اٹھو نوجوانو!قدم اب بڑھاؤ
- تحریر فہیم اختر
- اتوار 26 / جولائی / 2026
کسی بھی قوم کی تقدیر اس کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے لیکن جب انہی ہاتھوں سے قلم چھین لیا جائے، خواب روند دیے جائیں اور امیدوں کو لاٹھیوں اور آنسو گیس کے دھوئیں میں دفن کر دیا جائے تو تاریخ خاموش نہیں رہتی، وہ احتجاج بن کر سڑکوں پر اتر آتی ہے۔
بھارت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف وہی جمہوریت اپنے نوجوانوں کے سوالوں کے جواب میں سخت پولیس کارروائی، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کی تصاویر پیش کرتی نظر آتی ہے۔ داخلہ امتحانات میں مبینہ پیپر لیکس نے صرف ایک امتحانی نظام کو نہیں، بلکہ ریاستی انتظام، شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
یہ احتجاج کسی ایک ریاست، کسی ایک امتحان یا کسی ایک طالب علم کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ان لاکھوں نوجوانوں کی اجتماعی چیخ ہے جو برسوں تک دن رات محنت کرتے ہیں، اپنے خوابوں کو کتابوں کے اوراق میں سجاتے ہیں، اپنے والدین کی امیدوں کو اپنی کامیابی سے جوڑتے ہیں، مگر پھر ایک دن انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی محنت کسی منظم بدانتظامی، مبینہ بدعنوانی یا پیپر لیک کے سامنے بے معنی ہو گئی ہے۔
ایک طالب علم کے لیے امتحان محض سوالات کا پرچہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی پوری زندگی کا رخ متعین کرنے والا مرحلہ ہوتا ہے۔ متوسط طبقے کا نوجوان اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، والدین اپنی جمع پونجی کوچنگ سینٹروں اور تعلیمی اخراجات پر لگا دیتے ہیں، بہنیں اور بھائی اپنی ضروریات محدود کر لیتے ہیں تاکہ گھر کا ایک فرد کامیاب ہو کر پورے خاندان کی تقدیر بدل سکے۔ لیکن جب امتحان ہی مشکوک ہو جائے تو صرف ایک پرچہ نہیں بلکہ ایک پورا خواب چکنا چور ہو جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی چھبیس روزہ بھوک ہڑتال نے ایک علامت کی حیثیت اختیار کر لی۔ ان کی خاموش بھوک نے لاکھوں نوجوانوں کے دلوں کی آواز بن کر حکومت سے یہ سوال کیا کہ آخر محنت کرنے والے نوجوانوں کے مستقبل کی ضمانت کون دے گا؟ جب نوجوانوں نے ان کی آواز کو اپنی آواز بنایا تو احتجاج نئی دہلی سے نکل کر ملک کے مختلف حصوں تک پھیل گیا۔یہ احتجاج صرف تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ ریاستی جوابدہی، شفاف حکمرانی اور نوجوانوں کے وقار کا مطالبہ بھی بن گیا۔بدقسمتی سے حکومت اور انتظامیہ کا ابتدائی ردعمل مفاہمت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی صورت میں سامنے آیا۔ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کی کارروائیاں، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ایسے مناظر تھے جنہوں نے یہ سوال پیدا کیا کہ کیا ایک جمہوری حکومت اختلافِ رائے کو سننے کے بجائے اسے دبانے کو ترجیح دے رہی ہے؟
جمہوریت کی اصل طاقت یہ نہیں کہ حکومت کتنی مضبوط ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ تنقید کو کس ظرف سے برداشت کرتی ہے۔ اگر نوجوان سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں، اگر والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے احتجاج کریں، اگر طلبہ خود کو بے بس محسوس کریں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں نظام میں ایک گہرا بحران موجود ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بعد ازاں امتحانی پیپر لیکس کے خلاف سخت قانون سازی اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا۔ بلاشبہ کسی بھی حکومت کا اصلاحات کا اعلان ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ اتنا سنگین تھا تو اصلاحات پہلے کیوں نہ کی گئیں؟ اور اگر لاکھوں نوجوانوں کو سڑکوں پر آنا پڑا، بھوک ہڑتالیں کرنا پڑیں اور ملک گیر احتجاج برپا کرنا پڑا، تو کیا یہ خود حکومتی نظام کی ناکامی کا اعتراف نہیں؟حکومت کی ذمہ داری صرف قانون بنانا نہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کرنا ہے۔ اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ذمہ دار افراد کے خلاف غیر جانبدارانہ کارروائی ہو، شفاف تحقیقات ہوں، اور متاثرہ طلبہ کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی محنت کسی بدعنوان نظام کی نذر نہیں ہوگی۔
