طلبہ کے شدید احتجاج کے بعد بھارتی وزیرتعلیم نے استعفی دے دیا
بھارت میں طلبہ کے شدید احتجاج کے بعد وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو استعفیٰ بھجوا دیا ہے۔
یہ احتجاج امتحانی پرچے لیک ہونے ،بے ضابطگیوں اور امتحانی نظام پر اعتماد کے بحران کے خلاف شروع ہوا تھا۔ طلبہ نے نئی دہلی میں مظاہرے کیے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس مظاہرے کا اہتمام ’ کاکروچ جنتا پارٹی ‘ کے بینر تلے کیا گیا تھا۔
احتجاج کے دوران نئی دہلی کے جنتر منتر اور دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے، بعض مواقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔جنتر منتر میں جاری احتجاج کے دوران کئی فلمی شخصیات بھی شریک ہوئیں اور طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
دھرمیندر پردھان نے ایکس پر لکھا کہ میں گزشتہ 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے وقف رہا ہوں، میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔دھرمیندر پردھان نے کہا کہ میں نے پہلے ہی دن اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی اس سے منہ نہیں موڑا۔ میرا عزم تھا کہ کسی بھی ذہین طالب علم کا مستقبل امتحانی مافیا کی وجہ سے خراب نہیں ہونے دیا جائے گا اور کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔
اس حوالے سے کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے تاہم اس حوالے سے تاحال حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ بعد مٰں پارٹی نے تمام مطالبے منظور ہوجانے کے بعد احتجاج بند کرنے کا اعلان کیا۔ خیال رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تقریباً دو ماہ سے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاج جاری تھا اور اس دوران بھارت کی نامور شخصیت سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے 20 جولائی کو سب کو جنتر منتر پہنچنے کی کال دی گئی جس پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان احتجاج میں پہنچ گئے تاہم بھارتی پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر بدترین لاٹھی چارج کیا گیا اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، درجنوں نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔
بھارتی وزیراعظم نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے نوجوانوں کو احتجاج ختم کرنے کی ترغیب دی لیکن مودی سرکار کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود بھارتی نوجوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور حکومت کا فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کا مطالبہ مسترد کردیا۔
بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی و سماجی شخصیات بھی نوجوان مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتی رہیں۔