سعودی عرب ہماری ریڈ لائن؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 23 / جولائی / 2026
آج اگر یہ کہا جائے کہ ایران اور امریکا دونوں میں سے کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا، تو فوری سوال آئے گا “پھر یہ جنگ ہو کیوں رہی ہے؟”۔ اس کے جواب میں ہر دو اطراف سے الزامات کی بوچھاڑ سننے کو ملے گی۔
دونوں ہی چلائیں گے کہ دوسرے فریق نے بڑی زیادتیاں کی ہیں، یا یہ کہ وہ مجرمانہ ذہنیت کے ساتھ دوسرے کو سخت نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ ہمارے ایرانی بھائی کہیں گے کہ امریکا دنیا کا بدمعاش ہے، اس نے جس طرح پہلے بہت سے ممالک پر حملے کیے ہیں، اسی طرح اب ہمارے اوپر حملہ آور ہے۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ اٹھائیس فروری کو اچانک حملہ کرتے ہوئے ہماری اعلیٰ ترین سیاسی و عسکری قیادت کو اڑا دے؟ بالخصوص ہمارے سپریم لیڈر سید علی خامنائی کا کنبے سمیت مارے جانا، بھلا ہمیں کیسے ہضم ہو سکتا ہے؟ اب ہم حق بجانب ہیں کہ خون کا بدلہ خون سے لیا جائے۔ انہوں نے جس طرح ہمارے لیڈر کو مارا ہے، اب ہمیں بھی یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو کو بھی اسی طرح قتل کروائیں بلکہ ان کے جتنے حواری ہیں، ان کے سروں کی قیمت مقرر کرتے ہوئے انہیں بھی جہنم واصل کریں۔ اب انتقام ہمارا قومی نعرہ ہے۔
دوسری طرف امریکیوں کا موقف ہے کہ ایران کی اس مقدس مذہبی قیادت ولایت فقیہ نے پورے مڈل ایسٹ کا امن و سکون پچھلی چار دہائیوں سے تہہ و بالا کر رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی جنگجو ٹیررسٹ پراکسیاں نہ صرف اسرائیل کے اردگرد بلکہ اپنی ہمسایہ خلیجی و دیگر عرب ریاستوں میں بھی پوری طرح بھڑکا رکھی ہیں۔ سیریا میں بدترین ڈکٹیٹر بشار الاسد نے مینارٹی فرقے کا ہونے کے باوجود دہائیوں تک میجارٹی سنی آبادی پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے اور بے گناہوں کا قتل عام کیا تو اس میں ایرانی مذہبی قیادت ولایت فقیہ پوری طرح پشت پناہ ہی شامل حال تھی۔ یہی خونی گیم دہائیوں تک عراق میں کھیلی گئی، لبنان میں ایرانی پراکسی حزب اللہ نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے جو لبنانی حکومت کو خاطر میں نہیں لاتی۔ یوں ہمہ وقت نہ صرف اسرائیلیوں پر حملہ آور رہتی ہے بلکہ اس نے خود لبنانی عوام کا جینا حرام کر رکھاہے۔ اب حالت یہ ہے کہ منتخب لبنانی حکومت اپنے ان ٹیررسٹوں کے خلاف اسرائیل کے ساتھ معاہدے کرنے تک پہنچ چکی ہے۔ ایرانی ولایت فقیہ کی طاقت سے اسرائیل ہی نہیں اس کے ہمسایہ خلیجی عرب ممالک کی قیادتیں بھی اندر سے سخت خوف زدہ ہیں کہ نہ جانے کب اس کے اسلامی پاسداران ان پر دھاوا بول دیں۔ 28 فروری کو جو سخت اقدام اٹھایا گیا اس کی جڑیں 7 اکتوبر کی اس خوفناک دہشت گردی میں پیوست ہیں جب اسرائیل کے اندر گھس کر ایرانی پراکسی حماس نے نہتے بارہ سو شہریوں کی تکہ بوٹی کر ڈالی اور ڈھائی سو بے گناہ، عورتوں بچوں سمیت یرغمالی بنا کر لے گئے۔
