لندن سے فرینکفرٹ اور ہائڈل برگ تک۔ایک علمی و ادبی سفر

صبح کے پانچ بھی نہیں بجے تھے کہ لندن کی فضا میں ایک خاص سی خاموشی اور تازگی محسوس ہو رہی تھی۔ موسم خوشگوار تھا، سڑکوں پر معمول کی چہل پہل ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، لیکن ہیتھرو ایئرپورٹ کی طرف جانے والی شاہراہیں زندگی کی رفتار کا پتہ دے رہی تھیں۔ سفر ہمیشہ ایک نئی اُمید، نئی ملاقات اور نئے تجربات کا نام ہوتا ہے۔

 اس بار بھی دل میں یہی احساس موجزن تھا کہ یہ سفر صرف ایک ملک سے دوسرے ملک تک جانے کا نہیں بلکہ ادب، تہذیب اور محبت کے ایک نئے جہان سے ملاقات کا سفر ہے۔صبح چھ بجے لفتھانسا کی پرواز نے لندن کے معروف ہیتھرو ایئرپورٹ سے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے لیے اڑان بھری۔ ہیتھرو ہمیشہ کی طرح دنیا بھر کے رنگوں، زبانوں اور ثقافتوں کا حسین سنگم دکھائی دے رہا تھا۔ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسافر، مختلف زبانوں میں گفتگو کرتے لوگ، روانگی اور آمد کی مسلسل گہماگہمی، جدید سہولیات اور بہترین انتظامات اس عالمی ہوائی اڈے کو واقعی دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹس میں ممتاز بناتے ہیں۔طیارہ بادلوں کو چیرتا ہوا یورپ کے نیلگوں آسمان میں محوِ پرواز تھا۔ لگ بھگ ایک گھنٹہ بیس منٹ کے بعد جرمنی کا خوبصورت شہر فرینکفرٹ اپنی صاف ستھری سڑکوں، بلند و بالا عمارتوں اور منظم شہری زندگی کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھا۔ امیگریشن اور دیگر رسمی کارروائیاں نہایت خوش اسلوبی سے مکمل ہوئیں اور جلد ہی ہم اپنے میزبانوں کی محبتوں کے حصار میں تھے۔ہوٹل پہنچ کر کچھ دیر آرام کیا، سفر کی تھکن دور کی اور دیر دوپہرکی ادبی تقریب کے لیے خود کو تیار کیا۔ دل میں ایک خوشگوار بے چینی تھی، کیونکہ یہ صرف ایک مشاعرہ نہیں بلکہ یورپ میں اردو زبان کی محبت اور بقا کا ایک خوبصورت منظر دیکھنے کا موقع تھا۔

 18جولائی 2026 کی سہ پہر تین بجے جب میں فرینکفرٹ کے روننر برگ سال باؤہال پہنچا تو یوں محسوس ہوا جیسے جرمنی کی سرزمین پر اردو کا ایک چھوٹا سا عالمی گاؤں آباد ہو گیا ہو۔ استقبالیہ پر مختلف ملکوں سے آئے ہوئے شعراء، ادباء اور اردو کے شیدائی ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے۔ ہر چہرے پر اپنائیت تھی اور ہر گفتگو میں اردو زبان سے محبت جھلک رہی تھی۔مشاعرے کے مقام پر پہنچے تو محسوس ہوا کہ اردو زبان سرحدوں کی محتاج نہیں۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں اربابِ ادب انٹرنیشنل اور ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک نہایت شاندار عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس یادگار ادبی محفل کی صدارت معروف شاعر سید اقبال حیدر نے کی جبکہ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں نیدرلینڈ سے محمد حسن کی شب و روز محنت نمایاں تھی۔تقریب میں جرمنی سمیت یورپ کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے شعرائے کرام، ادباء اور اردو زبان کے شیدائی بڑی تعداد میں شریک تھے۔

پاکستان کے سفارت خانے سے پریس اتاشی ڈاکٹر سہیل آفتاب، فرسٹ سیکریٹری علی شاہد اور قائم مقام قونصل جنرل و ہیڈ آف چانسلری فہد الرحمن نے اپنی فیملی کے ساتھ خصوصی شرکت کرکے تقریب کی وقعت میں اضافہ کیا۔مشاعرے کی ایک خوبصورت خصوصیت یہ تھی کہ یہاں صرف شعر نہیں پڑھے جا رہے تھے بلکہ تہذیب، محبت، رواداری اور زبان کی بقا کا جشن منایا جا رہا تھا۔ یورپ کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے شعرائنے اپنے اپنے رنگ میں کلام پیش کیا۔ کہیں محبت کی خوشبو تھی، کہیں ہجرت کا دکھ، کہیں وطن کی یاد اور کہیں انسان دوستی کا پیغام۔ سامعین نے ہر شاعر کو بھرپور داد دی اور محفل دیر شام گئے تک علم و ادب کی روشنی سے منور رہی۔اس تقریب میں شرکت کرتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا رہا کہ بیرونِ وطن رہنے والے اہلِ اردو کس اخلاص سے اپنی زبان، ادب اور ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود ایسی معیاری ادبی سرگرمیوں کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ شناخت اور تہذیب کا استعارہ بھی ہے۔

