ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ کیا ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 24 / جولائی / 2026
ایران امریکہ جنگ کے بعد عرب ممالک پر ایران کے جوابی حملوں کے تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف سمیت حکومت پاکستان کے بیشتر نمائیندے کہتے رہے ہیں کہ اس جنگ میں سعودی عرب اس کی ریڈ لائن ہے۔ شروع میں ایرانی میزائل متعدد سعودی اہداف کو بھی نشانہ بناتے رہے تاہم بعد میں پاکستان کی رابطہ کاری کے سبب ان میں وقفہ آگیا۔ ایرانی جوابی کارروائیاں متحدہ عرب امارات، بحراین اور کویت تک محدود رہیں۔
تاہم جنگ کے دوسرے دور میں ایک تو ’مفاہمتی یادداشت‘ معطل ہوجانے کے سبب پاکستان کا ثالثی کردار مشکوک ہؤا ہے ۔ ایران یا امریکہ میں کسی نے بھی باہمی معاہدہ نظر انداز کرتے ہوئے اور ایک دوسرے پر حملے شروع کرنے سے پہلے پاکستانی حکام کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا۔ اگرچہ اب بھی ایرانی ذرائع پاکستان سے رابطوں میں ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مواصلت کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن اس کے باوجود اپریل کے شروع میں جنگ بندی کراتے وقت پاکستانی قیادت کو امریکی لیڈروں اور ایرانی قیادت کے ساتھ جو رسائی حاصل تھی، وہ شاید اب اس سطح پر موجود نہیں ہے۔ اگرچہ بیشتر مبصرین اب بھی یہی یقین رکھتے ہیں کہ اگر مستقبل قریب میں ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اس میں پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ شاید دنیا کے باقی ممالک کے ساتھ ایران کی دوری اور حالیہ جھڑپوں میں بطور خاص قطر اور عمان کو نشانہ بنانے کی کارورائیاں شامل ہیں۔ یہ دونوں ممالک جو پہلے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم تھے، اب اس قدر گرم جوش نہیں ہوں گے۔
ترکی کسی حد تک جنگ بندی کے لیے کوشاں رہا ہے اور اس نے پاکستان کے ساتھ مل کر امن عمل کو آگے بڑھانے اور جنگ بند کرانے میں کردار بھی ادا کیا لیکن ایران کی قیادت ترکی پر بھروسہ نہیں کرتی۔ کیوں کہ ترکی نیٹو کا حصہ بھی ہے اور اس کا امریکہ کے ساتھ قریبی عسکری تعاون بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ ترک سرزمین پر امریکی اڈے اور فوجی بھی تعینات ہیں۔ ایران ان تمام ممالک کو اپنا ’دشمن‘ قرار دیتا ہے جہاں امریکہ کے فوجی اڈے ہوں۔ اس کا خیال ہے کہ یہی اڈے امریکی فائٹڑز اور میزائلوں کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ ایران کے پاس ایسا کوئی انٹیلی جنس نیٹ ورک نہیں ہے جس کے ذریعے اسے دشمن کے حملوں کی حقیقی نوعیت یا لوکیشن کی خبر ہوسکے۔ چین اس سلسلہ میں ضرور ایران کی مدد کرسکتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر افواہ سازی کے باوجود یہ مان لینا سہل نہیں کہ اس بڑے تنازعہ میں جب کہ امریکہ جیسی سپر پاور کی عزت اورفوجی قوت داؤ پر لگی ہے، وہ بالواسطہ طور سے ہی اس جنگ کا حصہ بنے گا۔ یہ طریقہ چینی پالیسی اور حکمت عملی کے برعکس ہے۔
یوں بھی ایران کے یہ دعوے اب بے بنیاد ثابت ہوچکے ہیں کہ وہ عرب ملکوں میں صرف ان ٹھکانوں پر حملے کرتا ہے جہاں سے اس پر حملے ہورہے ہیں۔ کیوں کہ اب ایرانی میزائل صرف امریکی اڈوں ہی پر نہیں بلکہ عرب ممالک کی تیل تنصیبات، شہری سہولتوں اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور اس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکہ کو علاقے میں وسیع بحری بیڑے کی موجودگی میں دیگر ممالک میں موجود اڈے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوسکتی۔ ایران کا فضائی دفاعی نظام موجود نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کا بمبار طیارہ یا میزائل جب چاہے جس ہدف کو چاہے نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران کے پاس ان کی نشاندہی اور تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اسی لیے اسے زیادہ شدید نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود میزائل اور ڈرون بھیجنے کی محدود صلاحیت کے بل بوتے پر ایران نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دینے اور پوری دنیا کی معیشت کو تباہ کرنے کا عزم کیا ہؤا ہے۔ عرب ملکوں پر حملے اسی حکمت عملی کا شاخسانہ ہیں۔
