اٹھو، اب ماٹی سے اٹھو، جاگو میرے لال
- تحریر وجاہت مسعود
- جمعرات 23 / جولائی / 2026
اردن کے شمال مشرق میں دارالحکومت عمان سے کوئی سو کلومیٹر دور واقع بارہ ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے موفق السلطی کے نخلستانی منطقے میں سترہ جولائی کو ایرانی میزائلوں کے حملے میں دو امریکی جوان مارے گئے، ایک جوان لاپتہ ہوا۔
بعد ازاں دھماکے کے مقام سے ایک انسانی جسم کے اجزا دریافت ہوئے، خیال ہے کہ یہ ٹکڑے لاپتہ امریکی فوجی کے جسد خاکی کا حصہ تھے۔ اس واقعے کے دو روز بعد 19 جولائی 2026 کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’کوئی فوجی کارروائی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتی۔ جنگ بدیہی طور پر ایک خطرناک سرگرمی ہے‘۔
اس سے 19ویں صدی کا امریکی مصنف Stephen Crane یاد آگیا جسے جدید ادب میں پہلا جنگ مخالف مصنف سمجھا جاتا ہے۔ سٹیفن کرین 1871میں پیدا ہوا۔ امریکی خانہ جنگی سے سات برس بعد پیدا ہونے والے سٹیفن کرین نے پچیس برس کی عمر میں The Red Badge of Courageکے عنوان سے ایک مختصر ناول لکھا تھا ۔ انتظار حسین نے یہ ناول 1960 میں ’سرخ تمغہ ‘ کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ سٹیفن کرین نے مئی 1863 میں چانسلر ویل (ورجینیا) کے مقام پر ہونے والی لڑائی کے ایک رضاکار سپاہی ہنری فلیمنگ کو مرکزی کردار بنا کر جنگ کی ہولناکی بیان کی تھی۔
ادب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جنگ کو سجیلے جرنیلوں کی بجائے ایک تھکے ماندے اور داخلی طور پر خوفزدہ سپاہی کی آنکھ سے دیکھا گیا تھا۔ ہنری فلیمنگ لڑائی کے پہلے معرکے میں خوفزدہ ہو کر جنگل میں جا چھپا تھا لیکن اس کی شرمندگی ایک نفسیاتی زخم کی شکل اختیار کر گئی۔ فلیمنگ کا یہ مفروضہ زخم ہی اس کے لیے جنگ کا ’سرخ تمغہ‘ قرار پایا۔ کچھ وقفے کے بعد متحارب فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو ہنری فلیمنگ نے اپنی رجمنٹ کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا اور بے خوفی سے اپنے ساتھیوں کو میدان میں بہادری سے لڑاتا رہا۔ بمشکل ڈیڑھ سو صفحات کا یہ ناول سپاہی میں خوف اور بہادری کی داخلی کشمکش نیز فوجی کمانڈروں کی بے حسی کا حقیقت پسندانہ بیان ہے۔
نیم خواندہ سٹیفن کرین شاعر بھی تھا اور اس کی طنزیہ نظم Do not weep, maiden, for war is kind امریکی ادب میں اہم مقام رکھتی ہے۔ سٹیفن اس نظم میں محبوب لڑکی سے مخاطب ہو کر اس کے عاشق کی موت کا احوال بتاتا ہے اور کبھی جنگ میں اپنا سہاگ کھونے والی عورت کو بتاتا ہے کہ کیسے اس کے باپ کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر خندق میں گرا۔ زخمی سوار نے درد کی شدت سے اپنا سینہ پیٹتے ہوئے آخری ہچکی لی اور مر گیا۔ جنگ محفوظ مقامات پر بیٹھے مارکو روبیو اور فصیح و بلیغ پاسداران انقلاب کی حکایت نہیں۔ جنگ فصلیں اور ماﺅں کی گود اجاڑ دیتی ہے۔ گھر ویران ہو جاتے ہیں۔ آباد شاہرائیں ملبے سے اٹ جاتی ہیں۔ تاریخ کا سفر کئی نسلیں پیچھے چلا جاتا ہے۔ ہر جنگ جہالت، لالچ، مفاد اور انسانی آلام سے بے نیازی کی داستان ہوتی ہے۔
