کانچ کے گھروں سے سنگ زنی

وزیر داخلہ محسن نقوی کے بعد اب آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ  جنرل  احمد شریف نے ملک میں گورننس کی خرابیاں دور  کرنے اور  ریاست کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط وفاداری کا عہد نبھانے کا مطالبہ کیا ہے۔  راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ابھی تک ’ہارڈ اسٹیٹ‘ نہیں ہے لیکن اس طرف قدم بڑھائے بغیر ملک  کے حالات بہتر نہیں کیے جاسکتے۔

پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں  بھی درحقیقت  حکومت کو ناکام قرار دیا گیا ہے لیکن جنرل احمد شریف نے محسن نقوی کے برعکس ’نظام بکھر گیا ہے‘ جیسے ہولناک الفاظ استعمال کرنے کی بجائے   یہ کہنے  پر اکتفا کیا کہ  ملک میں   2014 میں بنائے گئے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، آبادی بڑھنے کے باوجود انتظامی یونٹوں کے حوالے سے کوئی معقول  فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ اسی لیے گورننس کی صورت حال ناقص ہے اور ملک کے سیاسی لیڈروں کو اس سلسلہ میں اقدام کرنا چاہئے۔   پاک فوج کے ترجمان سیاست میں فوج کی مداخلت    کو قبول نہ  کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کی پریس کانفرنس کے اہم حصے سیاسی ایجنڈے پر مشتمل تھے۔  فوج کی طرف سے نئے صوبے بنانے  اور ملک کو ہارڈ اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ احمد شریف نے سوال کیا کہ ’کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ  ہیں‘۔ پھر جواب دیا کہ ’ بدقسمتی سے نہیں‘۔  انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’مضبوط ریاست  یا ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جہاں آئین اور قانون کا اطلاق ہر شخص پر یکساں طور پر ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست فوج چلارہی ہو یا مسلح افواج کا معاملات پر کنٹرول ہو۔ وہ ریاست، جہاں تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کیے جائیں اور جہاں سب شہری قانون کی نظر میں برابر ہوں، درحقیقت ایک مضبوط ریاست ہوتی ہے۔ ایسی ریاست میں امن و امان اور استحکام ہوتا ہے اور لوگوں میں احساسِ محرومی جنم نہیں لیتا۔ اس میں حقوق و فرائض میں توازن بھی ضروری ہے۔ اگر ہم محرومیوں کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں اس کا جواب دینا چاہئے کہ کیا ہم فرائض ادا کررہے ہیں۔ کیا ہم ریاست کے وفادار شہری کا حق ادا کررہے  ہیں‘۔

ملک کی اسٹبلشمنٹ کی  طرف سے کسی حکومت پر عدم اعتماد کے لیے شاید اس سے سخت الفاظ صرف مارشل لا لگاتے ہوئے ’میرے عزیز ہموطنو‘ نامی تقریر میں ہی استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس سے کم تر سطح پر اگر کسی حکومت کونالائق، ناکام اور  بدعنوان کہا جاسکتا ہے تو اس کا اظہار آج آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں کیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس میں صحافیوں نے محسن نقوی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے  پوچھا تھا کہ کیا وہ فوج کی رائے  تھی۔ اس پر جنرل  احمد شریف نے بات ٹالتے ہوئے اسے  وزیر داخلہ کے اپنے خیالات قرار دیا  جن کے بارے میں فوج کا نمائندہ کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا البتہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیڈ گورننس اور    آبادی بڑھنے کے باوجود انتظامی یونٹوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہونے کی بات نہایت صراحت سے کی۔ اور ہارڈ اسٹیٹ کا ’نظریہ‘ پیش کرتے ہوئے شہباز شریف کی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا کہ اس وقت ملک میں  کوئی کام قانون و آئین کے مطابق نہیں ہورہا۔

کوئی فوج اگر کسی حکومت سے آئین پر عمل کرنے کا تقاضہ کرتی ہے ، اس پر کوئی اعتراض تو ممکن نہیں ہے کیوں کہ فوجی بھی دیگر لوگوں کی طرح اس ملک کے شہری ہیں۔ اور قانون پر عمل درآمد کا مطالبہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن آئی ایس پی آر کے سربراہ جب  گورننس کی خرابی اور حکومت کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے ان پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں   جو ان کے نزدیک برائیوں کی وجہ ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ  کیا ایسے تبصروں اور  مطالبوں کو سیاسی تناظر سے علیحدہ کرکے دیکھا جاسکتا ہے؟ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف  نے  بھی محسن نقوی کی طرح   پارلیمنٹ میں معاملات اٹھانے اور ملک کے واحد آئینی ادارے میں اہم قومی مسائل پر غور و فکر کی بات نہیں کی بلکہ  ملکی سیاست دانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ  حالات ٹھیک کریں۔  محسن نقوی کا کہنا تھا کہ  سب سیاسی پارٹیاں ایک کمرے میں بیٹھ جائیں اور ہفتہ لگے یا ایک سال تمام مسائل  حل کرکے باہر نکلیں۔  یہ تجویز دیتے ہوئےوزیر داخلہ کا خیال بھی پارلیمنٹ کی طرف نہیں گیا اور نہ انہوں نے  دعویٰ کیا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل پارلیمنٹ ہی تلاش کرسکتی ہے۔ کچھ اسی قسم کا نقطہ نظر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی گفتگو میں پیش کیا گیا۔ ایک طرف وہ  قانون و آئین کی بات کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی آئینی ادارے کے احترام، اختیار اور درست فورم کے طور پر ذکر سے گریز کیا جاتا ہے اور سیاست دانوں کو جواب دہ بنانے کی کوشش کی  گئی ہے۔