ایران اگر واقعی ان تمام ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا جہاں سے اس پر امریکی حملے ہورہے ہیں تو وہ اب تک اسرائیل کو بھی جنگ میں ملوث کرچکا ہوتا۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے طاقت ور عسکری اڈہ ہے لیکن ایران بوجوہ اسرائیل سے چھیڑ چھاڑ سے گریز کررہا ہے کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ اسرائیلی حملے زیادہ بے رحم اور سفاکانہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایران میں موساد کا وسیع نیٹ ورک کسی بھی وقت ملک کے کسی بھی لیڈر کو انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے ایران نے اسرائیل سے براہ راست تصادم کا خطرہ مول لینے کی بجائے پہلے لبنان سے حز ب اللہ کو متحرک کرکے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی لیکن اسرائیل کی بے رحمانہ کارروائیوں نے حزب اللہ کو تقریباً مفلوج کرکے رکھ دیا۔ اب اس کے لیڈر ایران کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے کے سوا کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لبنانی حکومت اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کی تیاری کررہی ہے جس کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر اتفاق کیا جائے گا۔ ظاہر ہے اس میں اسرائیل کی عسکری امداد شامل ہوگی۔ عراق میں ایران دوست حکومت کے باوجود بغداد کی حکومت عسکری گروہوں کو ہتھیار پھینکنے اور غیر مسلح کرنے کا نوٹس دے چکی ہے۔
اس پس منظر میں ایرانی لیڈروں نے یمن میں حوثیوں کو متحرک کرنے کے اقدامات کیے ہیں اور انہوں نے بحیرہ احمر میں باب المندب کا آبی راستہ بند کرنے کی دھمکی دی ہے اور گزشتہ روز دو سعودی آئل ٹینکرز پر حملے بھی کیے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو واضح کرچکے ہیں کہ حوثی ایران کے اشارے پر مستعد ہوئے ہیں۔ ایران نے اگرچہ براہ راست یہ تسلیم نہیں کیا کہ حوثی تہران کی حمایت میں میدان جنگ گرم کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس میں اب کسی کوئی شبہ بھی نہیں ہے کہ ایران حوثیوں کے ذریعے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تہران کے لیڈروں کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے باب المندب کو غیر فعال کرکے ایشیا کی طرح یورپ کی معیشت پربراہ راست ضرب لگائی جاسکتی ہے اور دوسری طرف عرب ممالک کی تیل برآمدات کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ دیکھنا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ حوثی کب تک اور کس حد تک ایران کی حمایت میں کھڑے رہنے کا حوصلہ کرسکتے ہیں۔ ان پر یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سے پہلے ایرانی لیڈر پہلے حماس اور اس کے بعد حزب اللہ کو اپنے جہادی نظریے کے تحت تباہ کراچکے ہیں۔ اب کوئی ایرانی لیڈر غزہ ، فلسطین یا حماس کا نام بھی نہیں لیتا۔ کچھ عرصہ بعد حزب اللہ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔ امریکہ پر ضرور یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے استعماری مقاصد پورے کرنے کے لیے ملکوں کو استعمال کرنے کے بعد انہیں تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن ہمارے سامنے لکھی جانے والی تاریخ ہمیں بتارہی ہے کہ ایران بھی بعینہ اسی راستے کا مسافر ہے۔ حوثیوں کو شاید ابھی اس کا پوری طرح اندازہ نہیں ہے۔
