قبر کھودی گئی میری تو پتھر کی زمیں نکلی

ہم ملتان والوں کا مقدر ہی خراب ہے۔ یقین کریں میں یہ بات کسی مبالغے کے بغیر کہہ رہا ہوں۔ اگر جنوبی پنجاب پر مشتمل علیحدہ صوبے کی بات ہو تو ہر حکمران جماعت کان لپیٹ لیتی ہے۔ جی ہاں! ہر برسراقتدار پارٹی اپنے کان لپیٹ لیتی ہے جبکہ اس مسئلے پر تب کی ہر اپوزیشن بڑا شور مچاتی ہے کہ ہم اگر برسرِ اقتدار آ گئے تو جنوبی پنجاب پر مشتمل ایک علیحدہ صوبہ بنوائیں گے۔

 لیکن جب وہی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ اس کی اقتدار کی حدود حسن ابدال کے آخری سرے پر واقع قصبے جھاری کس سے لے کر صادق آباد کے آخر میں واقع قصبے کوٹ سبزل تک ہے۔ لگ بھگ تیرہ کروڑ کی آبادی پر مشتمل یہ صوبہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں گیارہویں نمبر پر ہے۔ دنیا کے ممالک کی تعداد پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا  تاہم اقوام متحدہ کے ارکان 193ممالک اور پچاس کے قریب دیگر خود مختار، نیم خودمختار اور مختلف ممالک کے زیر انتظام ممالک کو سامنے رکھیں تو صوبہ پنجاب دنیا کے 233ممالک سے زیادہ آبادی کا حامل ہے۔ دنیا بھر میں بھارتی صوبہ اُترپردیش اور مہاراشٹر ہمارے صوبہ پنجاب سے زیادہ آبادی والے صوبے ہیں۔ اب اگر اس صوبے کو تقسیم کر دیا گیا تو اس پر حکمرانی کرنے والوں کا دائرہ اقتدار کم ہو جائے گا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں پٹواری بھی اپنا حلقۂ پٹوار کم ہونے پر مزاحمت کرتا ہے یہ تو پھر پورے صوبے کا معاملہ ہے جس سے صاحبانِ اقتدار کا سارا موج میلہ اور کروفر جڑا ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ملتان سے تعلق رکھنے والے سید یوسف رضا گیلانی جب اس ملک کے وزیراعظم تھے تو انہوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کا سارا عرصہ مزے لیتے ہوئے گزارا۔ جب وہ وزیراعظم تھے تو انہیں اپنے پورے دورِ اقتدار میں صوبہ جنوبی پنجاب بنانا یاد نہ آیا۔  البتہ جب زرداری صاحب کے بارے سوئٹزرلینڈ کی سرکار کو خط نہ لکھنے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے ان کے خلاف کارروائی شروع کی تو اس کے متوقع نتائج کو بھانپتے ہوئے انہیں محسوس ہوا کہ اب وہ گھر جانے والے ہیں اور معاملہ  ’جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا‘ والا ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنی رخصتی کے قریب صوبہ جنوبی پنجاب کا شور مچانا شروع کر دیا۔ اپنے انہی دمِ رخصتی والے بیانات کو بنیاد بنا کر اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ ان کو صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کی کوششوں کی پاداش میں وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کیا گیا ہے۔حالانکہ اس میں رتی برابر بھی سچائی یا حقیقت نہ تھی۔ ان کو جنوبی پنجاب کا کارڈ اس وقت یاد آیا جب ان کے اقتدار سے رخصتی کے دن گنے جا چکے تھے۔

