پاکستان سمندری اثاثوں کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے: دفتر خارجہ

  • جمعرات 23 / جولائی / 2026

پاکستان نے یمن کے حوثی گروہ کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع میں تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کی تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور سعودی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تجارتی جہاز رانی کے خلاف بحری ناکہ بندی کی دھمکیاں علاقائی سلامتی، جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔‘

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گزشتہ ہفتے سعودی عرب پر حملوں کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے اقدامات علاقائی امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں ان کے یہ خدشات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلح حملوں کے تناظر میں پاکستان تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ علاقائی تنازعات کا واحد پائیدار حل بات چیت اور سفارت کاری میں ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس مانیٹرنگ رپورٹ پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے قانون سازی اور 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد میں پیش رفت کو تسلیم کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کا خیال ہے کہ رپورٹ کا مجموعی تاثر متوازن نہیں اور اس میں اصلاحاتی اقدامات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