آئی ایم ایف کا باقاعدہ شکریہ
- تحریر یاسر پیرزادہ
- بدھ 29 / جولائی / 2026
’قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں، رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن‘ ۔ اِس میں دو رائے ہو سکتی ہیں کہ اقبال کے تصورِ پاکستان کو جناح صاحب کُلی طور پر عملی جامہ پہنا سکے یا نہیں البتہ غالب کے تصورِ عیاشی کو ہم نے قومی شعار ضرور بنا لیا ہے۔
مرزا، ڈومنی کے طلبگار تھے اور ہم شاہ خرچیوں کے دلدادہ ہیں۔ باقی معاملہ مِن و عن وہی ہے۔ فاقہ مستی بھی وہی اور یہ امید بھی کہ رنگ کسی دن خود بخود آ جاوے گا۔ وہ تو بھلا ہو آئی ایم ایف کا جس نے ہمیں لگام ڈال دی ہے ورنہ ہم نے اپنا دیوالہ نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ پاکستان میں آئی ایم ایف ایک گالی ہے۔ جلسے میں اِس کا نام لے لیں تو تالیاں مفت ملتی ہیں، ٹاک شو میں ذکر چھیڑ دیں تو ریٹنگ خود چل کر آتی ہے اور کالم میں اِسے سامراجی طاقتوں کا ہتھیار لکھ دیں تو قارئین کی طرف سے حب الوطنی کی سند مل جاتی ہے۔ چلیے اپنی فاقہ مستی کا حساب کرتے ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے چند مہینے پہلے سینیٹ میں جو تفصیل رکھی، وہ کسی نوحے سے کم نہیں۔ مالی سال 2025 میں ہم نے قرضوں کے سود کی مد میں تقریباً 8.90 کھرب ادا کیے، چار برس میں یہ تین گنا اضافہ ہے۔ یہ وہ رقم ہے جس کے بدلے میں قوم کو نہ کوئی سڑک ملی، نہ اسکول، نہ اسپتال، حتّیٰ کہ ایک نلکا بھی نہیں۔ یہ محض اُس مے کی قیمت تھی جو ہم کب کی پی چکے ہیں۔ اور جن برسوں میں یہ بل تین گنا ہوا، اُن برسوں میں ہمارے ٹی وی چینلز پر شام سات سے رات بارہ بجے تک وہ تمام موضوعات زیرِ بحث آتے رہے جن کا اِن ہندسوں سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔
سود کی ادائیگی تین گنا ہو گئی اور ملک کی کسی ایک سیاسی جماعت نے بھی، دائیں والی نے اور نہ بائیں والی نے، نہ مذہبی نے اور نہ لبرل نے، اِسے اپنا نعرہ بنایا۔ یہاں انٹری ہوتی ہے آئی ایم ایف کی۔ اِس آئی ایم ایف نے اصلاحات کی ایک فہرست ہمارے ہاتھ میں تھمائی اور کہا کہ آج کے بعد آپ لوگ قرض کے پیسوں سے کوئی منصوبہ نہیں بنائیں گے اور نہ کوئی خرچہ کریں گے۔ نتیجہ اِس کا یہ نکلا کہ جون 2024 پر ختم ہونے والے سال میں ہماری حکومت کی آمدنی کے ہر ایک روپے میں سے 61 پیسے سود کی نذر ہو رہے تھے جو اگلے سال گھٹ کر 49 پیسے رہ گئے۔ (ملاحظہ ہو روزنامہ ڈان میں پروفیسر علی حسنین کا مضمون) ۔ سننے میں یہ ریزگاری لگتی ہے مگر جب آمدنی کھربوں میں ہو تو ہر پیسہ اربوں کا ہوتا ہے۔ پرائمری سرپلس، یعنی سود کو ایک طرف رکھ کر آمدنی اور خرچ کا حساب، پچیس برس میں پہلی بار ہمارے حق میں ہوا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں یہ سرپلس 2.80 کھرب روپے رہا جبکہ پچھلے سال اِسی عرصے میں ڈیڑھ کھرب تھا۔ حکومت نے کمرشل اور اسٹیٹ بینک کے کوئی 2600 ارب روپے کے قرضے میعاد سے پہلے ادا کیے۔
