طبی لیبارٹریوں کا گورکھ دھندہ

پاکستان میں طب کا شعبہ سب سے بڑی لوٹ مار،بھیڑ چال اور جنجال کا شکار ہے۔تاہم کل ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب کی داستان سن کر میں نے سوچا اُن طبی لیبارٹریوں کے بارے میں بھی حکام کی توجہ دلائی جائے جو ہر گلی محلے میں کھل گئی ہیں اور ڈاکٹروں کی آشیر باد یا کرم فرمائیوں سے سادہ لوح مریضوں کو لوٹ رہی ہیں۔

خیر پہلے پروفیسر صاحب کا قصہ سن لیجئے۔وہ بتاتے ہیں انہیں پیٹ میں تکلیف ہوئی تو ایک ڈاکٹر کے پاس گئے۔انہوں نے تھوڑی بہت جان پرکھ کے بعد کہا، میں پیٹ کے ایک دو ٹیسٹ لکھ رہا ہوں وہ ساتھ ہی موجود لیب سے کرا لیں۔ آج ہی رپورٹ مل جائے گی تو میں دوا تجویز کر دوں گا۔ پروفیسر صاحب نے بلڈ اور پیشاب کے دو ٹیسٹ کروائے، پانچ ہزار روپے لگ گئے۔جب رپورٹ کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گئے تو انہوں نے کہا پیٹ میں بیکٹیریا ہے،اُسے ختم کرنا پڑے گا وگرنہ وہ السر اور خدانخواستہ آگے چل کر کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے ادویات لکھ دیں اور ہفتہ بعد دوبارہ آنے کا کہا۔ پروفیسر صاحب مہنگی گولیاں اور سیرپ لیتے رہے،کوئی فرق نہ پڑا، کسی نے مشورہ دیا اچھے گیسٹرولوجسٹ کو دکھائیں۔ مرتا کیا نہ کرتا وہ اس کے پاس چلے گئے۔اُس نے تین ہزار روپیہ فیس لے کر معائنہ کیا اور Stool for h Pylori Antig نامی ٹیسٹ لکھ دیا اور یہ ہدایت بھی کہ فلاں لیبارٹری سے کرائیں،کیونکہ یہ عام ٹیسٹ نہیں ہے۔ وہ اُس لیبارٹری میں گئے اور ڈاکٹر صاحب کا نسخہ دکھایا۔لیب والوں نے بتایا یہ ٹیسٹ 9ہزار میں ہو گا۔ یہ سن کر پروفیسر صاحب چکرا کر رہ گئے۔انہوں نے ایک دوست کو فون کیا، اُس نے کہا فلاں لیبارٹری سے تین ہزار روپے میں ہو جائے گا مگر پروفیسر صاحب نے اسے بتایا ڈاکٹر صاحب نے سختی کے ساتھ اسی لیبارٹری سے کرانے کوکہا ہے۔وہاں سے کرا بھی لیا تو وہ مانیں گے نہیں۔