اگلے روز، 19 جولائی 2026 کو ہمارا رخ جرمنی کے تاریخی اور علمی شہر ہائڈل برگ کی طرف تھا، جہاں دریائے نیکر کے خوبصورت کنارے واقع’اقبال اُوفر‘ یعنی اقبال کے نام سے منسوب سڑک اس عظیم شاعرِ مشرق کو جرمنی کی جانب سے پیش کیے جانے والے احترام اور اعتراف کی روشن علامت ہے۔ جس کے قریب ایک منفرد علمی و ادبی نشست منعقد ہوئی۔یہ نام صرف ایک سڑک کا نہیں بلکہ اقبال کے آفاقی پیغام، ان کی فلسفیانہ بصیرت اور مشرق و مغرب کے درمیان فکری مکالمے کی ایک زندہ یادگار ہے، جو ہر آنے والے کو یہ احساس دلاتی ہے کہ عظیم افکار سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث بن جاتے ہیں۔ ”ییادِ گوئٹے و اقبال“ تقریب گوئٹے اور علامہ محمد اقبال کے فکری رشتے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس علمی نشست کی صدارت سفیر پاکستان۔ جرمنی، ثقلین سیدہ نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر ہنس ہرڈر (ہائیڈل برگ یونیورسٹی) نے شرکت کی۔ اس موقع پر مجھے ’’مشرق و مغرب کے دو عظیم فلاسفہ اور اردو ادب میں دونوں کا فکری رشتہ“کے موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔مقالے میں میں نے واضح کیا کہ گوئٹے اور اقبال دو مختلف تہذیبوں کے نمائندہ مفکر ہونے کے باوجود انسان دوستی، روحانی ارتقا، آزادیِ فکر اور تہذیبوں کے باہمی مکالمے کے قائل تھے۔ حاضرین نے نہایت انہماک سے مقالہ سنا اور بعد ازاں ہونے والی علمی گفتگو نے اس نشست کو مزید بامعنی بنا دیا۔

دریائے نیکر کے پرسکون کنارے، سرسبز پہاڑیاں، تاریخی ہائڈل برگ کا دلکش ماحول اور علم و ادب سے محبت کرنے والوں کی موجودگی نے اس تقریب کو ناقابلِ فراموش بنا دیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گوئٹے اور اقبال کی فکری روایت آج بھی اسی سرزمین پر زندہ ہے، جہاں کبھی ان کے خیالات نے تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی بنیاد رکھی تھی۔یہ دو روزہ سفر میرے لیے محض دو ادبی تقریبات میں شرکت نہیں تھا بلکہ یہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت تھا کہ اردو زبان آج بھی سرحدوں سے ماورا ہو کر دنیا بھر میں اہلِ ذوق کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہے۔لندن واپسی کے سفر میں ذہن میں یہی خیال گردش کرتا رہا کہ زندگی کے بعض سفر محض میلوں کی مسافت نہیں ہوتے بلکہ یادوں، رشتوں، محبتوں اور فکری سرمائے کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔ فرینکفرٹ اور ہائڈل برگ کا یہ علمی و ادبی سفر بھی انہی یادگار سفروں میں شامل ہو گیا، جس کی خوشبو مدتوں دل و دماغ کو معطر کرتی رہے گی۔

فرینکفرٹ میں منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ اور ہائڈل برگ میں گوئٹے اور علامہ اقبال کے فکری و ادبی رشتے پر منعقدہ باوقار تقریب اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ جب مخلص، صاحبِ فکر اور باصلاحیت افراد ادب کی خدمت کا عزم کر لیں تو زبان و ثقافت کی سرحدیں خود بخود سمٹ جاتی ہیں۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے سید اقبال حیدر اورنیدر لینڈ کی راجدھانی ایمسٹرڈیم کے محمد حسن نے جس حسنِ انتظام، اخلاص، بصیرت اور محبت کے ساتھ ان دونوں تاریخی تقریبات کا انعقاد کیا، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ اردو زبان و ادب کی عالمی ترویج کی ایک درخشاں مثال بھی ہے۔ ان کی انتھک محنت نے یورپ کی سرزمین پر اردو کی خوشبو کو مزید معطر کیا، اہلِ قلم کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا اور نئی نسل کو یہ پیغام دیا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب، محبت اور فکری وراثت کا نام ہے۔ ایسے مخلص ادبی کارکن یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں، جن کی کاوشیں اردو ادب کے عالمی فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس پورے سفر نے ایک مرتبہ پھر یقین دلایا کہ ادب فاصلے کم کرتا ہے، دلوں کو جوڑتا ہے اور مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے دروازے کھولتا ہے۔ فرینکفرٹ کا عالمی مشاعرہ اور ہائڈل برگ کی علمی نشست اس حقیقت کا روشن ثبوت تھے کہ اردو زبان آج بھی دنیا کے مختلف گوشوں میں محبت، علم اور تہذیب کا چراغ روشن کیے ہوئے ہے۔لندن سے میری شرکت بھی اس عالمی ادبی اجتماع کا حصہ تھی اور یہ محفل صرف شعروادب کی نشست نہیں تھی بلکہ اردو زبان کی بین الاقوامی شناخت، باہمی محبت، ثقافتی ہم آہنگی اور ادبی یکجہتی کا ایک خوبصورت استعارہ تھی۔