محسن نقوی ریٹائر ہوں گے یا صدر بنیں گے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 30 / جولائی / 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے۔ ملک کو چلانا ہے تو تمام سیاسی پارٹیوں کو مل کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ زیادہ انتظامی یونٹ بنانے اور موجودہ جمہوری نظام میں ضروری اصلاح کا اہتمام کرنا ہوگا ۔ورنہ کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔
وزیر محترم کی ان باتوں میں پاکستانی شہریوں کے لیے کوئی خبر نہیں ہے البتہ یہ خبر ضرور ہے کہ حکومت کا سب سے طاقت ور وزیر اس نظام کی ناکامی کا اعلان یا اعتراف کررہاہے جس سے عوام عاجز و بیزار ہیں۔ محسن نقوی نے ان انکشافات کے لیے ایک ایسے پلیٹ فارم کا انتخاب کیا جس میں ملک کے طاقت ور سرمایہ کار موجود تھے جن کے بارے میں انہوں نے خود ہی فرمایا کہ ’ سیاسی نظام چلانے والے بھی اسی ہال میں موجود ہیں اور سیاسی نظام کو فنڈنگ کرنے والے بھی یہیں بیٹھے ہیں۔ کوئی کسی مجبوری اور کوئی کسی مجبوری میں فنڈنگ دیتا ہے۔ جس دن آپ لوگوں نے فیصلہ کر لیا یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا، اس نظام میں ہر چیز بری نہیں ہے‘۔ تاہم محسن نقوی اگر بڑی بڑی باتیں کرتے ہوئے یہ بھی بتا دیتے کہ وہ یہ پیغام کس کی طرف سے براہ راست ملک کے ’اہم ترین لوگوں‘ تک پہنچا رہے ہیں تو ان شہریوں کو سہولت ہو جاتی جو اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ شاید حکومت ہی نظام کا نام ہے اور اس وقت وزیر اعظم اور ان کے شرکائے کار سمیت سب کا یہی دعویٰ ہے کہ ملک ترقی کی طرف سرپٹ بھاگ رہا ہے۔
اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ محسن نقوی نے یہ پیغام ان طاقتوں کی طرف سے عام کیا ہے جو موجودہ جمہوری سیٹ اپ سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس کی تبدیلی کے لیے کبھی اٹھائیسویں ترمیم کی بات کی جاتی ہے او رکبھی عوام کو بتایا جاتا ہے کہ خرابی جمہوریت میں نہیں ہے بلکہ اس جمہوری طریقے میں ہے جس کے تحت ملک میں انتخابات ہوتے ہیں اور نظام حکومت چلایا جاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں اس سچائی کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ملکی اسٹبلشمنٹ بہت عرصے سے ملک میں صوبوں کی تعداد بڑھانے اور پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام لانے پر اصرار کرتی رہی ہے۔یہ مطالبہ یا خواہش کوئی نئی نہیں ہے بلکہ تحریک انصا ف کی حکومت کے دور میں اس بارے میں زور شور سے باتیں ہوتی رہی ہیں۔ وہ تو عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے سرکردہ لوگوں کے درمیان دیگر معاملات پر اس حد تک دوری پیدا ہوگئی کہ اسی نظام میں رہتے ہوئے عدم اعتماد کے ذریعے ایک منتخب حکومت ختم کرنے کی روایت متعارف کرانا پڑی۔ اور بعد میں انتخابات کے ذریعے ایک ایسی حکومت لانے کا اہتمام کیا گیا جو پارلیمانی نظام کی پیدا وار ہونے کے باوجود اس اہل سمجھی گی تھی کہ ہائبرڈ نظام کی کامیابی کی ضامن بن سکے۔
شہباز شریف اپنی اسی خوبی کی وجہ سے خود کو ’ناقابل تسخیر‘ سمجھتے رہے ہیں۔ یعنی انہیں یقین ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی چاکری و خوشامد میں جو ید طولی انہیں حاصل ہے، ملک بھر میں کوئی دوسرا ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اسی لیے ان کی کرسی ’پکی‘ ہے۔ تاہم محسن نقوی کے تازہ فرمان سے پہلے ہی اسٹبلشمنٹ کے قریب صحافیوں اور کالم نگاروں نے یہ خبر دینا شروع کردی تھی کہ یہ نظام ڈیلیور نہیں کرپارہا ، اس لیے اس کا چلنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ تاہم ان خبروں کو بے پر کی قرار دے کر مسترد کردیا گیا اور شہباز شریف اپنی سفارتی کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے فیلڈ مارشل کے ساتھ اپنی ارادت مندی کے اعلانات کرتے رہے ۔ ان کا خیال تھا کہ ان کی سب سے بڑی کارکردگی یہی ہے کہ عسکری قیادت ان سے مطمئن ہے۔ تاہم بار بار یاددہانی کے باوجود ، وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ جب تک عوام مطمئن نہ ہوں اور ملکی معاشی نظام عام شہریوں کے لیے کچھ سہولتیں پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو ، عسکری سرپرست بھی کسی سیاست دان کو تاحیات اقتدار کی ضمانت فراہم نہیں کرتے۔