کاؤنٹر پر بیٹھی ہوئی لڑکی پروفیسر صاحب کی اضطراری حالت کو بھانپ گئی،اُس نے کہا آپ ہمارا ممبر شپ کارڈ بنوا لیں بیس فیصد رعایت مل جائے گی۔ پروفیسر صاحب نے سوچا جاتے چور کی لنگوٹی ہی سہی، کچھ تو بچتا ہے،ممبر شپ کارڈ بنوا کر سات ہزار سات سو میں ٹیسٹ جمع کرا دیا۔اگلے دن رپورٹ آئی تو اُس پر لکھا ہوا تھا،’ نیگیٹو‘۔ وہ ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور پوچھا اس رپورٹ کا مطلب کیا ہے۔ گیسٹرولوجسٹ ڈاکٹر نے کہا اس کا مطلب ہے آپ کے پیٹ میں کیڑا نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا اب شاید آپ کو اینڈوسکوپی کرانی پڑے۔ پروفیسر صاحب کہتے ہیں یہ سن کر وہ پریشان ہو گئے ۔یہ تو مزید مہنگا ٹیسٹ ہو گا اور سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ کیسے برداشت کریں گے۔ انہوں نے ڈاکٹر  سے کہا فی الحال آپ کوئی دوا تجویز  کر دیں،کچھ دن بعد آرام نہ آیا تو یہ ٹیسٹ بھی کرا لوں گا۔ وہ درحقیقت ڈاکٹر صاحب سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔قصہ مختصر وہ اپنے آبائی علاقے کے اُس ڈاکٹر کے پاس گئے، جس سے شہر آنے سے پہلے علاج کراتے تھے۔اُس نے تسلی سے بات سنی اور کہا آنتوں کی سوزش کا مسئلہ  ہے خوراک میں احتیاط اور چند ادویات سے ایک ہفتے میں ٹھیک ہو جائے گا۔ وہی ہوا وہ ہفتے بعد ٹھیک ہو گئے اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ مزید ٹیسٹ کرانے والے ڈاکٹروں کے ہتھے نہیں چڑھے۔اب اس ایک واقعہ کے بعد آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اِس وقت طب کے شعبے میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ڈاکٹر کی فیس اگر دو  ہزار روپے ہوتی ہے تو وہ دس بارہ ہزار روپے کے ٹیسٹ لکھ دیتا ہے جن کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔ ملتان میں سانس کی بیماری کے ایک ڈاکٹر جن کا اپنا ہسپتال بھی ہے اور اس میں لیبارٹریاں بھی ہیں۔ ہر مریض کو بیس پچیس ہزار روپے کے ٹیسٹ لکھتا ہے اور پھر اُس تک مریض پہنچ سکتا ہے۔ خیر یہ تو بڑے ڈاکٹروں کی کہانی ہے، اصل سوال یہ  ہے کہ طبی لیبارٹریاں خود رو پودوں کی طرح کیسے اُگ آئی ہیں۔آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں گے تو کئی ایسے بورڈ نظر آئیں گے جن پر کسی لیبارٹری کا نام لکھا ہو گا۔اب تو سوشل میڈیا پر بھی ایک یلغار نظر آتی ہے،لیبارٹریاں دس ٹیسٹوں کی فیس دو چار ہزار مانگتی ہیں،حالانکہ ایسے ہی ٹیسٹ اگر معروف لیبارٹریوں سے کرائے جائیں تو ایک ٹیسٹ اتنے میں نہیں ہوتا۔اب قصہ ایک اور کردار کا بھی ہے جو اس سارے دھندے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کردار ہے ڈاکٹر کا۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے میرے ایک دوست ملک کی بڑی لیب کی طرف سے ڈاکٹروں کو دیئے گئے عشایئے میں بصد اصرار لے گئے، چونکہ میں نے انہیں کہیں آگے ساتھ لے جانا تھا اس لئے چلا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں کا ایک ہجوم تھا اور سب نامی گرامی تھے اتنا بھرپور ڈنر تھا کہ پَر ہیڈ پانچ سات ہزار روپے سے کم نہ ہو گا۔ میں نے اپنے دوست ڈاکٹر سے پوچھا یہ کیا قصہ ہے اور کیوں اتنا پُرتعیش ڈنر دیا ہے۔ ہنس کر کہنے لگا ”پروفیسر تہانوں نئیں پتہ اے کتنی وڈی گیم اے“۔ گیم یہی ہے کہ ڈاکٹر صاحبان ٹیسٹ لکھ کر دیتے ہیں،اُن کا نام آ جاتا ہے اور ساتھ کمیشن بھی۔ پھر عمرے، بیرونی ٹور بھی کرائے جاتے ہیں۔ان سب کا نشانہ بے چارہ مریض بنتا ہے۔

اس دھندے کو فروغ اس لئے ملا  ہے کہ اکثر ڈاکٹروں نے اپنے کلینک کے ساتھ لیبارٹری بھی بنا لی ہے۔ایک ٹیکنیشن رکھ کر رپورٹیں جاری کی جاتی ہیں جو اسی ڈاکٹر نے دیکھنی ہوتی ہیں ۔یوں مریض لٹ رہے ہیں۔ دوسری طرف جسے اور کچھ نہیں آتا تھا اُس نے طبی لیبارٹری کھول لی ہے۔ ڈاکٹروں کو بھاری کمیشن دینے کا لالچ دے کر اپنا کاروباری چلایا ہوا ہے۔ مقامِ حیرت ہے کہ میڈیکل ہال کھولنے پر اجازت لینے کی ضرورت  ہے۔ کلینک بنانے کے لئے ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی شرط ہے، مگر  یہ لیبارٹریاں مادر پدر آزاد ہیں۔اُلٹی سیدھی رپورٹیں جاری کر کے مریضوں کو شفا کی بجائے مزید بیماریوں کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے لیبارٹری قائم کرنے سے پہلے محکمہ صحت سے اجازت لینے کی شرط رکھی جائے۔دوسرا قائم شدہ لیبارٹریوں کا معیار جانچنے کے لئے مانیٹرنگ کا نظام بنایا جائے۔ ٹیسٹوں کی فیسوں کا تعین محکمہ صحت کرے۔

 اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اور لیبارٹری مالکان کا گٹھ جوڑ توڑنے کے لئے کوئی میکانزم بنایا جائے۔غربت کے مارے مریض جو ڈاکٹروں کی بھاری فیس ادا نہیں کر سکتے، انہیں مختلف ٹیسٹوں کے نام پر اتنا زیر بار کر دیا جاتا ہے کہ ان کے پاس کاغذی رپورٹیں تو بہت ہوتی ہیں، مگر علاج کرانے کی مزید سکت نہیں رہتی۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)