پاکستانی کشمیر میں دھاندلی اور تشدد کیوں؟

ہمارے پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں ان دنوں انتخابات ہو رہے ہیں جن کے نتائج کو پہلے ہی مرحلے میں متنازع بنا دیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان جو کہ اصل میں کشمیر ہی کا ایک حصہ ہے، وہاں کچھ ہی عرصہ قبل انتخابات ہوئے جن میں بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی جیتی، استحکام پارٹی کو بھی مفتے میں سیٹیں مل گئیں، ن لیگ کو کم ملیں۔

اس کے باوجود ن لیگ نے ان نتائج کو قبول کرتے ہوئے حکومت سازی میں پورا تعاون کیا۔ جبکہ میرپور کے پہلے انتخابی مرحلے میں ن لیگ کی 9 نشستیں حاصل کرتے ہوئے جیت ہوئی، بلاول کی پیپلز پارٹی نے 4 سیٹیں حاصل کرنے کے باوجود دھاندلی کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیئے۔ اس سے بھی تکلیف دہ امر یہ ہے کہ یہ انتخابات خون آلود یا خون میں بھیگے ہوئے ہیں۔ کالعدم عوامی ایکشن پارٹی کے لانگ مارچ میں جھڑپوں کے دوران نہ صرف ہمارے رینجرز کے ایک اہلکار شہید ہو گئے ہیں بلکہ پانچ پولیس والوں کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق ہو گئی ہے۔ جبکہ کالعدم عوامی ایکشن پارٹی کا کہنا ہے کہ ہمارے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی جس سے ہمارے 14 کارکنان شہید ہو گئے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے کتنے لوگ جاں بحق اور کتنے گھائل ہوئے ہیں، سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن جب ہمارے سرکاری لوگ شہید و زخمی ہوئے ہیں تو لازماً ان کے بھی کچھ نہ کچھ تو جان بحق ہوئے ہوں گے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور بلاول کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کا کیا کیا جائے؟ اگر ایک فریق انتخابی نتائج کو ہی تسلیم نہیں کرے گا بلکہ دوسرے فریق کے خلاف اتنی شدید زبان استعمال کرے گا تو آگے چل کر کیا معاملات مزید بگڑنہیں جائیں گے؟ ویسے حکمت عملی کے لحاظ سے بہتر یہی تھا کہ پورے انتخابات ایک ہی دن کروا دیے جاتے، یہاں ٹوٹل ووٹرز اتنے زیادہ تو نہیں کہ اس نوع کا اہتمام اتنا لٹکا لٹکا کر کیا جاتا۔ دوسرا مرحلہ دو اگست کو اورپھر تیسرا مرحلہ دس اگست کو سر کیا جائے گا۔ جیسے یہ کوئی جنگی محاذ ہے۔ بلاول کو بھی دھاندلی دھاندلی کھیلنے کی بجائے کم از کم اتنا ہی سوچنا چاہیے کہ اس وقت کشمیر میں انہی کی پارٹی حکمران ہے۔ سارے ڈپٹی یا اسسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر اہلکار انہی کے تعینات کردہ ہیں۔ دھاندلی کے مواقع حکمران پارٹی کے پاس ہوتے ہیں یا اپوزیشن کے پاس؟

نوازشریف اور مریم نواز نے آخری دنوں انتخابی مہم بڑے مؤثر اسلوب میں چلائی بلکہ درویش کو یہ اعتراض ہوا کہ تین مرتبہ کے منتخب پاکستانی پرائم منسٹر کے یہ شایان شان نہ تھا کہ وہ اس نوع کے الفاظ بولتے: میں اپنے بھائی شہباز شریف سے یہ کہوں گا کہ مجھے کشمیر کا پرائم منسٹر بنا دو، میں یہاں کے تمام مسائل حل کر دوں گا۔ اس کے برعکس انہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ یہاں سے ہمارا جو بھی ممبرمنتخب ہو کر اسمبلی میں آئے گا، میں اور میری پارٹی آپ کے مسائل حل کروانے کے لیے اس کے ساتھ پورا تعاون کریں گے۔ اس موقع پر مریم نواز نے کشمیریوں کے لیے جو ایئر کنڈیشنڈبسیں بھجوائیں، وہ بھی الیکشن کمیشن کی ہدایت پر رکوا دی گئی تھیں۔ بہرحال، کشمیریوں تک یہ پیغام ضرور پہنچا کہ ن لیگ ان کی محرومیاں دور کرنے کے لیے کچھ کر سکنے کی پوزیشن میں ہے۔ یہی سوچ موجودہ کی طرح اگلے دو مراحل میں ن لیگ کو کامیابی دلوا سکتی ہے۔ لیکن اصل فیصلے تو انہی کے اختیار میں ہیں جن کے حوصلے ہیں زیاد۔

