پاکستان کشمیر پر اپنا مقدمہ ہار رہا ہے!

آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کے ساتھ تصادم میں درجن بھر سے زائد افراد کےہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ تصادم ایک ایسے موقع پر ہؤا ہے جب آزاد کشمیر کے کچھ حصوں میں انتخابات منعقد کرائے گئے اور بیشتر نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔

اس موقع احتجاج اور تصادم کی صورت حال اور صرف ایک چوتھائی ووٹروں کی انتخابی عمل میں شرکت سے،  اس علاقے میں پائی جانے والی شدید بے چینی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔راولا کوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے زیر انتظام دھرنے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم منتظمین نے ایک بار پھر اس دھرنے کو لانگ مارچ میں تبدیل کرنے اور مظفر آباد پہنچنے کے لیے کارکنوں اور شرکا کو شہر کی طرف مارچ کا حکم دیا۔ حکومت پہلے ہی کسی بھی قسم کے لانگ مارچ کے ارادوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کرچکی ہے کہ اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس دوران میں حکومت نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی۔ بدقسمتی سے اس ساری صورت حال کے بارے میں خبروں کی ترسیل کو روکا جارہا ہے۔ اس لیے سچ جھوٹ میں تمیز کرنا ممکن نہیں ہے۔
تاہم جو اطلاعات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ایکشن کمیٹی نےبات چیت میں  کشمیر سے باہر مقیم   کشمیریوں  کے لیے مختص اسمبلی  کی 12نشستیں ختم کرنےکے مطالبے پر اصرار نہیں کیا تھا۔  بلکہ ایکشن کمیٹی پر سے پابندی ختم کرنے اور گرفتار لیڈروں اور کارکنوں کو رہا کرنے اور مقدمے  واپس لینے کا مطالبہ کیا  گیاتھا۔ آزاد کشمیر حکومت نے صرف جزوی طور سے مطالبے ماننے پر رضامندی ظاہر کی۔ اطلاعات کے مطابق  یہ وعدہ کیا گیا کہ ایکشن کمیٹی کا رویہ دیکھ کر  6ماہ بعد  پابندی ختم کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اسی طرح جن لوگوں پر قتل و غارت گری کے مقدمے قائم ہیں، ان کا فیصلہ عدالتوں میں ہی ہوگا۔ ایکشن کمیٹی کے وفد نے اتنی کم رعایت پر احتجاج کی کال واپس لینے سے انکار کردیا۔ اسی کے نتیجے میں حالیہ تصادم سامنے آیا ہے جس میں ہلاکتوں کی  تعداد کے بارے میں بدستور بے یقینی  ہے۔ مظاہرین شاید اپنے عزیزوں کی لاشیں کسی نہ کسی عذر کی وجہ سے ہسپتال لانا نہیں چاہتے اور پولیس  لاشوں کی گنتی کے بغیر مرنے والوں کی تصدیق  کرنے سے انکار کررہی ہے۔
ایکشن کمیٹی کا مقدمہ کئی حوالے سے کمزور ہے لیکن جب کوئی بھی گروہ  عوام کے ہجوم کو گھروں سے نکال کر کسی جگہ جمع  ہونے اور مسلسل کئی ہفتے تک دھرنا  دینے پر آمادہ کرتا ہے تو اس سے دو باتیں واضح  ہوتی ہیں: ایک یہ کہ عوام میں کسی نہ کسی معاملہ پر بے چینی پائی جاتی ہے۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کسی احتجاج کے لیے جو مطالبے منظر عام پر ہوں، اس میں شریک ہونے والے اسی مقصد سے باہر نکلے ہوں لیکن احتجاج کے لیے لوگوں کا گھروں سے نکلنا  بے چینی، محرومی اور غم و غصہ کا اظہار ضرور ہے۔ کسی حکومت کو اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسرا  یہ کہ حکومت  عوام کی کثیر تعداد  کو طویل عرصہ تک بے یار مددگار کسی علاقے میں محصور رہنے پر  مجبور نہیں کرسکتی۔ اختلاف اتفاق سے قطع نظر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں مناسب دیکھ بھال، خوراک اور سہولتوں تک رسائی دی جائے۔ مواصلت پر مکمل پابندی کی وجہ سے یا تو سرکاری اطلاعات ہیں یا  کالعدم  ایکشن کمیٹی کے بیانات ہیں جن میں  مبالغہ آرائی کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ایکشن کمیٹی کا احتجاج پر امن نہیں ہے۔ اس دعوے کو نہیں مانا جاسکتا کہ مظاہرین کے پاس  صرف چھڑیاں ہیں۔  سیاسی مقصد سے احتجاج کے لیے باہر نکلنے والوں کو  ڈنڈے اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہئے تاآنکہ ان کے پاس جدید اسلحہ ہو اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس اسلحہ سے ہلاک ہورہے ہوں۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے لیڈر حکومت آزاد کشمیر کی زیادتی یا غلط فیصلوں  کی آڑ میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی بھی تحریک تشدد  اختیار کرتی ہے تو وہ ریاست اور حکومت کو مزید تشدد استعمال کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ اس طرح وہ خود اپنے اصل مقصد سے بھٹک جاتی ہے۔ ایکشن کمیٹی کے موجودہ  احتجاج کے ساتھ بھی یہی افسوسناک صورت حال پیش آرہی ہے۔

