اسرائیل کو بھارتی ہتھیاروں کی سپلائی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نکتہ چینی

  • ہفتہ 01 / اگست / 2026

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کی طرف سے اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہتھیا فلسطینیوں کے خلاف جاری موجودہ نسل کشی میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ انڈیا نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے درمیان ہتھیاروں کی کم از کم 2596 کھیپ اسرائیل بھیجی ہے۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم کے سکریٹری جنرل این یس کالامار نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد بند کر دے۔ انہوں کہا کہ ’مکمل معلومات ہونے کے باوجود اسرائیل کو ہتھیار برآمد کرکے انڈیا نسل کشی کے ضابطوں اور جینوا کنونشن پر عمل کی اپنی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہا ہے۔‘

’میڈ ان انڈیا: اسرائیل کو سپلائی ہونے والے ہتھیار اور گولہ بارود‘ کے عنوان سے جاری کی گئی ایمنسٹی انٹرنیشل کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح انڈیا کی حکومت نے اسرائیل کے دفاعی شعبے سے ایک گہری منافع بخش شراکت داری ‍قائم کی ہے اور کس طرح وہ اسرائیل کے جنگی آپریشن میں دفاعی سپلائی لائن کی مدد کررہا رہا۔

انڈیا نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا دوسرے ملکوں سے دفاعی تجارت قانون اور مسلمہ ضابطوں کے تحت کرتا ہے۔‘ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نیوز کانفرنس میں ایمنسٹی کی رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے اسرائیل کو برآمد کیے جانے والے ہتھیاروں کی مقدار اور نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کہا کہ ’انڈیا میں دفاعی تجارت کے لیے ایک مؤثر قانونی فریم ورک اور ضابطے کا نظام موجود ہے۔‘

ایمنسٹی نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حقوق انسانی کے تفتیش کاروں نے 23 اکتوبر 2023 سے انڈیا سے اسرائیل آنے والے ہتھیاروں گولہ بارود اور دوسرے جنگی ساز وسامان کی 2596 کھیپوں یا کنسائنمنٹ کا جائزہ لیا ہے۔ اس دوران سامنے آنے والے حقائق اور ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلحہ بنانے والی انڈین کمپنیوں نے اسرائیلی فوج کو براہ راست جنگی سامان سپلائی کرنے والی بڑی اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو ڈرونز کے وار ہیڈ، توپ کے گولوں کے خول، مشین گن سے لیس بکتر بند گاڑیوں، میزائلوں اور دوسرے ہتھیاروں کے لاکھوں کل پرزے برآمد کیے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا خیال ہے کہ ’بعض انڈین دفاعی کمپنیاں اسرائیلی ملٹری سے اپنے کاروبار کے سبب اسرائیلی فوج کے ذریعے کی جاری بین الاقومی قوانین اور حقوق انسانی کی پامالیوں کے مرتکب ہونے کا خطرہ لے رہی ہیں۔‘

انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے سینیئر ترجمان پون کھیڑا نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں ایمنسٹی کی رپورٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک المیہ ہی ہے کہ عدم تشدد کی سرزمین ایک دوسرے مُلک کی غیر قانونی جنگ میں حصہ دار بن گئی۔۔۔ معصوموں پرہونے والے مظالم کا جواب ضرور ملتا ہے۔‘