بھارت گزشتہ برسوں میں نوجوانوں کی بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی دباؤ اور معاشی غیر یقینی جیسے مسائل سے بھی دوچار رہا ہے۔ ایسے حالات میں امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات نے نوجوانوں کے اندر موجود بے چینی کو مزید بڑھا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک میں صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، وکلا، سماجی کارکن اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوتے گئے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نوجوانوں کی آواز کو طاقت سے دبایا جا سکتا ہے، لیکن ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ پیرس سے لے کر پراگ، جنوبی افریقہ سے لے کر جنوبی کوریا تک، دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ جب نوجوان انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں تو آخرکار حکومتوں کو ان کی بات سننا پڑتی ہے۔کسی بھی ریاست کی اصل عظمت اس کے بلند و بالا منصوبوں، معاشی اعدادوشمار یا عالمی سفارت کاری سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہاں کا ایک عام طالب علم اپنے مستقبل کے بارے میں کتنا مطمئن ہے۔ اگر ایک نوجوان کو اپنی محنت پر یقین نہ رہے، اگر اسے محسوس ہو کہ قابلیت کے بجائے بدانتظامی فیصلہ کرے گی، تو یہ صرف اس فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان ہے۔بھارت کے لیے بھی یہی لمحہ فکریہ ہے۔ اگر حکومت واقعی نوجوانوں کو ملک کا مستقبل سمجھتی ہے تو اسے اختلاف کرنے والوں کو دشمن نہیں بلکہ اپنے ہی بچوں کی طرح سننا ہوگا۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مگر اعتماد صرف انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔
کسی بھی احتجاج کے نتیجے میں وزیر کا استعفیٰ وقتی طور پر عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے یا سیاسی دباؤ کو کم کرنے کا ذریعہ تو بن سکتا ہے، لیکن اسے نظام کی مکمل اصلاح کی علامت سمجھنا محض ایک خوش فہمی ہوگی۔ کسی ایک فرد کا اپنے عہدے سے الگ ہو جانا ان دیرینہ انتظامی خرابیوں، بوجھل بیوروکریسی، اور پالیسی ساز اداروں کی نااہلی کو راتوں رات ختم نہیں کر سکتا جو طویل عرصے سے طلبہ کے حقوق اور مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ جب تک فیصلوں کی شفافیت، اداروں کی جوابدہی، اور ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک صرف چہرے بدلنے سے نظام کی بنیادیں درست نہیں ہو سکتیں۔اب اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس احتجاج اور عوامی دباؤ کے بعد واقعی نظام کی واقعی اصلاح کی جائے گی، یا پھر یہ تمام تر دعوے اور وعدے صرف الفاظ کا ایک 'چوچوں کا مربہ' بن کر رہ جائیں گے؟ تاریخ گواہ ہے کہ اکثر ایسے موقعوں پر سطحی اقدامات اور بلند بانگ دعوؤں کے ذریعے معالجہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ بنیادی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ اگر حکومت اور انتظامیہ نے محض وقت گزارنے اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی، تو یہ نہ صرف طلبہ کے اعتماد کا قتل ہوگا بلکہ آئندہ کے لیے ایک اور بڑے بحران کی بنیاد بھی رکھ دے گا۔
میرا کالم کسی ایک جماعت یا ایک حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ہر اس طرزِ حکمرانی کے خلاف ہے جو نوجوانوں کی امیدوں کو نظرانداز کرے۔ طلبہ کا احتجاج کسی ریاست کی کمزوری نہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عوام اب اپنے حقوق، شفافیت اور جوابدہی کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔
تواٹھو نوجوانو! اس لیے نہیں کہ نفرت کو فروغ دو، بلکہ اس لیے کہ علم کی حرمت، انصاف کی بالادستی، شفاف نظام اور اپنی محنت کے احترام کے لیے آواز بلند کرو۔ ایک قوم کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے نوجوان خوف کے سائے میں نہیں بلکہ امید کی روشنی میں اپنے خواب تعمیر کریں۔ اور وہ ریاستیں ہی تاریخ میں عزت پاتی ہیں جو اپنے نوجوانوں کے سوالوں سے نہیں ڈرتیں بلکہ ان کے مستقبل کی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہیں۔