ہمارے ملک میں سچ لکھنا اور بولنا بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔ طاقتوروں کے علاوہ متشدد جنونی ذہنیت کا بھی شدید دباؤ ہے، جن کے گماشتے گلی گلی دندناتے پائے جاتے ہیں۔ نارمل ریاستوں میں جو بات معمولی بلکہ ناقابل ذکر ہے، اسے جواز بنا کر یہاں سب سے بڑے ابلاغی ادارے جیو کو دو ہفتوں کیلیے بند کر دیا گیا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے اخبار جنگ یا قومی میڈیا پر کس قدر پریشر ہے۔ اسی وجہ سے درویش کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ قومی و ملکی امور و معاملات پر قلم اٹھانے سے گریز کرے اور زیادہ تر انٹرنیشنل ایشوز کو ہی موضوع بحث بنائے۔ وہاں بھی اس بات کا دھیان رکھے کہ چائنا، ایران یا فلاں فلاں ممالک کے خلاف کوئی لائن نہیں لکھنی۔ بھارت، اسرائیل یا فلاں فلاں ممالک کے حوالے سے کوئی حمایتی لائن نہیں لکھنی جس سےان کی کوئی خوبی یاسچائی واضح ہوتی ہو۔ یہ وہ جبر ہے جس کا درویش کو یہاں ہر لمحہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انڈین کشمیر میں حکومتی زیادتیوں کے خلاف ہم بلا دریغ جو چاہیں لکھ بول سکتے ہیں، کوئی دقت یا اعتراض نہیں۔ بلکہ جتنی چاہیں مبالغہ آرائی اور نمک مصالحے کا استعمال کریں، وہاں کے متشدد جہادیوں کو ہم نے بہرصورت مظلوم دکھانا ہے۔ اس کے برعکس اپنے والے کشمیر میں ہم نے عوامی حقوق کے لیے چلنے والی تحریک کو بہر صورت ملک دشمن، انڈین ایجنٹ اور دہشتگرد ثابت کرنا ہے۔ چاہے وہ لاکھ روئیں کہ ہم محض اپنے عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ہماری تو تنظیم کا نام ہی کوئی لشکری یا جہادی نہیں۔ جموں وکشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی ہے، جو لوکل کشمیری تاجروں، ٹرانسپورٹروں، محنت کشوں، طالب علموں اور وکلا پر مشتمل ہے۔ یہ سب یہاں کے عام شہری ہیں۔ ہم عام کشمیریوں کے حقوق، بڑھتی ہوئی مہنگائی، گندم آٹے کی قیمتوں میں کمی کی بات کرتے ہیں۔ اشرافیہ کی ناروا مراعات، سرکاری وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، ناجائز ٹیکسوں کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں نہ صرف یہ کہ کالعدم قرار دے دیا گیا ہے، بلکہ ہمارے کارکنان کو جس طرح پکڑا اور مارا جاتا ہے،۔اس کی تفصیلات دل دہلا دینے والی ہیں۔

یہ سب کچھ سنتے دیکھتے ہوئے ہم لکھاری لوگ تجاہل عارفانہ سے کہتے ہیں، عوامی ایکشن کمیٹی والو، تم ہمارے مقدس اداروں پر بہتان لگاتے ہو، بھلا وہ آپ کے خلاف کیسے زیادتی کر سکتے ہیں؟ وہ ہیں تو ہمارا یہ تھوڑا سا کشمیر ہمارے پاس ہے، پورے کو حاصل کرنے کے لیے کشمیر ایشو کو انہوں نے زندہ کر رکھا ہے۔ وہ نہ ہوں تو آپ لوگ بھی ہمارے چنگل سے نکل جاؤ۔ اس لیے ان کی مداح وستائش تو بنتی ہے۔ اگر احتجاجی مظاہروں میں بقول تمہارے اب تک تیس یا پینتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں یا تین سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں، تو دوسری طرف بھی دیکھو ہمارے کتنے جوان تمہارے احتجاج کی وجہ سے جھڑپوں میں شہید ہوئے ہیں۔ درویش نے اس حوالے سے جو اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں، ان کے مطابق پہلے مرحلے میں بجلی کے ایشو پر 4 ہلاکتیں ہوئیں، تین مظاہرین اور ایک فوجی کی، جبکہ زخمیوں کی تعداد سو سے زائد تھی۔ 12 مہاجر نشستوں اور سڑکیں کھلوانے کے دوران 6 مظاہرین، 2 سیکیورٹی کار اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ابھی 14 جولائی کو بھی 9 ہلاکتیں تصدیق شدہ رپورٹ ہوئیں اور زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