کسی ملک میں عملی جمہوری نظام  اور پارلیمنٹ کی موجودگی میں صرف سیاست دانوں  کو کیسے معاملات حل کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاسکتا ہے؟ کیا سیاست دان مسائل حل کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے متبادل قوت نافذہ کے حامل ہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ قیاس ملکی آئین کے خلاف ہے۔  اور اگر موجودہ نظام کی ناکامی کا  شکوہ کرنے والوں کو پارلیمنٹ سے ہی شکایات ہیں تو  اس کا براہ راست  حوالہ کیوں نہیں دیا جاتا؟  محسن  نقوی تو سینیٹ کے رکن بھی ہیں اور وزیر داخلہ کے طور پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کسی اہم معاملہ  پر تجویز بھی سامنے لاسکتے ہیں یا بحث کا آغاز کرسکتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بھی درحقیقت صحافیوں نے  جنرل احمد شریف سے  یہی سوال کیا تھا کہ  محسن نقوی نے یہ اہم معاملات پارلیمنٹ میں  اٹھانے کی بجائے  کسی اکنامک سمٹ میں بیان کرنے کی کیوں ضرورت محسوس کی۔ البتہ  آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس سوال کے جواب میں بھی پارلیمنٹ کی موجودگی یا برتری کا اعتراف کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ وہ البتہ بیڈ گورننس اور ہارڈ اسٹیٹ کی عدم موجودگی کا شکوہ زور شور سے کرتے رہے۔

ایسے بیانات پاکستانی عوام میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرنے کی  بجائے بد اعتمادی اور ہر ریاستی ادارے کے بارے میں مایوسی کو جنم دیں گے۔ فوج کو ملک کا سب سے طاقت ور اور فیصلے کرنے والا ادارہ سمجھا جاتا ہے لیکن اگر  اسی ادارے کی طرف سے لاقانونیت اور حکومت کی ناکامی کی  بات کی جائے گی تو سوال پیدا ہوگا  کہ پھر اصلاح احوال کے لیے کس طرف دیکھا جائے؟   جیسے وزیر داخلہ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے جب نظام کی ناکامی کا اعلان کریں گے تو انہیں اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ اس ناکامی میں ان کا اپنا کتنا حصہ ہے اور اس کی جواب دہی کا کیا انتظام کیا جائے۔ بعینہ جب ملک میں ہائبرڈ نظام کے اعلانات کے باوجود آئی ایس پی آر بیڈ گورننس، قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد میں ناکامی اور  ناقص انتظامی معاملات کی شکایت کرتا ہے تو اسے یہ جواب بھی دینا چاہئے کہ اس خرابی میں اس کا اپنا کتنا حصہ ہے اور فوج اگر شریک  اقتدار ہے تو وہ ان خرابیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے کیوں کر انکار کرسکتی ہے۔

پاک فوج کو اس وقت  عوامی شہرت کے اہم چیلنج کا  سامنا ہے۔  ملک کے عوام یہی سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کی حکومت  ’کاغذی شیر‘ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ، اور فوج ہی ملکی معاملات چلا رہی ہے۔  ایسے میں جب عوام کی ضروریات پوری نہیں ہوپاتیں تو فوج کسی بھی طرح اس ذمہ داری سے گریز کا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔ وزیر داخلہ کی  تقریر اور آئی ایس پی آر کے سربراہ کی پریس کانفرنس درحقیقت اسی جانب اشارہ کرتی ہیں۔   پاکستان میں یہ کام پہلی بار  کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی۔ یحییٰ خان کی ایوب خان کے خلاف  ’سوفٹ بغاوت‘ یا پرویز مشرف کے دور میں عسکری حلقوں کے تعاون سے  ’عدلیہ  بحالی تحریک‘ اور پھر  2019 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی درحقیقت اسی طرز عمل کے مختلف پہلو  ہیں۔ اب براہ راست حکومت کو ناکام قرار دے کر عسکری ادارہ ملک کی سیاسی خرابیوں کی ذمہ داری سے گریز کا راستہ تلاش کرنا چاہتا  ہے تاکہ عوام   اپنی محرومیوں کا ذمہ دار فوج کی بجائے سیاست دانوں کو سمجھیں۔

سیاست دانوں کو ذمہ دار قرار دینے میں کوئی  شے مانع بھی نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن  حرف شکایت لبوں پر لاتے ہوئے اسٹبلشمنٹ کے نمائیندوں کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کیا  وہ خود ملکی آئین کی حرف  بہ حرف پابندی کررہے ہیں؟ اگر  دہشتگردی سے لے کر عوامی احتجاج کو ملک دشمنی قرار دینے جیسے سارے فیصلے جی ایچ کیو میں ہونے ہیں تو ان کی ذمہ داری محض  اس لیے سیاست دانوں پر عائد نہیں ہونی چاہئے کہ وہ ہوس اقتدار میں اندھے ہوکر  ہر ناجائز طریقے سے اقتدار میں رہنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ ناجائز راستے دکھانے والوں کی نشان دہی بھی ہونی چاہئے۔ ورنہ کانچ کے گھر میں بیٹھ کر سنگ زنی سے سوائے تباہی کے کچھ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