قبل از وقت ادائیگی کا تو تصور ہی ہمارے ہاں اجنبی تھا، ہم تو وہ لوگ ہیں جو مقررہ تاریخ پر ادائیگی کو بھی جلد بازی سمجھتے آئے ہیں۔ مگر بچت کی یہ توفیق اِس لیے نہیں ہوئی کہ ہم پر کوئی روحانی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ توفیق اِس لیے ہوئی کہ آئی ایم ایف پروگرام نے ہماری مُشکیں کس دی تھیں۔ جس گھر میں بہو خرچہ اِس لیے کم کرے کہ ساس نے الماری کی چابی اپنے پاس رکھ لی ہے، اُس گھر میں کفایت شعاری کو خاندانی روایت نہیں کہا جا سکتا۔ آج بنیادی مدعا یہ نہیں کہ آئی ایم ایف ہمارا مسیحا ہے یا نہیں، استدعا صرف اتنی ہے کہ کوئی بھی تصور اپنے ذہنوں میں راسخ کرنے سے پہلے حقائق کی پڑتال کر لینی چاہیے۔ ہمارے تصورات کی بستی کا سب سے پرانا مکین آئی ایم ایف ہے۔ ہم نے کبھی اُس کی کوئی دستاویز نہیں پڑھی، کبھی اُس کی شرائط کی فہرست نہیں دیکھی، بس اتنا طے کر لیا کہ یہ امریکہ کا گماشتہ ہے اور ہمیں غلام بنانے آیا ہے۔ اور ”ہم کوئی غلام ہیں!“ چلیے ہو گا امریکہ کا گماشتہ۔
مگر عقل کا تقاضا یہ ہے کہ بات کہنے والے کا شجرہ بعد میں دیکھا جائے، پہلے یہ دیکھا جائے کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ آدھی رات کو کوئی اجنبی دروازہ پیٹ کر کہے کہ تمہارے گھر میں آگ لگی ہے تو دانش مندی یہ ہے کہ پہلے آگ بجھائی جائے۔ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ جو ادارے ہر سال اربوں ڈکار جاتے ہیں اُن کا علاج کرو۔ وہ کہتا ہے بجلی اُس دام پر بیچو جس دام پر بنتی ہے اور جو رعایت دینی ہے وہ صرف اُسے دو جو واقعی مستحق ہے۔ وہ کہتا ہے قرض کے پیسوں پر شادیانے مت بجاؤ۔ اِن میں سے کون سی بات ہمارے خلاف ہے؟ آئی ایم ایف وہ حکیم ہے جس نے نہ صرف ہمیں پرہیز بتایا ہے بلکہ اُس پر عمل بھی کروایا ہے۔ حکیم جب تک کشتہ دیتا رہے تو ٹھیک ہے، جس دن پرہیز بتا دے اُس دن یہود و ہنود کی سازش بن جاتا ہے۔ ”آئی ایم ایف کا کشکول توڑ دیں گے“ ۔ کیا خوبصورت نعرہ ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ کشکول نہیں بلکہ وہ چھڑی ہے جو اندھے کو راستہ تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سو، اگر نعرہ ہی لگانا ہے تو یوں لگائیے کہ ہم وہ دن لائیں گے جب اِس چھڑی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ چھڑی توڑنے کا نعرہ تو وہی بگڑا بچہ لگاتا ہے جسے سبق یاد نہیں ہوتا۔ اوہ سوری، مار نہیں پیار تو میں بھول ہی گیا تھا۔
اِس فنانشل ڈسپلن میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔ بقول یوسفی صاحب ”گو کہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن سکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔ اب وہی ذریعہ معاش ہے۔“ بطور قوم ہم بھی اپنے اللے تللوں کو فخر سے بیان کرتے ہیں اسی لیے آئی ایم ایف کا چابک جب ہماری پیٹھ پر پڑتا ہے تو منہ سے گالی ہی نکلتی ہے۔ ہم پر حد باہر والے نے باندھی ہے، نگرانی باہر والا کر رہا ہے، اور خوف بھی باہر والے کا ہے۔
ہم نے اُس مشین کی مرمت نہیں کی جو یہ خرابی پیدا کرتی تھی، صرف اُس کا پلگ نکالا ہے۔ کرائے کے ضبط کا مسئلہ یہ ہے کہ اُس کی میعاد ہوتی ہے۔ پروگرام ختم ہو گا، مشن واپس جائے گا، اور تب پتا چلے گا کہ ہم نے واقعی اِس گھر کی ملکیت سنبھالی تھی یا صرف اُس وقت تک تمیز سے بیٹھے رہے تھے جب تک مالک مکان معائنے کے لیے آتا رہا۔ بہرحال اُس وقت تک آئی ایم ایف کا باقاعدہ شکریہ کہ اُس نے ہماری فاقہ مستی کو وہ رنگ نہیں لانے دیا جو غالب کے حصے میں آیا تھا۔ مرزا کم از کم شعر کہہ کر قرض خواہوں کو ٹال لیتے تھے، ہمارے پاس تو وہ سہولت بھی نہیں۔
کالم کی دُم: آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر اگر یہ کالم پڑھ رہی ہیں تو اُن سے گزارش ہے کہ اپنا ای میل ایڈریس عنایت فرمائیں، تاکہ فدوی اپنا سی وی بھیجے اور ملک و فنڈ کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)