امیر بھی اور عظیم بھی

امیر العظیم دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ کتنے امیر اور کتنے عظیم تھے۔ ان کی زندگی میں بھی ان کا اعتراف کرنے والے بہت تھے لیکن انتقال کے بعد تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ سیاست اور صحافت کی دنیا کے ہر شخص کو کچھ کھو جانے کا احساس ہوا ہے۔ ہر اک شے میں کسی شے کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔

وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے ہوتے ہوئے، جماعت اسلامی میں پہنچے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے، جیل میں تھے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے اُنہیں اپنا ناظم اعلیٰ چن لیا۔ طالب علمی کا دور ختم ہوا تو اِدھر اُدھر جھانکنے  کے بجائے سر جھکا کر جماعت اسلامی میں داخل ہو گئے۔ جس راستے پر چلنے کا عہد کیا تھا، اسی راستے پر چلتے رہے۔پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ جماعت اسلامی میں بھی ہاتھوں ہاتھ لئے گئے۔ یہاں عہدوں کی بندر بانٹ ہوتی ہے،نہ ان کے لئے لوگ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں۔یہاں منصب ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کا نام ہے اِس لئے اس کی تمنا دِلوں میں کم ہی پالی جاتی ہے۔

امیر العظیم بھی اپنی مسکراہٹ اور انکساری کی بدولت ممتاز سے ممتاز تر ہوتے چلے گئے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات بنے تو اسے نئی توانائی بخشنے میں لگ گئے۔اِس سے پہلے صفدر علی چودھری کا سکہّ چل رہا تھا۔ ان کی طاقت بھی دھیمے لہجے اور مسکراہٹ میں تھی۔وہ ادیب تھے نہ خطیب لیکن دِل میں اُترتے چلے جاتے تھے۔ جناب سراج الحق کی امارت میں امیر العظیم نے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا،ان سے پہلے لیاقت بلوچ ،ان سے پہلے سید منور حسن ان سے پہلے قاضی حسین احمد اور ان سے کہیں پہلے میاں طفیل محمد اس ذمہ داری کو نباہ چکے تھے۔ان دِنوں سیکرٹری جنرل کو ”قیم“ کہا جاتا تھا،جماعت اسلامی اپنے سکے اپنی ٹکسال میں ڈھال رہی تھی، سیکرٹری جنرل کے بجائے اس نے اپنے ”منتظم اعلیٰ“ کو قیم کا نام دے رکھا تھا لیکن پھر ”قیم“ پر سیکرٹری جنرل غالب آ گیا  ”جدت“ نے قدامت پر قابو پا لیا۔

میاں طفیل محمد نے جماعت اسلامی کا نظم کھڑا کرنے اور اس کی موثر نگرانی کرنے میں کمال حاصل کیا تھا، مولانا مودودیؒ نے مسند خالی کی تو ارکانِ جماعت کی بھاری اکثریت نے ”قیم“ کو اپنا امیر بنا لیا۔ میاں صاحب کا دورِ امارت ہنگامہ خیز رہا۔1970کے انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کا صدمہ برداشت کرنا پڑا تھا، اس کے بعد مغربی حصہ ”نیا پاکستان“ بن کر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے قبضے میں آ چکا تھا۔میاں طفیل محمد 1970 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے بائیں بازو کے ستون شیخ رشید کے مقابلے میں الیکشن ہارے تھے۔ امارت کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر آن پڑی، تو ”بھٹو ازم“ کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ جیل میں ان کے ساتھ بدسلوکی ہوئی تو گویا ضبط کے بند ٹوٹ گئے۔مولانا مودودیؒ سے لے کر جماعت اسلامی کے ادنیٰ کارکن تک سب کا خون کھولنے لگا، اس طرح کی بدتمیزی کا کوئی تصور اِس سے پہلے قومی سیاست میں نہیں تھا۔ بھٹو صاحب کے جیالوں نے سیاسی اختلاف کو گھٹیا ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیا تھا۔جماعت اسلامی میدان میں رہی، اتحادی سیاست کو فروغ دیا، پاکستان قومی اتحاد کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا،بالآخر بھٹو اقتدار سے نجات نصیب ہوئی۔ انتخابی دھاندلی کے بعد اُٹھنے والے غم و غصے کے طوفان میں یہ کشتی ڈوبی، مارشل لا نافذ ہوا تو بھٹو مخالف جرنیلی حکومت کے فطری اتحادی قرار پائے۔ پیپلزپارٹی کے ایک دھڑے نے الذوالفقار بنا لی اور طاقت کے ذریعے ضیاالحق کا تختہ الٹنے کے وہم میں مبتلا ہوگیا۔ ان ”انقلابیوں“ کے ساتھ وہ کچھ ہوا کہ ان کے اپنے عہد ستم کی کارروائیاں اس کے سامنے ماند پڑ گئیں۔