اگرچہ اس سلسلے میں ہر دو طرف مختلف اعداد و شمار بیان کیے جا رہے ہیں لیکن یہ امر واضح ہے کہ ہم جس خون ریزی کا رونا انڈین کشمیر میں روتے تھے، آج وہ ہمارے کشمیر میں بپا ہے۔ ابھی انڈیا کے بڑے بڑے شہروں میں لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکلے، پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں، لیکن کوئی ایک بندہ نہیں مرا۔ بالآخر وہ نوجوان اپنے مطالبات منوا کر اٹھے۔ آخر ہمارے یہاں احتجاج کو اتنا سنگین جرم کیوں سمجھا جاتا ہے کہ درجنوں انسان مریں، سینکڑوں زخمی ہوں، پھر بھی احتجاج کرنے والے سڑکوں پر رو رہے ہوں یا جیلوں کو بھر رہے ہوں اور نہ ہی اپنا اصل جائز مطالبہ منوا پا رہے ہوں۔ الٹے اپنی پارٹی پر پابندی لگواتے ہوۓ، اسے کالعدم قرار دلوا لیا ہو۔

سچائی تو یہ ہے کہ عوامی ایکشن پارٹی کا 12 جعلی نشستوں والا مطالبہ قطعی حق بجانب ہے۔ وہ لوگ کشمیر میں بسنے والوں کے ہرگز نمائندہ نہیں بلکہ ان کے انتخابی فیصلے کو تہس نہس کرنے کا مجرب ہتھیار ہیں۔ مگر ایشو یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون۔ جب یہ لوگ خود اسمبلی میں موجود ہوں گے تو امینڈمنٹ کیسے ہو سکے گی؟ ان انتخابات کی کریڈیبلٹی تو بہرحال مجروح ہوئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان میں محض ایک چوتھائی ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں کیونکہ دو بڑی پارٹیوں پی ٹی آئی اور جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔کشمیر کی اسی عوامی ایکشن پارٹی نے تو کافی دنوں سے راولا کوٹ میں دھرنا دے رکھا تھا۔ ایسےگرم موسم اور دگرگوں حالات میں، اتنا طویل دھرنا خاصا مشکل تھا۔ شاید اسی لیے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت نے حکومت سے مذاکرات میں اپنے سب سے بڑے 12 ناجائزسیٹوں والے مطالبے سے بھی کم از کم اس وقت دستبرداری کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ہمارے اوپر بنائے گئے مقدمات ختم کرتے ہوئے ہمارے گرفتار لوگوں کو رہا کر دیا جائے تو ہم دھرنا ختم کیے دیتے ہیں۔ مگر جب ان کا یہ مطالبہ بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ الٹا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے انہیں غدار ملک دشمن اور دہشت گرد قرار دیا گیا۔

پرائم منسٹر کے مشیر رانا ثنااللہ  نے یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت اور ریاست کے خلاف اس وقت تربیت یافتہ جہادی برسر پیکار ہیں۔ فوری سوالات اٹھے کہ یہ تربیت یافتہ جہادی تیار کس نے کیے تھے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ جب عوامی ایکشن کمیٹی والوں نے راولاکوٹ سے لانگ مارچ کرتے ہوئے مظفر آباد جانے کی کوشش کی تو ان کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ سیدھی گولیاں ماری گئیں اور بہت سی اطلاعات ہیں کہ ہلاکتیں کافی زیادہ ہوئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایئر فورس کے ایک سکواڈن لیڈر کا باپ بھی ایکشن کمیٹی کے اس مارچ میں جان بحق ہو گیا۔ اسلام آباد کی جناح یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر اسامہ جمیل، ایک باصلاحت نوجوان، بھی اسی جگہ خون میں نہا گیا۔

ایکشن کمیٹی کو بھی چاہیے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لے، مزید نرمی دکھائے کیونکہ یہاں اس نوع کی ڈیموکریسی نہیں جس میں احتجاج کی تحسین یا گنجائش ہو۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ تشدد ہمیشہ تشدد کو ہی جنم دیتا ہے۔