انسانیت کے لیے جنگ بند رہنا ضروری ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 26 / جولائی / 2026
امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں میں وقفہ کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے بھی جوابی حملے بند کردیے ہیں۔ اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھی ہے۔ جنگ کی انتہائی گمبھیر صورت حال ، نعروں، دھمکیوں اور ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کے دعوؤں کے دوران میں یہ تبدیلی خوش آئیند اور حوصلہ افزا ہے۔
اس موقع پر بھوسے کے ڈھیر سے یہ سوئی تلاش کرنے کی بجائے کہ کس نے ہار تسلیم کی اور کس کی ناک نیچی ہوئی، اس بات پر مطمئن ہونا چاہئے کہ فریقین ایک بار پھر جنگ کی بجائے امن کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ سب کی طرح امریکہ اور ایران پر بھی واضح ہورہا ہے کہ جس تنازعہ میں انہوں نے سینگ پھنسائے ہیں، اس سے باہر نکلنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ دونوں ملک بہت زیادہ خرابی سے پہلے ہی امن کو موقع دینے کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار نہیں ہے۔ امریکہ و ایران کے علاوہ پوری دنیا کے عوام کی کامیابی اس جنگ کے بند ہونے اور اس کا سبب بننے والے تنازعات کے حل سے ہی وابستہ ہے۔
امریکہ خود کو دنیا کی سپر پاور سمجھتا ہے۔ معیشت کے حجم اور اسلحہ کے ذخائر کے علاوہ دنیا بھر میں اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے دنیا کے بیشتر ممالک اس کی اس حیثیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران میں ایرانی لیڈروں نے ضرور امریکی حملوں کو چیلنج کرتے ہوئے ڈٹے رہنے کو ترجیح دی تاہم یہ ایک طرح سے ہر حکومت اور ملک کی مجبوری بھی ہوتی ہے۔ امریکہ نے غلط اندازوں کی بنیاد پر اسرائیل کے بہکاوے میں آکر ایران پر حملہ مسلط کیا تھا۔ ایرانی لیڈروں کے لیے اس کا جواب دینا فطری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے امریکی حملوں کی مذمت کی اور جنگ بند کرنے کا مشورہ دیا۔ البتہ اسی جنگ کے دوسرے مرحلے میں ایران نے قیادت کی داخلی کشمکش پر قابو پانے اور انتقام کے نئے نعرے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بڑی مشکل سے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں ہر حملے کرکے جنگ کے دوسرے مرحلےکا آغاز کیا۔
اس کے بعد اگرچہ امریکہ نے دو ہفتے تک ایران پر سخت بمباری کی لیکن ایران نے اپنے بچے کھچے میزائل اور ڈرون عرب ممالک پر پھینک کر دہشت اور عالمی معیشت کے لیے ایک نیاخطرہ پیدا کیا۔ اس کے ساتھ ہی بعض ایرانی لیڈروں کے ایسے بیانات بھی منظر عام پر آنے لگے کہ ’دشمن کے گھٹنے ٹیکنے تک ایران جنگ بند نہیں کرے گا‘۔ بعض سرپھرے اپنے لیڈر وں کی ہلاکت کے بدلے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو مارنے کی کھلم کھلا دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور کہا جاتا رہا کہ اب تو اس وقت ہی جنگ بند ہوگی جب میناب اسکول میں طالب علموں کی شہادت کا حساب لیا جائے گا۔
تاہم بعد از وقت دیکھا جاسکتا ہے کہ ایسے بیانات کازمینی حقائق، ایران کی عسکری صلاحیت یا صلاحیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت مگر یہ ضرور ہے کہ ایران بھی جنگ سے پہلے امریکہ کو سپر پاور ہی سمجھتا رہا ہے ، اسی لیے وہ نہایت خلوص کے ساتھ کسی بھی قیمت پر ٹرمپ جیسے سرپھرے لیڈر کے ساتھ جوہری معاہدے کی تگ و دو کررہا تھا۔ بصورت دیگر ایرانی لیڈروں نے کبھی امریکی طاقت کو تسلیم ہی نہیں کیا تو انہیں 28 فروری کے حملوں سے پہلے امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات کرنے اور معاہدہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا وجہ تھی کہ ایران اپنی جوہری صلاحیت کے بارے میں امریکی ’ڈکٹیشن‘ قبول بلکہ تسلیم کررہا تھا؟ اس کی واحد وجہ امریکی طاقت کا خوف اور اس کے ساتھ تنازعہ سے بچنے کی خواہش تھی۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ خواہش کسی بھی اوسط ملک کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے بڑے ملکو ں کے ساتھ تنازعہ کو فروغ دینے کی بجائے، مفاہمت کا راستہ اختیار کرے۔ ایران اسے راستے پر گامزن تھا مگر امریکہ نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مشکلات کھڑی کیں۔
