پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد کردیا

  • سوموار 27 / جولائی / 2026

پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جموں و کشمیر تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

بھارتی وزیر دفاع کا بیان جموں و کشمیر تنازع کے حقائق کو مسخ کرتا ہے، بھارت کے بے بنیاد الزامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر قبضے سے توجہ ہٹانا ہے۔بیان کے مطابق بھارتی حکومت علاقائی اور عالمی امن و سلامتی خطرے میں ڈالنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ بھارت پاکستانی عوام اور حکومت کے غیر متزلزل عزم کو کمزور نہ سمجھے، پاکستان کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔معرکہ حق کے دوران پوری قوم اور مسلح افواج نے اس عزم کا مظاہرہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی اور داخلی عدم استحکام سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔عالمی برادری بھارت کے مسلسل جارحانہ طرز عمل کا نوٹس لے۔ بیان کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی ضمانت سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہے۔ اقوام متحدہ بھارت کو سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل نہ کرنے پر جوابدہ ٹھہرائے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو جارحانہ بیانات اور سیاسی دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کر سکتا۔پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیانات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو سیاسی بیانیے اور دباؤ کے ذریعے مسخ کرنے کی ایک اور کوشش  ہے۔ایسے بیانات نہ تو بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی خطے میں امن، استحکام اور بامعنی مذاکرات کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیر دفاع کے مطابق بھارتی قیادت کی حالیہ بیان بازی دراصل ملک کے اندرونی سیاسی بحران، بڑھتی ہوئی بے چینی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے آمرانہ اور تقسیم پیدا کرنے والے طرز حکمرانی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