جس روز سعودی عرب نے یمن میں باقاعدہ فوج کشی کے ذریعے حوثیوں کو بے اثر کرنے کا فیصلہ کیا تو اس باغی گروہ کو پہاڑی علاقوں تک محدود ہونے میں ہی عافیت دکھائی دے گی۔ ایسے میں ستمبر 2025 میں ہونے والے پاک سعودی دفاعی معاہدے کا بہت ذکر سننے میں آتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہوگااور وہ معاہدے میں اپنے فریق کا پوری طرح ساتھ دینے پر میدان میں ہوگا۔ پاکستانی لیڈروں نے موجودہ علاقائی جنگ کے تناظر میں متعدد بار اپنی اس کمٹ منٹ کو دہریا ہے۔ خاص طور سے حوثیوں کی دھمکیوں اور سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد وزارت خارجہ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان دنیا میں کہیں بھی اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے کارروائی کرے گا۔ مبصرین اس سے یہی اندازہ قائم کررہے ہیں کہ اگر حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستانی بحریہ اور فوج ان کی قوت کچلنے کے لیے استعمال ہوگی۔
2015 میں یمن کے خلاف سعودی کارروائی کے موقع پر پاکستانی قومی اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے اس جنگ کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا۔ لیکن اب ملکی قیادت اور صورت حال بالکل مختلف ہے۔ اس وقت پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ نہیں تھا۔ اب پاکستانی ائرفورس اور فوج، سعودی عرب میں تعینات ہے اور پاکستانی لیڈر سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لیے پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔ سعودی عرب کو پاکستان کی ریڈ لائن بھی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی میں پاکستانی فوج کی شرکت الجھنوں سے خالی نہیں ہوگی۔ اگرچہ یہ براہ راست ایران کے خلاف جنگ نہیں ہوگی لیکن کیا پاکستان ایرانی لیڈروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے گا کہ حوثی ایک علیحدہ قوت ہیں جو سعودی عرب پر حملہ آور ہیں؟ اور کیا ایران موجودہ حالات میں اپنے ایک حامی گروہ کی حمایت میں پاکستان کے ساتھ علی الاعلان جنگ کا آغاز کرسکتا ہے؟
ان سوالوں کا جواب موجود نہیں ہے۔ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر ضروری ہے کہ حکومت پاکستان عوام کو اس سوال پر اعتماد میں لے۔ یوں بھی پاک سعودی دفاعی معاہدہ کے تحت پاکستان اسی وقت سعودی عرب کی امداد کے لیے جاسکتا ہے اگر کوئی ملک یا گروہ براہ راست اس پر حملہ کرے۔ اگر حوثی سعودی عرب پر حملہ آور نہیں ہوتے اور محض دھمکیاں دیتے ہیں تو کیا پھر بھی پاکستان اس معاہدے کے تحت حوثیوں کی طاقت کچلنے میں آگے بڑھے گا؟ ان اسٹریٹیجک سوالوں کے علاوہ اس سارے معاملہ کے مالی پہلو بھی اہم ہیں۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے جو بمشکل بھارت جیسے دشمن کا سامنا کرنے کے لیے اپنا دفاع مستحکم کرتا ہے۔ سعودی عرب نے دفاعی معاہدے کے بعد پاکستانی لیڈروں کو عزت تو دی لیکن پاکستانی اسلحہ ساز صنعت یا دفاعی اخراجات میں تعاون کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ اب اگر پاکستانی فوج کی خدمات کے عوض کچھ معاوضہ دیا جاتا ہے تو اس سے پاکستانی فوج کی پروفیشنل حیثیت متاثر ہوسکتی ہے اور اسے ’کرائے کے جنگجوؤں‘ کی حیثیت دی جاسکتی ہے۔ پاکستان کو ایسی مشکل صورت حال سے بچنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی افواج کے مصارف پاکستانی عوام کے خون پسینہ سے فراہم کیے ہوئے وسائل سے پورے ہوتے ہیں۔ کسی دفاعی معاہدے کی صورت میں ان مصارف میں حصہ داری تو قابل قبول ہوسکتی ہے لیکن یہ تاثر غلط ہوگا کہ کوئی بھی دولت مند ملک پاکستانی فوج کو ’کرائے‘ پر حاصل کرسکتا ہے۔
پاکستانی عوام جنگ کے خلاف ہیں۔ ایک غریب ملک کے طور پر پاکستان کو جنگ سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ پاکستانی آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ایران کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتی ہے۔ ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی حکومت اگر کسی نئی جنگ میں حصہ لینے پر مجبور ہو تو اس کی حدود واضح ہونی چاہئیں اور پاکستانی عوام کو نعروں کی بجائے دلائل سے قائل کیا جائے۔