صوبہ جنوبی پنجاب کے سلسلے میں وسیب کے لوگوں کو دوسرا لالی پاپ عمران خان حکومت نے دیا۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کے صوبے کے مطالبے کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنے اور اصل مسئلے کو سرد خانے میں ڈالنے کیلئے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا شوشہ چھوڑتے ہوئے ایک لولا لنگڑا سب سیکرٹریٹ بنا دیا۔ لاہور سے ادھر آنے والے افسروں کی موج لگ گئی۔ انہیں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ الاؤنس کے نام پر بنیادی تنخواہ کا 150 فیصد اضافی کے علاوہ دیگر مختلف الاؤنس اور سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری ٹائپ کے لوگ یہاں پر سیکرٹری بنا کر بھیجے گئے۔ تیرہ کے لگ بھگ محکمے ادھر شفٹ کیے گئے۔ ان میں سے کچھ دفاتر بہاولپور میں اور کچھ ملتان میں قائم کیے گئے۔ جن محکموں کے دفاتر بہاولپور میں تھے ، ان محکموں سے متعلقہ کاموں والے ملتان کے لوگ بہاولپور جانے لگے اور جن محکموں کے ملتان میں دفتر تھے ان کیلئے بہاولپور سے لوگ ملتان آنا شروع ہو گئے۔ نہ صرف یہ کہ سفر کی چکر بازی ختم نہ ہوئی بلکہ ایک اور مسئلہ یہ بن گیا کہ ہر کام کی حتمی منظوری کا سارا اختیار لاہور میں بیٹھے ہوئے بیوروکریٹس نے اپنے پاس رکھ لیا۔ پہلے جو کام ملتان کے دفتر سے براہِ راست لاہور جاتا تھا اب اس کا روٹ یہ بن گیا کہ متعلقہ دفتر سے فائل سب سیکرٹریٹ کے ملتان یا بہاولپور والے دفتر میں گھوم پھر کر وہاں سے لاہور جانے لگی۔ پہلے بندہ صرف لاہور جاکر خوار ہوتا تھا،  اب پہلے ملتان یا بہاولپور میں ذلیل ہونے کے بعد لاہور جا کر خوار ہونے لگا۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سیکرٹریٹ کی ملتان والی بلڈنگ بن چکی ہے لیکن بہت سے افسر لاہور کی اداسی میں اور باقی ماندہ جنوبی پنجاب ری ایلوکیشن الاؤنس ختم ہونے کے بعد واپس لاہور چلے گئے ہیں اور سیکرٹریٹ میں اب عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ اسی لیے تو میں کہہ رہا ہوں کہ ملتان والوں کا تو مقدر ہی خراب ہے۔ پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب سے واضح اکثریت لی لیکن صورتحال یہ ہوئی کہ جب پنجاب کی حکومت بنانے کیلئے گنتی کی گئی تو پتا چلا کہ بالائی اور وسطیٰ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو معمولی سی برتری حاصل ہے جبکہ جنوبی پنجاب نے پی ٹی آئی کو اصل واضح اکثریت دی جس سے صوبہ پنجاب کی مجموعی صورتحال پی ٹی آئی کے حق میں پلٹ گئی۔ اب اگر پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کو صوبہ بناتی تو بزدار صاحب کو لاہور سے اٹھ کے ملتان یا بہاولپور میں بیٹھنا پڑتا جبکہ وسطی اور بالائی پنجاب پر مشتمل صوبے کا اقتدار حمزہ شریف کے پاس چلا جاتا جو پی ٹی آئی کو کسی صورت بھی قبول نہ تھا۔ مسلم لیگ (ن) تو ویسے ہی کسی صورت میں پنجاب کی انتظامی تقسیم نہیں چاہتی۔ وہ اس لیے کہ ان کا سارا ووٹ بینک اور اس کے نتیجے میں اقتدار صرف صوبہ پنجاب پر منحصر ہے۔

قارئین! یہ تو تھی جنوبی پنجاب کی سیاسی بدقسمتی کی صورتحال لیکن میرے ساتھ معاملہ تھوڑا ذاتی ہے۔ میں گزشتہ ماہ سے ادھر امریکہ آیا ہوا ہوں۔ جب میں ملتان سے ادھر امریکہ روانہ ہونے لگا تو مجھے پتا تھا کہ چار چھ دن کے بعد انور رٹول آم آنا شروع ہو جائیں گے تاہم میں نے صرف یہ سوچ کر کہ چلیں انور رٹول سے محرومی اور گرمی سے بچت کا اگر حساب کتاب کیا جائے تو باوجود اس کے کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے لیکن اس گھاٹے میں بھی کم از کم یہ تو ہو گا کہ ملتان کی بے پناہ گرمی سے تھوڑی بچت ہو جائے۔ لیکن میرے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ادھر امریکہ میں بھی ان دنوں ملتان جیسا ہی حال تھا۔ جس روز میں بالٹی مور پہنچا تو اس روز وہاں درجہ حرارت 38ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ ملتان کے موسم کا حال معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہاں بھی درجہ حرارت 38ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ یعنی انور رٹول بھی گئے اور گرمی سے بھی بچت نہ ہوئی۔ ایک پنجابی محاور ہ ہے کہ  ’تیلی وئی کیتا، تے رُکھا وی کھادا‘ یعنی تیلی سے شادی بھی کی لیکن اس کے باوجود روکھی روٹی نصیب ہوئی۔ اب ادھر گرمی تو ملتان جیسی ہی ہے لیکن انور رٹول نہیں ہیں۔ جب واپس آؤں گا تو پندرہ بیس دن کیلئے آنے والا یہ لاجواب آم ختم ہو چکا ہو گا۔ اب بھلا ہم ملتان والوں کی قسمت اس سے زیادہ اور کیا خراب ہو سکتی ہے؟

گرمی کی شدت تو رہی اپنی جگہ، پرسوں میں بچوں کے پاس ٹولیڈو آیا اور گزشتہ روز ٹولیڈو کا ایئر کوالٹی انڈیکس 529تک جا پہنچا  جو شہر کی تاریخ کی بدترین فضائی آلودگی تھی۔ کل ملتان کا ایئر کوالٹی انڈیکس 130تھا جبکہ ٹولیڈو میں 560 تھا۔ یعنی گزشتہ روز فضائی آلودگی کے اعتبار سے ٹولیڈو کے حالات ملتان کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ خراب تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس بار میں ملتان کی گرمی تو خیر سے اپنے ساتھ امریکہ لایا ہی ہوں، اوپر سے فضائی آلودگی نے بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔

سیاست ہو، صوبہ ہو، موسم ہو یا فضائی آلودگی، کچھ بھی تو ٹھیک نہیں۔ شاید ہم ملتان والوں کی قسمت ہی خراب ہے۔ بچپن میں ایک شعر سنتے تھے :
مقدر میں جو سختی تھی وہ مر کر بھی نہیں نکلی
قبر کھودی گئی میری تو پتھر کی زمیں نکلی
ہم ملتان والوں کا حال بھی ایسا ہی سمجھیں۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)