امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے رک گئے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان خبروں کے بعد ایران نے بھی جوابی حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی میڈیا اداروں نیو یارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ فیصلہ جمعے کے روز اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
جمعے کی رات تقریباً دو ہفتوں میں پہلی رات تھی جب امریکہ نے ایران پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا۔ سنیچر کی رات بھی کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس کے بعد کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر اب بھی ’تمام آپشنز‘ موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ڈائیریکٹر برائے مواصلات سٹیون چونگ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا: ’صدر ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو (ڈونلڈ ٹرمپ) اپنے تمام آپشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کی معیشت کو مفلوج کر دینے والی کامیاب پابندیوں اور اس کی بار بار کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں فوجی اہداف پر 13 روز تک مسلسل حملوں کے بعد دانش مندانہ راستہ یہی ہو گا کہ ایران کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کا رخ کرے، ورنہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔‘
نیویارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کم از کم فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کو مزید وسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ جمعے کو اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش ظاہر کی۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی حملوں کے رکنے کے بعد اس کی افواج نے اپنی کارروائیاں بھی بند کر دی ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ دو راتوں کے دوران اپنے حملے روکے ہیں تو ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ امریکہ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے؟ ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ ’امریکہ سٹریٹیجک فیصلہ سازی کے حوالے سے تھکن کا شکار ہے۔ اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں۔ یہ بات صدر کے فیصلوں اور سینٹکام کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ 14 سے 15 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کی کچھ خصوصیات تھیں، جن میں حملوں کا مرکز امریکی ’ریڈار تنصیبات اور معاونت فراہم کرنے والے مراکز‘ تھے، تاکہ امریکہ کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے۔ اکرامینیا کے مطابق ایران نے اس عرصے میں کوشش کی کہ ’امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے تاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل کرے۔‘