آج کا ادب یا لفظوں کی جگالی

آج نہیں تو آنے والے برسوں میں یہ سوال تو پوچھا جائے گا کہ اس عہد کا نظریہ ادب کیا تھا؟ فیض احمد فیض، حبیب جالب، احمد فراز اپنے عہد کا سرنامہ لکھ گئے۔لکھتے رہے جنوں کی حکایت خوں چکاں،جیسی آوازیں اٹھاتے رہے۔

آج کا ادب کس عہد کی نمائندگی کر رہا ہے۔ادیبوں شاعروں کی ترجیحات کیا ہیں؟ شاعروں پر نظر ڈالیں تو ڈھنگ کی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی، بس مشاعروں کے پوسٹر بن کر سوشل میڈیا پر لگ جاتے ہیں، جن پر  انشااللہ حاضری ہو گی‘ لکھ کر شیئر کر دیا جاتا ہے۔او بھئی کیا یہ دربار پر حاضری ہے، جھوٹی واہ واہ کے لئے مشاعروں کے نشے میں مبتلا ہونے والے، کیا آج کے انسان،پاکستان یا اس دھرتی کے دُکھوں اور المیوں کو رقم کر رہے ہیں۔ایک بے آواز عہد کی شاعری میں وہی ہجرو وصال کی کہانی، وہی زلف و رخسار کے قصے اور وہی عشق کی گھسی پٹی داستانیں سنا کر داد حاصل کرنے والے شاعر کیا اس عہد کی تاریخ، دُکھ اور جبر و استحصال کی آواز بن سکتے ہیں۔

اب اگر روزانہ سوشل میڈیا پر قارئین یہ پوسٹیں لگا دیتے ہیں کہ آج کی شاعری بے چہرہ ،بے بہرہ،افسانہ طوطا مینا کی کہانی،ناول بے مقصدیت کا پنڈورا بکس اور تنقید لایعنی اصطلاحات کا گورکھ دھندہ بن چکی ہے تو کیا غلط لکھتے ہیں۔ یوں لگتا ہے یہ سب کچھ کسی خوف کی وجہ سے شعوری طور پر کیا جا رہا ہے۔ وہ بھی عہد تھا جب ایک حبیب جالب ہی پورے نظامِ جب پر بھاری پڑ گیا تھا اور اب یہ بھی عہد ہے، سینکڑوں ہزاروں شاعر ایک ایسی شناخت کے بحران سے دوچار ہیں،جس میں چہرے تو موجود ہوتے ہیں،اُن کی آواز بے معنی ہو جاتی ہے۔

 آپ یونیورسٹیوں میں ہونے والے تنقیدی سیمیناروں کے موضوعات کو دیکھیں، ماضی کی جگالی پر مشتمل ہوں گے۔ آج وہ بڑا نقاد ہے جو نوآبادیاتی نظام کی اُلٹی سیدھی اصطلاحوں کے ساتھ بات کرتا ہے، مابعد الطبیعاتی دنیاں کے اسرار ڈھونڈتا ہے۔ حالانکہ بات تو سامنے کی تلخ حقیقتوں پر ہونی چاہئے۔آخر یہ سماج کرپٹ کیوں ہوا، اس کے تار و پود کیوں بکھیرے،بقائی نظام کا زہر اس میں کیسے سرایت کر گیا۔ انسانی اور بنیادی حقوق کی چادر کیسے سمیٹ دی گئی، پریم چند نے تو اس زمانے میں افسانہ ’کفن‘ لکھ دیا تھا جب ایسے واقعات بھی نہیں ہوتے تھے۔ اب تو ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں اور باپ اپنے بیٹے کی بے کفن لاش لےکر قبرستان پہنچ جاتا ہے، مگر اس کے باوجود آج کی تلخ حقیقتیں خیر کا موضوع تو بنتی ہیں کسی تخلیق کار کے قلم کی زینت نہیں بنتیں۔

