پاکستان کے وارث
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 27 / جولائی / 2026
کوئی اگر یہ سوچتا ہے نوجوانوں کے ذہنوں میں سوالات نہیں اُٹھ رہے وہ یا تو اُن سے دور ہے یا پھر کسی دیو مالائی دنیا میں رہتا ہے۔مجھے چند روز پہلے یونیورسٹی کے نوجوان ملے،ایسے ہی کبھی کبھار ملنے چلے آتے ہیں۔اُن میں سے ایک نے بہت اہم سوال پوچھا۔
اُس نے کہا بیس تیس سال پہلے جو لوگ پاکستان میں بہت اہم تھے وہ دنیا سے جا چکے ہیں اب یہ کہا جارہا ہے وہ تو بڑے اچھے اور ماہر و دیانتدار لوگ تھے، اُن کے جانے سے ایک خلا پیدا ہوا جو آج تک ہم پُر نہیں کر سکے۔یہی وجہ ہے ہمیں آج ہر شعبے میں ایک زوال نظر آتا ہے، کیا اس کا یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ اُس وقت کی یوتھ کو ایسے افراد کی موجودگی میں آگے آنے کا موقع نہیں دیا گیا جس کے باعث وہ اُن سے کچھ سیکھ نہ سکے۔ایک اور طالب علم بولا سر یہ آج جو لوگ ہمارے رہنما ہیں،کل کلاں یہ بھی دنیا میں نہیں ہوں گے تو کیا ہمیں ایک بڑے افرادی بحران کا سامنا نہیں ہو گا؟
میں اُن کے سوالات کی گہرائی اور اُن میں چھپی شدت و تشویش کو سمجھ گیا۔ میں نے کہا آپ سب نوجوان ہیں اور آپ کی یہ تشویش بالکل جائز ہے کہ آپ لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا جا رہا،اس وقت جتنی اہم ترین پوسٹیں ہیں اُن پر سینئر ترین لوگ براجمان ہیں جنہوں نے عمر کا بڑا حصہ گزار لیا ہے اور اوسط عمر کے حساب سے انہیں زندگی کا پیمانہ لبریز ہونے کے عمل سے گزرناہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ زندگی کے ہر شعبے میں نوجوانوں کو کم از کم پچاس فیصد ایسی پوسٹوں پر رکھا جائے کہ تجربے کی ایک منزل نوجوانوں میں بھی سرایت کرتی جائے، مگر ایسا ہوتا نہیں۔ریٹائرڈ افراد کی تقرریاں سب سے بڑا ظلم ہے، نوجوانوں پر نہیں بلکہ اس ملک پر کہ اس کی مستقبل کی قیادت کو آگے نہیں آنے دیا جا رہا۔
کسی زمانے میں سنتے تھے کہ دنیا گلوبل ویلج ہے،اُس وقت تو یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی اب اس ٹیکنالوجی کے دور میں یہ سب کچھ حقیقت بن چکا ہے۔بھارت میں نوجوانوں نے حالیہ عرصے میں جو کچھ کیا اُس کی تپش تو ہر جگہ پہنچی ہے،جب یوتھ اکٹھی ہو جائے تو اُس کی طاقت سے کون انکار کر سکتا ہے۔انڈیا کے نوجوانوں کو جب یقین ہو گیا کہ مودی سرکار اور اُس کے غاصبانہ سوچ رکھنے والے خواری نوجوانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں تو انہوں نے خود کو پہلوان ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ مان گئے کہ ہاں ہم کاکروچ ہیں، زمین کے کیڑے ہیں لیکن متحد ہو جائیں تو خاک امراکے درو بام ہلا دیتے ہیں، پھر انہوں نے ہلا بھی دیئے۔ یہ اچھا ہوا کہ مودی حکومت نے نوجوانوں کی طاقت کو مان لیا،اس سے نوجوانوں میں شعور بھی آئے گا اور مستقبل میں قیادت کا خلا بھی پیدا نہیں ہو گا۔
تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستانی یوتھ نے کبھی بھی قوم کو مایوس نہیں کیا۔اب مارشل لاؤں کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو اُن کے خلاف آواز اٹھانے والے اصل میں نوجوان ہی تھے،ابھی چند روز پہلے جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری امیر العظیم دنیا سے رخصت ہوئے تو اُن کی زندگی کے کئی ادوار ایسے تھے جو انہوں نے آمروں کو للکارتے ہوئے گزارے۔ ضیا الحق کے دور میں امیر العظیم ان کے لئے ایک بڑی مزاحمت بنے ہوئے تھے اور وہ نام لے کر کہتے تھے مزاحمت کرنے والا امیر العظیم ہو یا کوئی اور وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ایوب دور میں جو تحریک چلی اُس میں بھی نوجوان پیش پیش تھے۔ اس زمانے میں سب سے پہلی قربانی جودت کامران نے ملتان میں دی اور پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے۔نئی نسل جمہوریت کی دیوانی ہے اور اس کے لئے قربانیوں سے تاریخ کے صفحات بھر چکی ہے یہ سارا قصور ہماری سیاسی جماعتوں کا ہے کہ وہ ان قربانیوں پر جمہوریت کی مستحکم عمارت تعمیر نہیں کر سکیں۔انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے بڑے آدرشوں کو چھوڑ دیا۔
ضیا الحق کے زمانے میں ایک سیاہ فیصلہ یہ ہوا کہ تعلیمی اداروں میں یونین سازی پر پابندی لگا دی گئی، اس کے برے اثرات اس طرح برآمد ہوئے کہ تعلیمی اداروں میں گروپ و گروہ بندی کا رجحان بڑھ گیا۔ نسلی تعصب پروان چڑھا اور نوجوانوں میں قیادت کے جو اُوصاف پیدا ہوتے تھے وہ چھوٹے چھوٹے گروہی و طبقاتی مفادات کی نذر ہو گئے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں طالب علموں کی یونین سازی کو اُن کی تربیت کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تو پہچان ہی یہی ہے کہ وہاں نوجوانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لئے انتخابات ہوتے ہیں اور دنیا کے کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والا آکسفورڈ یونیورسٹی کا طالب علم اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اس عظیم تعلیمی ادارے کا صدر بن جاتا ہے ۔ اگر آپ دنیا کے بڑے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی زندگی پر نظر ڈالیں تو اُن کے پس منظر میں طالب علمی کے زمانے کی سیاسی تربیت نظر آئے گی۔
اب اس دور کہ میں جب خطہ ہو یا دنیا،ہر واقعہ، ہر تحریک اور ہر تبدیلی پلک جھپکنے میں نوجوانوں تک پہنچ جاتی ہے، کیا ہم نوجوانوں کے ذہنوں کو اس بات میں اُلجھا سکتے ہیں کہ دیکھو ابھی تمہارا وقت نہیں آیا۔ تم اپنے آپ کو سماج کے معاملات، تاریخ کے نظریات اور مستقبل کے اندیشوں سے دور رکھو، بس اپنی دنیا میں مست رہو۔ یہ ان حالات میں تو ممکن ہو سکتا تھا کہ جب ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو، جب بے روزگاری کا عفریت کاٹنے کو نہ دوڑتا ہو، جب ظلم و انصافی کی داستانیں قدم قدم پر منہ نہ چڑاتی ہوں اور جب اشرافیہ کی چیرہ دستیاں اِس قدر سفاک نہ ہوں کہ دم گھٹنے لگے۔یہاں تو سب کچھ اُلٹ ہو رہا ہے ایسے میں اگر ہم پرانی نسل والے یہ توقع کرنے لگیں کہ اکیسویں صدی کی یہ یوتھ اپنی آنکھیں اور کان بند کرکے، اپنے ذہن کی کھڑکی پر تالے ڈال دے تو یہ پرلے درجے کی احمقانہ سوچ ہو گی۔
دانشمندی تو یہی ہے اس نوجوان نسل کو اپنے ساتھ لے کر چلاجائے،اسے وہ نسل نہ سمجھا جائے جسے مختلف چکمے دے کر بہلایا جاتا رہا۔ یہ نسل بولنا بھی جانتی ہے اور سوچتی بھی ہے۔یہ ہماری نسل ہے اور اس ملک کے مستقبل کی وارث ہے اس پر مختلف لیبل لگانے کی بجائے سینے سے لگایا جائے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)