اس سب کچھ کے باوجود پاکستان اور قطر کے تعاون سے امریکا و ایران کے درمیان امن کا ایم او یو سائن کیا گیا جس کی شق نمبر پانچ میں یہ طے پایا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جائے گا اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ایران کوئی فیس یا محصول عائد نہیں کرے گا اور نہ گزرگاہوں میں کوئی رکاوٹیں ڈالے گا۔ اسلامی پاسداران کو کیا حق پہنچتا تھا کہ انہوں نے ریاست عمان کے ساحلی خطے سے گزرتے سعودی و قطری جہازوں پر میزائل داغ دیے کہ ہماری اجازت کے بغیر تم نے وہاں سے گزرنے کی جسارت کیسے کی؟ اسلامی پاسداران کے اس حملے کا آخر کیا جواز تھا؟ بجائے شرمندگی و معذرت کے الٹی ڈھٹائی و سینہ زوری سے وہ بضد ہیں کہ ہم نے سٹریٹ آف ہرمز کو عام تجارتی جہازوں کے لیے نہیں کھلنے دینا بلکہ اس سے مزید ایک قدم آگے بڑھ کر اسلامی پاسداران نے یمن میں اپنی پراکسی حوثی باغیوں کو یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگ سعودی عرب کا ناطقہ بند کرنے کے لیے باب المندب کو بھی بند کر دیں تاکہ یورپ کو سعودی تیل کی سپلائی نہ ہو سکے۔
سٹریٹ آف ہرمز کی بندش سے جو پرابلم ایشیائی ممالک کے لیے بنی ہوئی ہے، اب ویسی ہی صورتِ حال کا سامنا یورپی ممالک کو بھی ہوگا۔ اس سے کنگڈم آف سعودی عربیہ کے لیے جو مسائل ومشکلات کھڑی ہو جائیں گی، وہ واضح ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر ایران کے زیر اثر یمنی حوثیوں نے سعودی عرب کو یہ دھمکی دی ہے کہ ہم آپ کی آئل تنصیبات کو اڑا دیں گے۔ یہ ہیں وہ حالات جن میں حکومت پاکستان کو بولنا پڑا ہے۔ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ عقیدت یا دوستی کا دیرینہ تعلق اپنی جگہ، پوری دنیا کو معلوم ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا یہ معاہدہ ہو چکا ہے کہ مملکت سعودیہ پر کوئی بھی حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس پس منظر میں پاکستانی قیادت نے ایران کو یہ واضح پیغام بھیجا ہے کہ “سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا اور یہ ہماری ریڈ لائن ہے”۔ اسی کی مطابقت میں پاکستان نے اپنے لڑاکا طیاروں کا اسکواڈرن اور ہزاروں فوجی سعودی عرب بھیج دیے ہیں۔ جن کی تعیناتی یمنی سرحد کے قریب کی جا چکی ہے۔ زمینی و فضائی ہی نہیں، بحری ناکہ بندی چھڑوانے کے لیے پاکستانی فورسز امریکی و سعودی فورسز کے ساتھ مل کر حوثی باغیوں پر کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
لہٰذا ایرانی پاسداران انقلاب کو صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے معاملات کو اس حد تک نہیں بگاڑنا چاہیے جس میں پاکستان اور ایران آمنے سامنے کھڑے ہو جائیں۔ اسلامی پاسداران کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ سٹریٹ آف ہرمز اور باب المندب کو بند کرتے ہوئے وہ عالمی معیشت کو جس طرح تہہ و بالا کرنے جا رہے ہیں، اس سے پوری مشرقی و مغربی دنیا میں ایران کے لیے ناپسندیدگی مزید بڑھ جائے گی۔ ایرانی پاسداران کسی طرح بھی اتنی مخالفت کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔ خود ایران کے اندر ایران کی منتخب سیاسی قیادت ان غیرذمہ دارانہ کارروائیوں سے سخت نالاں و پریشان ہے، جس سے وہ اپنے ملک کو نکالنا چاہتے ہیں۔ اس سے ایرانی سیاسی و عسکری قیادت میں دراڑ سب کو دکھائی دے رہی ہے، مگر جنونیت کا بخار و ابال بہت خطرناک ہوتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے جنازے میں بلا شبہ ہمدردی کی لہر کے زیر اثر لاکھوں لوگ شریک ہوئے، مگر وہ سبھی “مرگ مرگ” کی اپروچ کے حمایتی ہرگز نہ تھے۔ وہاں ایرانی صدر مسعودپزشکیان کے خلاف غداری کے جو نعرے لگائے گئے، بلکہ فارن منسٹر سید عباس عراقچی پر تو روڑے اور پتھر تک پھینکے گئے۔
ایرانی شدت پسند طبقے یا اسلامی پاسداران کا یہ طرز عمل ہرگز قابل ستائش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس تباہی و بربادی کی قیمت بالآخر مظلوم ایرانی عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