ہماری جامعات کے اردو شعبوں کی تحقیق کے موضوعات پر نظر ڈال کے دیکھ لیں۔صاف نظر آئے گا وہ آج کے حالات سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ کسی ایک جگہ بھی آپ کو یہ موضوع نظر نہیں آئے گا کہ کیا آج کا ادب اپنے عہد کا ترجمان ہے؟ کسی کی شخصیت و فن پر، کسی کی کتاب پر کسی کی شاعری میں کلاسیکی، شاعروں کی روایت تلاش کرنے پر یا کسی کے افسانوں میں کرداروں کے مطالعے کو موضوع بنا کر تحقیق کے دریا بہائے جاتے ہیں۔زندگی کتنی بدل گئی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے سارے کس بل نکال دیئے۔ تحقیق میں جگالی ہی کرنی ہے تو اس کےلئے چیٹ جی بہت زبردست خدمات سرانجام دے رہی ہے کیونکہ اس نے تو سب کچھ ہضم کر لیا ہے جو آج تک تحقیق کے نام پر پاکستان میں ہوا ہے۔ موضوعات تو ایسے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے جو چیٹ جی کو بھی حیران کر دیں۔ وہ بھی ششدر رہ جائے کہ اس کےلئے مواد کہاں سے لاں مگر ایسا ہو گا نہیں کیونکہ ایک تو ایسا ادب تخلیق نہیں ہو رہا جو مکھی پر مکھی مارنے والا نہ ہو۔ دوسرا موضوعات ڈھونڈتے ہوئے بھی جب یہ خیال غائب رہے کہ کوئی ایسا سچ نہیں بولنا جو گلے پڑ جائے تو پھر گھسے پٹے موضوعات ہی کو منتخب کر کے ایم فل حتیٰ کہ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی بانٹی جا رہی ہیں۔

 ادب میں لمحہ  موجود کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ لمحہ موجود نہ ہو تو ادب ایک اُس خالی شاپر کی مانند ہوتا ہے جو ہوا کے ساتھ اڑتا رہتا ہے۔ غالب کیوں پیدا ہوا، اس لئے کہ اُس نے اپنے عہد کو اپنی شاعری میں سمو دیا، منٹو نے کیوں ادب میں جگہ بنائی کیونکہ اُس نے جرات اظہار سے کام لےکر اُن شرمناک حقائق سے پردہ ہٹایا جو معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں۔ حبیب جالب اپنے وقت کے ڈکٹیٹر ضیاالحق کےلئے ڈرانا خواب بن گیا تھا کیونکہ وہ اپنے عہد کی آواز بن چکا تھا۔ اس زمانے کے افسانوں میں بھی علامتی پیرائے میں بہت کچھ لکھ دیا گیا۔اس پر کبھی جامعہ میں تحقیق نہیں کرائی گئی،کبھی یہ موضوع نہیں بنا کہ ’آمریت کے دور میں تخلیق ہونے والا ادب‘۔ بس ٹھنڈے ٹھار انداز میں ہومیو پیتھک موضوعات پر تحقیق کے دریا بہائے جاتے رہے۔

کسی زمانے میں جب ہمیں یہ پڑھایا جاتا تھا کہ ادب اپنے عہد کا ترجمان ہوتا ہے تو ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کیا ترجمانی کرتا ہے۔جس معاشرے میں ادب کا سو سالہ نصاب نہ بدلا ہو، اُس میں کسی عہد کی ترجمانی کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ آج پورے ادبی منظر نامے پر نظر ڈال کے دیکھ لیں نظم و نثر دونوں اصناف میں مزاحمتی ادب کی کوئی آواز دکھائی نہیں دے گی،حتیٰ کہ افتخار احمد عارف جیسے شاعر بھی اپنی ماضی کی شاعری پر اس حوالے سے گزارا کر رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب آپ نے مراعات لینی ہیں، تمغے سمیٹنے ہیں،مشاعروں کی صدارت مانگنی ہے اور ادب کے سرکاری اداروں میں اپنے من پسند لوگوں کو رکھوانا تاکہ اُن کی بدولت آپ کی چودھراہٹ قائم رہے تو پھر آپ سچ کیسے بول سکتے ہیں۔ اشارتاً بھی حالتِ جبر کو کیسے بیان کر سکتے ہیں۔

میرے نزدیک ادب کے حوالے سے یہ ایک تاریک دور ہے۔کہنے کو ادبی محاذ پر بڑی گہما گہمی ہے، مشاعرے ہو رہے ہیں۔ کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں، عالمی تقریبات کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے تاہم کھودو پہاڑ تو چوہا بھی نہیں نکلتا، بس لفظوں کی جگالی ہے۔ فوٹو سیشن ہے، لاکھوں روپے خرچ کر کے میلہ سجانے کی روایت ہے۔کیا اہل ِ ادب اس صورتحال پر فخرکر سکتے ہیں؟ افسوس بہت سے کہیں گے ہاں ہم تو کر سکتے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)