پاکستان میں انقلاب کیوں نہیں آتا؟
- تحریر محمد طارق
- اتوار 26 / جولائی / 2026
پاکستان میں ’انقلاب‘ ایک ایسا سیاسی نعرہ بن چکا ہے جو تقریباً ہر انتخابی دور، ہر احتجاجی تحریک اور ہر سیاسی بحران میں سنائی دیتا ہے۔ عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور اب ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر بحران کے بعد نہ صرف وہی نظام برقرار رہتا ہے بلکہ اکثر وہی سیاسی چہرے بھی دوبارہ اقتدار کے ایوانوں میں نظر آتے ہیں۔ اس صورتِ حال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آخر پاکستان میں حقیقی انقلاب کیوں نہیں آتا؟ اس سوال کا جواب صرف کسی ایک سیاسی جماعت، ایک ادارے یا ایک شخصیت میں تلاش کرنا حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔ پاکستان کا سیاسی بحران دراصل ایک اجتماعی بحران ہے، جس میں سیاسی قیادت، ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں اور کسی حد تک معاشرہ بھی شریک دکھائی دیتا ہے۔
سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کے کردار کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل، پالیسیوں اور قومی ترقی کے واضح پروگرام پیش کرتی ہیں، لیکن پاکستان میں سیاست اکثر شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی شناخت نظریات سے زیادہ اپنے قائدین سے وابستہ ہو چکی ہے۔ نتیجتاً عوام کو معیشت، تعلیم، صحت، انصاف اور گورننس جیسے بنیادی مسائل پر متحرک کرنے کے بجائے سیاسی وفاداریوں اور جذباتی نعروں کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایسی سیاست کسی انقلاب کی نہیں بلکہ محض اقتدار کی منتقلی کی بنیاد بنتی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان میں سیاسی عدم برداشت بھی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اقتدار میں آنے والی جماعت خود کو عوامی مینڈیٹ کا واحد نمائندہ قرار دیتی ہے، جبکہ اپوزیشن انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتی ہے۔ جب حکومتیں بدلتی ہیں تو کردار بھی بدل جاتے ہیں۔ مگر رویے تبدیل نہیں ہوتے۔ یہی تضاد اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اکثر سیاسی جماعتیں اصولوں سے زیادہ سیاسی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس رویے نے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے بہت کمزور کیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بھی مسلسل بحث ہوتی ہے لیکن یہ بحث اکثر یک طرفہ ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف ادوار میں متعدد سیاسی جماعتوں نے اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق ریاستی اداروں کی حمایت بھی حاصل کی اور مخالفت بھی کی۔ جب تک سیاسی قوتیں خود آئینی حدود اور جمہوری اصولوں پر مستقل طور پر قائم رہنے کا عزم نہیں کرتیں، صرف ایک ادارے پر تمام ذمہ داری عائد کرنا مسئلے کا مکمل تجزیہ نہیں کرتا۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی سیاسی شعور کا پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ترقی یافتہ جمہوریتوں میں ووٹر اپنی رائے زیادہ تر حکومتی کارکردگی، پالیسیوں اور معاشی نتائج کی بنیاد پر دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میں ذات، برادری، شخصیت پرستی، جذباتی بیانیے اور وقتی سیاسی ماحول اکثر انتخابی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ جب تک عوام خود پالیسی پر مبنی سیاست کا مطالبہ نہیں کریں گے، سیاسی جماعتیں بھی اپنی ترجیحات نہیں بدلیں گی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جلسے، جلوس، دھرنے اور احتجاج جمہوری معاشروں کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن انہیں کسی معاشرے کی آخری منزل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر احتجاج کے بعد ادارہ جاتی اصلاحات، سیاسی مکالمہ، قانون کی بالادستی اور قومی اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو تو ایسی تحریکیں وقتی سیاسی دباؤ تو پیدا کر سکتی ہیں، مگر مستقل تبدیلی نہیں لا سکتیں۔
حقیقی انقلاب صرف حکومتوں کی تبدیلی سے نہیں آتا بلکہ اداروں، قوانین، سیاسی رویوں اور عوامی شعور کی تبدیلی سے آتا ہے۔ جب تک احتساب سب کے لیے یکساں نہیں ہوگا، قانون سب پر برابر لاگو نہیں ہوگا، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت فروغ نہیں پائے گی اور قومی مسائل کو ذاتی یا جماعتی مفادات پر ترجیح نہیں دی جائے گی، اس وقت تک ’انقلاب‘ محض ایک پرکشش نعرہ ہی رہے گا۔
پاکستان کو اس وقت کسی نئے نعرے سے زیادہ نئی سیاسی سوچ کی ضرورت ہے۔ آئین کی بالادستی، مضبوط جمہوری ادارے، شفاف احتساب، معاشی استحکام، معیاری تعلیم، مؤثر گورننس اور سیاسی برداشت ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک مستحکم ریاست قائم ہو سکتی ہے۔ اگر سیاسی قوتیں اور ریاستی ادارے قومی مفاد کو اپنی ترجیحات کا مرکز بنا لیں تو تبدیلی ممکن ہے، لیکن اگر سیاست اسی طرح شخصیات، تصادم اور وقتی مفادات کے گرد گھومتی رہی تو انقلاب کے نعرے تو گونجتے رہیں گے مگر حقیقی انقلاب ایک خواب ہی بنا رہے گا۔