دوسری طرف ایران نے موجودہ نام نہاد اسلامی انقلاب لانے کے ساتھ ہی امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور سفارت کاروں کو یرغمال بنا کر امریکہ کے ساتھ دشمنی کا باقاعدہ آغاز کیا۔ عرب ممالک پر حملوں کے ذریعے اب کہا جارہا ہے کہ انہیں وہاں سے امریکی اڈے ختم کرنے چاہئیں لیکن انقلابی لیڈروں نے پہلے دن سے ہی عرب ممالک کو ہراساں کرنے اور انہیں دباؤ میں لانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ اسی لیے حزب اللہ اور حوثی جیسے پراکسی گروہوں کی سرپرستی کی گئی اور شام میں بشار الاسد کی عوام دشمن حکومت کی مدد کرکے ان کی دہشت شام پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ امیر عرب ممالک کو ہراساں کیا جائے۔ ایران کسی حد تک اس مقصد میں کامیاب بھی رہا لیکن 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ذریعے اسرائیل پر حملہ کرانے کی غلطی کے بعد حالات پر اس کا کنٹرول نہیں رہا۔ اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کے کس بل نکال دیے اور شام میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ ان حالات میں عرب ممالک نے مفاہمتی اور سفارتی مہارت کے ساتھ ایران کو ساتھ ملانے اور کسی بھی طرح مشرق وسطی میں تصادم سے گریز کی حکمت عملی اختیار کی۔ یہ تمام ممالک تیل کی دولت کے سبب معاشی ترقی کے لیے امن اور تنازعہ سے بچنے کے خواہاں رہے ہیں لیکن ایران مسلسل اسے عربوں کی کمزوری سمجھنے کی غلطی کرتا رہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس غلطی کا ازالہ کرلیا جائے۔
ایران جس جنگ کو اپنے وجود اور انا کی جنگ قرار دے رہا ہے ، اس کے بڑھنے کی صورت میں اسرائیل کا یہ ایجنڈا مکمل ہوگا کہ مسلمان ممالک ایک دوسرے سے برپیکار ہوکر خود کو تباہ کریں اور اس کے لیے وسعت اور طاقت ور ہونے کے امکانات پیدا ہوں۔ اسی لیے جنگ کے دوسرے مرحلے میں اسرائیل نے شریک ہونا ضروری نہیں سمجھا بلکہ عرب ممالک کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا جاتا رہا کہ وہ ایران پر حملہ کریں۔ باب المندب کی آبی گزرگاہ بند کرکے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد یہ صورت حال پیدا ہوگئی تھی کہ سعودی عرب براہ راست اس تنازعہ کا حصہ بن جاتا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کو بھی اس جنگ میں دفاعی معاہدے کی وجہ سے اس کا ساتھ دینا پڑتا۔ لیکن ایران میں لیڈروں نے کسی نہ کسی سطح پر یہ باور کیا ہے کہ ایسی جنگ میں وہ فاتح نہیں بلکہ سب مسلمان ممالک شکست خوردہ ہوں گے۔ اسی لیے ایک دن پہلے ہی ایران کی طرف سے حوثیوں اور سعودی عرب میں جنگ بندی کی بات کی گئی اور کل رات صدر ٹرمپ نے حملوں میں وقفہ کا اعلان کیا ۔ تہران تو گویا اس موقع کا انتظار ہی کررہا ہے۔ یہی مثبت رویہ اب بھی اس امید کو باقی رکھتا ہے کہ ایران میں ایسے عناصر بدستور متحرک اور اثر انداز ہیں جو جنگ کی ہلاکت اور امن کی ضرورت سے آگاہ ہیں۔
امریکہ تمام تر عسکری طاقت کے باوجود ایران کو واضح شکست دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ایسی کارروائی کے لیے زمینی حملہ ضروری ہے جس کی مالی و سیاسی قیمت کسی بھی امریکی لیڈر کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ البتہ اس سچائی کے باوصف ایران یا کوئی بھی ملک اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوسکتا کہ وہ امریکہ کو مسلسل دباؤ میں ڈال کر کوئی مطالبے منوا سکتا ہے۔ اسی لیے جنگ کا موجودہ وقفہ تہران سے آنے والا درست سفارتی اشارہ ہے۔ درپردہ ثالثی کرانے والے ممالک مسلسل متحرک ہیں۔ تہران میں لیڈروں کو پاکستانی، قطری اور عمانی لیڈروں کی باتوں کو غور سے سننا چاہئے اور اس سنہرے موقع کوضائع نہیں کرنا چاہئے۔ ایران کے علاوہ علاقے کے تمام ممالک کے لیے بطور خاص اور دنیا بھر کے لیے بالعموم اس جنگ کا بند ہونا سود مند اور ضروری ہے۔
’ہم نہ رہے تو کوئی بھی نہیں رہے گا‘ کا نعرہ سننے میں جذبات سے بھرے لوگوں کو اچھا ضرور لگتا ہے لیکن جنگ جوئی کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کی زندگیوں کو مشکلوں سے بھردینے کا کوئی طریقہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ انسانیت سوز طریقہ چند لیڈروں کو اونچا نیچا تو ضرور کرسکتا ہے لیکن انسان اور انسانیت کے لیے المناک اور ہلاکت کا سبب ہے۔ جنگ میں موجود وقفہ بے حد قیمتی ہے۔ اب اس جنگ بندی کو بچانے اور ایران و امریکہ کے درمیان کوئی قابل عمل سمجھوتہ کراناہی انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