اس وقت آزاد  کشمیر میں انتخابات منعقد کرائے جارہے ہیں۔ انہی انتخابات کے نتیجے میں جو اسمبلی منتخب  ہوگی غالباً وہی کشمیر سے باہر مقیم کشمیریوں کی مخصوص نشستوں کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔ اس پس منظر میں ایکشن کمیٹی کی طرف سے انتخابات  کا بائیکاٹ اور میر پور میں انتخابات کے روز ہی  لانگ مارچ  کے نام پر تصادم   کا راستہ اختیار کرنا غیر جمہوری اور غیر سیاسی  طریقہ ہے۔ آزاد کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ وہاں کے لوگوں ہی کو کرنا ہے اور جو گروہ  بھی  ان کی آواز بننے کا دعویدار ہو،   وہ انتخابات سے انکار کرکے کسی مطالبے پر اصرار نہیں کرسکتا۔ ایکشن کمیٹی کو اپنی اس غلط حکمت عملی پر  نظر ثانی کرنی چاہئے کیوں کہ صرف احتجاج اور لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے اور مرنے مارنے پر آمادہ کرکے کوئی سیاسی حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ حکومت اور ایکشن کمیٹی کو انا کے خول سے باہر  نکل کر  مفاہمت و مصالحت کا کوئی راستہ تلاش کرنا چاہئے۔ ورنہ  یہ مظاہرہ  درحقیقت آزادی کشمیر کے وسیع تر مقصد کو نقصان پہنچائے گا۔ اس سلسلہ  میں  بلاول بھٹو زرداری  کی طرف سے ’سچائی اور مفاہمتی کمیشن‘ قائم کرکے حقائق جاننے اور تصادم سے گریز  کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز بھی قابل غور ہونی چاہئے۔ لیکن  حیرت ہے کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ  آزاد کشمیر میں اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو یہ ’مشورہ ‘ دے رہے ہیں لیکن مقامی لیڈر ان کی بات سننے  پر تیار نہیں ۔

آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنے کے دوران مرحلہ وار  انتخابات کرانے اور پھر ہر مرحلے پر نتائج کا اعلان کرنے کا طریقہ بھی موجودہ ریاستی حکومت اور پاکستانی حکام   کی نیک نیتی پر متعدد سوالات کا باعث بن رہا ہے۔ آزاد کشمیر میں انتخابات تو ضروری ہیں تاکہ لوگوں کی رائے جانی جاسکے لیکن اس کے لیے امن و امان کی صورت حال بحال کرنا  بھی  بے حد اہم ہے۔ یہ بہتر ہوتا کہ انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے سے پہلے ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات طے کرلیے جاتے۔ لیکن بوجوہ ایسا نہیں کیا گیا۔ اب انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن)  کے امیدواروں کی واضح  کامیابی کا اعلان کرکے درحقیقت  آزاد کشمیر کے باقی ماندہ علاقوں میں یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ انتخابات میں کیا   نتائج آنے چاہئیں۔ یہ طریقہ کسی بھی  جمہوری روایت سے متصادم ہے اور اس سے منصفانہ و شفاف انتخابات کے دعوے  بھونڈے نعرے لگیں گے۔

اسلام آبا د میں پاکستانی حکومت اور دیگر حکام کو آزاد کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے جاننا چاہئے کہ اس طرح پاکستان کشمیر کے سوال پر اپنا مقدمہ ہار رہا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق شفاف استصواب کے ذریعے کشمیریوں کو کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ  کرنے کا حق دلوانا چاہتا ہے۔ لیکن انتخابات میں جعلی طریقوں اور ایک عوامی  تحریک کے  ساتھ تصادم ، درحقیقت یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کشمیریوں پر اپنی مرضی مسلط کررہاہے۔ اسے عوام کی رائے سے کوئی غرض نہیں ہے۔ بس  معاملات پر اس کا کنٹرول بحال رہنا چاہئے۔ اسی لیے پاکستان میں آباد کشمیریوں کے لیے مختص 12 اسمبلی نشستیں بحال رکھنے پر  اصرار کیا جارہا ہے۔   بدقسمتی سے  برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت نے کشمیر کو بھی آپس میں بانٹ لیا۔ بڑے حصے پر بھارت کا قبضہ ہے  اور باقی ماندہ کشمیر کو آزاد کشمیر کے نام سے پاکستان نے اپنی دسترس میں لے رکھا ہے۔ اس حصے  میں اب کشمیریوں کی آواز تو گم ہوچکی ہے البتہ پاکستانی سیاسی  پارٹیاں وہاں جاکر کسی بھی طریقے سے حکومت بنانے کی کوشش کرتی رہتی  ہیں۔ اس طرز عمل سے پاکستان عالمی پلیٹ فارمز پر کیسے یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس کا مقدمہ کشمیریوں کو حق خود اختیاری دلانا ہے جب  کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں  میں  گھٹن اور بے گانگی کا  احساس  راسخ ہورہا ہے۔

احتجاج اور اس میں اٹھائے جانے والے مطالبوں سے قطع نظر پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق کشمیریوں کا ہے۔  جس کشمیری علاقے پر  پاکستان کو انتظامی حق حاصل ہے، وہاں پر کشمیریوں کو مکمل خود مختاری دے کر  دنیا کے سامنے بہتر اور قابل تقلید مثا ل قائم  کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر آزاد کشمیر میں بھی پاکستانی حکومت ویسا ہی رویہ اختیار کرے گی جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کرتی ہے تو ان دونوں   میں اصولی طور سے کیا فرق رہ جائے گا؟