میاں طفیل محمد جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے خصوصی پشتیبان سمجھے جانے لگے۔وہ بھی جالندھر کے آرائیں تھے،اس حوالے سے جنرل ضیاالحق سے ان کے تعلق کے چرچے ہوئے، مخالفین نے انہیں جنرل صاحب کا ماموں مشہور کر دیا۔اِسی دوران طلبہ تنظیمیں مارشل لا کی نظر میں کھٹکنے لگیں۔ ان کی منہ زوریوں نے ماحول کوگرمانا شروع کر دیا۔ سندھ اور بلوچستان کے قوم پرست بھی ان کی آڑ میں دندنانے لگے، سو مارشل لا نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اِس سے پہلے سیاسی جماعتوں کے ساتھ کر چکا تھا۔ ان پر پابندی لگی،یہ سب کالعدم قرار پا گئیں۔ امیر العظیم طلبہ رہنما تھے، میدان میں ڈٹ گئے، سو ان پر جیل کے دروازے کھول دیے گئے۔کئی ساتھی بھی اسی سلوک کے مستحق گردانے لگے۔امیر العظیم  نے طلبہ رہنماؤں کی ایسی تصاویر برادرم سلیم منصور خالد کے سپرد کیں، جن میں تشدد کا نشانہ بننے والے طلبہ کے زخم نمایاں تھے۔ یہ تصویریں کیسے کھینچی گئیں اور کیسے جیل میں پہنچیں،یہ تو معلوم نہیں ہوا لیکن برادرم سلیم منصور خالد ملاقات کے لئے جیل گئے تو بنڈل اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ تصویریں ماہنامہ ”قومی ڈائجسٹ“ میں چھاپ دی گئیں۔جنرل ضیا الحق سے اس پر براہِ راست  نوک جھوک ہوئی، ان کی انتظامیہ انہیں اصلی تسلیم کرنے پر تیار نہ تھی لیکن ہمارا اصرار اسے دباتا چلا گیا۔ جنرل ضیاکے برادر نسبتی ڈاکٹر بشارت الٰہی مرحوم اور ان کے گہرے دوست میاں محمد یٰسین (مرحوم) کی معاونت سے اِس طرح دھاوا بولا گیا کہ جنرل ضیاالحق درِ زنداں کھولنے پر مجبور ہوگئے۔

امیر العظیم رہا ہوئے تو ان کے دِل میں پیپلز پارٹی کے بارے میں نرم گوشہ وسیع ہو چکا تھا۔وہ اس سے مفاہمت کا راستہ تلاش کرنے والوں میں شمار  ہونے لگے۔ جماعت اسلامی کا ”کراچی گروپ“ بھی ایسے ہی خیالات میں مبتلا تھا، برادرِ عزیز محمد صلاح الدین اپنا قلم لے کر اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔ مجھے بھی اس شدت پسندی سے اتفاق نہیں تھا ۔سو اس کے خلاف آواز بلند کی، میرے مضمون نے ”قومی ڈائجسٹ“ اور”نوائے وقت“ میں شائع ہو کر بحث کو آگے بڑھایا۔ پیپلز پارٹی کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر کردار ادا کرنے کا حق دینا اور اس سے رابطہ استوار کرنا  جمہوری سیاست کے لئے لازم تھا۔اس بحث نے سوچ کا رُخ بدلا اور جماعت اسلامی کے ساتھ پیپلزپارٹی کے رابطے بحال ہوتے گئے۔

امیر العظیم  جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل بنے، تو اپنی صلاحیت منواتے چلے گئے۔ عاجزی اور انکساری ان کی دولت تھی،اِسی سے وہ امیر ہوئے، اور اِسی نے اُنہیں عظمت دلائی۔ انہوں نے اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی بنائی، ایک ٹی وی چینل کا بھی اجرا کیا، اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے۔ کینسر کا موذی مرض لاحق ہوا تو اس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔مسلسل نو برس اس سے برسر پیکار رہے۔ بستر علالت پر بھی مسکراہٹ ان کے چہرے پر تھی۔ مسکراتے مسکراتے اِس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور ہر مکتب فکر کے ہزاروں لوگوں نے اُنہیں الوداع کہا،اُنہیں یاد کیا اور اب تک کرتے چلے جا رہے ہیں۔

 ان لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تبدیلی لانی ہے تو کارکنوں کو لیڈر بنانا ہو گا۔ اپنے آپ کو تبدیل کرنے والے ہی دوسروں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ امیر العظیم جیسے آگے آئیں گے، تو سب امیر ہو جائیں گے اور عظیم بھی۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)