ایران عمان کئے درمیان آبنائے ہرمز پر معاہدے کا امکان

  • اتوار 26 / جولائی / 2026

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور محفوظ بحری آمدورفت سے متعلق عمان کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ تہران میں ایرانی اور عمانی نائب وزرائے خارجہ کے درمیان دو روزہ مذاکرات ہوئے۔دونوں ممالک نے ساحلی ریاستوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے جہاز رانی کے محفوظ نظام پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات مفید رہے اور تکنیکی و سیاسی سطح پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر معاہدہ طے پا جائے گا۔قبل ازیں امریکی نیوز سائٹ ایگزیوس کے مطابق مریکی صدر نے سفارت کاری کو مزید موقع دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے امریکی فوج کو ایران پر نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً دو ہفتوں سے جاری روزانہ حملوں کا سلسلہ رک گیا۔

اس دوران ایران کے ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’ماحولیاتی خدمات اور ماحولیاتی نقصانات کی فیس وصول کرنے کے ضوابط‘ تیار کر لیے گئے ہیں اور منظوری کے لیے حکومت کو بھیج دیے گئے ہیں۔

ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد بحری جہاز اور آئل ٹینکر گزرتے ہیں جس سے خلیج فارس میں آلودگی پھیلتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آلودگی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ہونا چاہیے۔ ادارۂ تحفظ ماحولیات کے مطابق جو قواعد تیار کیے گئے ہیں، وہ سمندری قوانین سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کی شقوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت اگر ماحولیاتی خطرات پیدا ہوتے ہیں تو ایران سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ان کی نوعیت، سامان کی مقدار، بحری ریکارڈ اور آلودگی پھیلانے کی سابقہ تاریخ کی بنیاد پر فیس وصول کی جا سکے گی۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں کسی قسم کی فیس یا محصول وصول کرنا آزادانہ جہاز رانی کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے۔ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا جائز ہے۔