرست وانگ چنگ کی ہسپتال سے واپسی  کا ہے۔’ کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا  مطالبہ ہے انہیں ہسپتال سے  ڈسچارج کیا جائے اور یہ یقین دہانی  کرائی جائے کہ احتجاج  میں شامل ہونے پر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ وزیر تعلیم کے استعفی اور  خود کشی کرنے والے طالب علموں کے ورثا کو مناسب معاضہ دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔  متعدد ممتاز سیاسی و سماجی رہنماؤں کی اپیل پر طالب علم لیڈروں نے 22  دن بعد بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔ تاہم گزشتہ روز اپنے مطالبات پر حکومتی بے حسی اور خاموشی پر  احتجاج کرنے کے لیے  ہزاروں طالب علموں نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کا اقدام کیا۔ پولیس نے مظاہرین کا راستہ روکا اور آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے انہیں پارلیمنٹ جانے نہیں دیا گیا۔

دہلی پولیس  کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پہلے  پتھراؤ کیا گیا  جس کی وجہ سے اس کے 118 اہلکار زخمی ہوئے ۔ تاہم پولیس کی کارروائی میں  70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔  اس جلوس پر پولیس تشدد کے خلاف شدید احتجاج دیکھنے میں آیا ۔ سیاسی لیڈروں اور انسانی  حقوق کی تنظیموں نے اسے حکومت کا شرمناک رویہ قرار دیا۔  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا میں پرامن احتجاج کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور مظاہرین کے خلاف نامناسب طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا ہے‘۔ بیان میں  کہا گیا کہ حکام نے میٹرو سروسز اور موبائل انٹرنیٹ بند کر کے پرامن اجتماع کے حق پر مزید قدغن  اور رکاوٹیں لگائیں۔ کانگریس کے رہنما اور انڈین پارلیمنٹ میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی کا کہنا  تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ انہیں طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے اور طلبہ پر تشدد کا یہ سلسلہ بند کرنا چاہیے۔عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا  کہ ’کل بچوں کے ساتھ جو بربریت کی گئی وہ انتہائی شرمناک ہے‘۔

البتہ پولیس کی جانب سے کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے ایک روز بعد منگل  کے روز ہزاروں  نوجوان ایک بار پھر دہلی میں جمع ہوگئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی اور امتحانی نظام سے متعلق اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھیں گے۔  گزشتہ روز ہونے والی پولیس کارروائی نے اس تحریک کے لیے حمایت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ طالب علموں کے خلاف پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگرس رہنما راہل گاندھی اور ان کہ بہن پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم ہاؤس کے باہر دھرنا دیا اور احتجاج کیا۔ اس احتجاج پر بھی پولیس نے دھاوا بول دیا اور راہل و پرینکا کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ  ذبردستی اٹھاکر گرفتار کرلیا گیا جنہیں رات گئے رہا کیا گیا۔ نوجوانوں کے احتجاج میں شدت اور دیگر سیاسی لیڈروں کی حمایت کی ایک وجہ پولیس تشدد اور طالب علموں کو درپیش مسائل ہیں تو مودی حکومت کے گھمنڈ اور لاتعلقی کے رویہ نے بھی جلتی پر آگ کا کام کیا ہے۔

احتجاج شروع ہونے کے تین ہفتے اور پولیس تشدد کے واقعہ کے  تین روز بعد  نریندر مودی نے ایک بیان میں میڈیکل  پرچے لیک ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کو سزا دلانے کا  عندیہ دیا۔  اس کے ساتھ ہی وزیر تعلیم  دھرمیندر پردھان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے تحفظات دور کرنے اور امتحانی نظام میں اصلاحات لانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔  ایکس پر ایک پیغام میں دھرمیندر پردھان نے کہا ہماری حکومت طلبہ کے مطالبات اور انہیں تحفظ دینے کے سوال پر ہر ممکن اقدام کا ارادہ رکھتی ہے۔ راہل گاندھی اور کانگرس کے احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت کے طلبہ اس سے بہتر سلوک کے مستحق ہیں‘۔

تاہم لگتا ہے کہ  نریندر مودی اور ان کے وزیر تعلیم کے یہ بیان محض سیاسی دباؤ کم کرنے کی ناقص کوشش ہے اور انہیں ابھی تک  ملک کے نوجوانوں میں پائی جانے والی شدید بے چینی اور پریشانی کا احساس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مزاح میں ’کاکروچ‘ کا لفظ استعمال کرنے والی تحریک اس وقت بھارت میں تعلیمی مسائل کے علاوہ بیروزگاری اور  سماجی بے چینی کی وسیع اور طاقت ور علامت بن چکی ہے۔  ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ  نریندر مودی کو اپنی وزارت عظمی کے 12 برس میں پہلی بار حقیقی عوامی احتجاج کا سامنا ہورہا ہے ۔ اس احتجاج میں  اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

  ازراہ تفنن کہا  گیا ایک فقرہ اب بھارتی سیاست کی ایک  ایسی حقیقت بن چکا ہے  جو نریندر مودی کی طاقت ور کرسی کوہلا سکتی ہے۔ لگتا ہے ملک کے سب’ کاکروچ ‘ اب  جمع ہورہے ہیں۔