شاید آپ کو 1957میںسٹینلے کیوبرک کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم Paths of Glory یاد ہو۔ کرک ڈوگلس نے اس فلم میں کرنل ڈیکس کا لافانی کردار ادا کیا تھا جو کورٹ مارشل کے کٹہرے میں کھڑے اپنے سپاہیوں کا دفاع کرتے ہوئے بے حس جرنیلوں کی خودغرضی اور ریاکار بہادری کا پردہ چاک کرتا ہے۔ مارکو روبیوکے بیان ہی کو لیجئے۔ آبنائے ہرمز سے دس ہزار کلومیٹر دور واشنگٹن میں کیمروں کی چکاچوند روشنیوں کے سامنے کھڑا مارکو روبیو جنگ کا فلسفہ بیان کر رہا ہے۔ پانچ مہینے پر محیط اس لڑائی میں اب تک امریکا کے 17 فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ایران میں مرنے والوں کی تعداد 4ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے کشتگان کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے۔ مارکوروبیو کو دو فوجی جوانوں کی موت کے حقائق بیان کرنا پڑتے ہیں۔ ایران میں برسراقتدار ٹولہ اپنے ہلاک شدگان کی تعداد بیان کرنے کا مکلف نہیں۔
برطانیہ کا درجنوں تمغوں سے نمائشی مرغ کی طرح سجا لیفٹیننٹ جنرل برائن ہوروکس لیبیا میں تریپولی کے صحرا میں اپنی فوج کی کمانڈ کرتے ہوئے یکم جون1943 کو راستہ کھو بیٹھا تھا۔ اسے خوف تھا کہ وہ اطالوی اور جرمن فوجوں کے گھیرے میں آچکا ہے۔ وسیع و عریض صحرا کی دہشت ناک تنہائی اور بے کسی کی موت کے خوف سے جنرل اپنے اعصاب کھو بیٹھا اور مبینہ طور پر دہشت کے مارے جیپ سے باہر جا گرا۔ جنرل ہوروکس کو میدان جنگ سے بازیاب کرکے برطانیہ واپس بھیجا گیا لیکن اسے چودہ ماہ ہسپتال میں گزارنا پڑے۔ یہ وہی جنرل تھا جس نے گولیوں کی بوچھاڑ میں کھڑے کسی سپاہی کو گولوں کی گھن گرج سے بدحواس ہوتے دیکھا ہوتا تو اسے بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے بید اور ٹھوکروں پر رکھ لیتا۔
انسانی تاریخ میں جنگ بہادری کی من گھڑت حکایات اور تنہائی کی بے نام موت کے بیچ بن لکھی رزمیہ ہے۔ جنگ بھلے مذہب کے نام پر لڑی جائے یا وطن کے نام پر ، ایک المیہ ہے۔ جنگ انسانی تمدن کا آدرش نہیں ، اندھیرے جنگلوں میں واپسی کا سفر ہے۔ مارکوروبیو ایک جواب دہ حکومت کا رہنما ہے لہٰذا اسے ایک ایک فوجی کی موت کا جواز پیش کرنا پڑتا ہے۔ ایشیا، افریقہ ، لاطینی امریکا، سائبیریا اور مشرق وسطیٰ کے صحراﺅں میں جلتے سورج کے نیچے اور میلوں پھیلے برف پوش میدانوں میں بکھری لاشوں پر کوئی کتبہ نصب نہیں ہوتا اور نہ کوئی یہ بتاتا ہے کہ چونڈہ کے محاذ پر شہید ہونے والے سیکنڈ لیفٹیننٹ عابد مجید کی شہادت کن حالات میں واقع ہوئی تھی۔31 اکتوبر 1944کو پیدا ہونے والے عابد مجید کو اپریل 1965میں کمیشن ملا تھا۔ وہ 16ستمبر 1965 کو چونڈہ کے محاذ پر کام آیا ۔ لاہو ر اور ملک بھر میں متعدد شاہرائیں عابد مجید کے نام سے منسوب ہیں لیکن عابد مجید کے کارنامے کسی نصاب کا حصہ نہیں۔
اعزازی تلوار پانے والے عابد مجید کا المیہ یہ تھا کہ وہ جنگ کی افراتفری میں زندہ رہ کر اس منصب تک نہیں پہنچ سکا جہاں کمانڈر کے سینوں پر تمغوں کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی اور اسے میدان جنگ سے دور کسی روشن کمرے میں ریا کار صحافیوں کے سامنے کم عمر سپاہیوں کی موت کے اعداد و شمار بیان کرنا ہوتے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)