محسن نقوی کا پیغام درحقیقت یہ بتا رہا ہے کہ موجودہ حکومت پر اسٹبلشمنٹ کا اعتماد کم ہؤا ہے اور اب شاید وہ اس حد تک کمزور ہوچکا ہے کہ موجودہ حکومت کو لپیٹنے کے اشارے دیے جارہے ہیں جسے عرف عام میں نظام کہا جارہا ہے ۔ البتہ اگر محسن نقوی کی باتوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے ابھی تک ملک کے پارلیمانی نظام کو تبدیل کرنے اور انتظامی یونٹوں (صوبوں) کی تعداد میں اضافہ کرنے کا ارادہ رترک نہیں کیا ۔ موجودہ پالیمانی نظام ملک کے آئین کا ناقابل ترمیم حصہ ہے اور آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کیے بغیر اسے بدلنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ پارلیمانی نظام پاکستان ہی نہیں دنیا کے متعدد ممالک میں کامیابی سے چلایا جارہا ہے لیکن پاکستان میں وقفے وقفے سے یہ بحث ضرور سننے میں آتی ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام ملکی ضرورتوں اور عوامی مزاج کے مطابق نہیں ہے ، اس لیے صدارتی نظام ہی اس ملک میں زیادہ کامیاب رہے گا۔ البتہ یہ دلیل دینے والوں کو تین فوجی حکمرانوں کے طویل ادوار یاد نہیں رہتے جنہوں نے فرد واحد کی حکمرانی قائم کرکے ملک پر لگ بھگ ایک ایک دہائی حکومت کی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہا۔ تجزیہ نگاروں کی اکثریت اس بات سے متفق ہوگی کہ اس وقت پاکستان کو جن سیاسی و اسٹریٹیجک مسائل کا سامنا ہے ان کی بنیاد انہیں تین ادوار میں رکھی گئی۔ تفہیم کے لیے انہیں ایوب خان ، ضیا الحق اور پرویز مشرف کے ادوار کہا جاسکتا ہے۔
اس کے باوجود محسن نقوی نے آج اسلام آبا دمیں دل کا حال بیان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’ ہم سب جمہوریت چاہتے ہیں اور جمہوریت کے بڑے سپورٹر ہیں۔ لیکن جمہوریت کے اندر بھی تین، چار نظام ہیں۔ مگر ہم لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔ ایک ہی نظام کو گھسیٹے چلے جارہے ہیں‘۔ گویا انہوں نے پیغام دیا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہوچکا ہے ، اس لیے صدارتی طریقہ اختیار کیے بغیر معاملات درست ہونے کا امکان نہیں ہے۔ محسن نقوی نے فی الوقت سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سب مل کر بیٹھ جائیں۔ پھر چاہے ہفتہ لگے یا سال، کوئی ایسا طریقہ سوچیں کہ ملک موجودہ مسائل اور ناکامی سے باہر نکل سکے۔ یعنی ملک میں زیادہ انتظامی یونٹ بنائے جائیں اور صدارتی نظام کی طرف پیش رفت کی جائے۔ البتہ ان کی تقریر سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اگر ملک میں صدارتی جمہوری نظام آگیا تو کیا محسن نقوی صدر بنیں گے یا وہ حال ہی میں ایک ممتاز صحافی کو دیے گئے مشورے کے مطابق ریٹائر ہونے کو ترجیح دیں گے۔ یادش بخیر روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے جب موجودہ حکومت کے دن گنے جانے کی پیش گوئی پر مشتمل کالموں کی سیریز لکھی تھی تو اس وقت سہیل وڑائچ سے ذاتی دوستی کے باوجود محسن نقوی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اب ’ناکارہ‘ ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں ریٹائر ہوجانا چاہئے۔ اس وقت یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ محسن نقوی شاید مستقبل کا وزیر اعظم بننے کی خواہش میں موجودہ نظام کی ’حفاظت‘ کے لئے سینہ سپر ہورہے ہیں۔ البتہ اب انہوں نے خود اس نظام کے ’ڈھیر‘ ہونے کی خبر دی ہے۔
محسن نقوی نے ’کاکروچ جنریشن‘ کا خوف دلا کر اپنے ہی وزیر اعظم کو بدحواس کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوان چاہتے ہیں سسٹم کو ٹھیک کیا جائے، انہیں جائز طریقے سے ملازمت ملے۔ نوجوان نسل نوکریاں اور اپنا حق مانگتی ہے۔ اگر یہ ’کا کروچ ‘ اکٹھے ہوگئےتو ہر چیز الٹ سکتے ہیں‘۔ تاہم یہ ڈراوا دیتے ہوئے محسن نقوی بھول گئے کہ وہ کسی میرٹ کے بغیر وزیر داخلہ کے علاوہ اور کرکٹ کنٹرول بورڈ کے سربراہ بھی ہیں۔ بلکہ حال ہی میں ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے میں انہوں نے وزیر خارجہ و وزیر دفاع کے ’اختیارات‘ بھی بے دریغانہ استعمال کیے ہیں۔ وہ شاید یہ بھی فراموش کربیٹھے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے رکن نہیں تھے ۔ وزیر بننے کے لیے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مہربانی سے ملنے والے ووٹوں سے انہیں ’سینیٹر‘ بنوایا گیا تھا۔ دوسروں کو میرٹ کا درس دینے والے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں تو شاید مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی حل ہوجایا کریں۔
اسلام آباد کے اجلاس میں دیا گیا پیغام البتہ شہباز شریف کے لیے ایک سخت وارننگ ہوسکتی ہے۔ ورنہ موجودہ حکومت کے دن گن جانے کی جو باتیں اب تک غیر سرکاری طور سے تجزیے یا افواہوں کی صورت میں کی جارہی تھیں، اب سرکاری طور سے ان کی تصدیق سامنے آچکی ہے۔