نظام فیل ہو گیا، مگر کیوں؟
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 01 / اگست / 2026
وزیر داخلہ کے بارے میں تو یہی سمجھا جاتا ہے اُس کی ہر بات حکومت کے موقف کی ترجمان ہوتی ہے، مگر اسلام آباد کی ایک تقریب میں محسن نقوی نے جو کچھ کہا ہے وہ تو کسی اپوزیشن لیڈر کا موقف لگتا ہے۔انہوں نے موجودہ نظام پر ہی قلم پھیر دیا ہے اور صاف صاف کہا ہے یہ نظام نہیں چل رہا، فیل ہو گیا ہے۔
سیاستدانوں نے مل بیٹھ کے اس کی تبدیلی کا فیصلہ نہ کیا تو پھر ملک کے نوجوان اسے اُلٹا دیں گے۔انہوں نے تبدیلی کے حوالے سے اور بھی باتیں کیں،تاہم میں اُن کی اس بات سے متفق ہوں کہ یہ نظام نہیں چل رہا۔میں خود کئی بار لکھ چکا ہوں کہ اس استحصالی اور بدبودار نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے،جس میں انصاف ہے نہ روزگار،ایک واضح قسم کی طبقاتی اونچ نیچ ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ایک طرف وہ ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے حتیٰ کہ قانون اور طاقت بھی اور دوسری طرف وہ ہیں جن کے پاس بمشکل دو وقت کی روٹی کھانے کی گنجائش ہی بچی ہے۔ خیر یہ تو ایک پہلو ہے لیکن سوال جو زدِ عام ہے وہ محسن نقوی کی اس ٹائمنگ سے متعلق ہے۔ اس وقت انہیں یہ باتیں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
پھر وہ کوئی منجھے ہوئے سیاستدان بھی نہیں،اُن کا پاکستانی سیاست بلکہ طاقت کے اُفق پر نزول چند سال پہلے ہی ہوا تھا۔ اچھے گلوکار کے بارے میں کہا جاتا ہے،اُس کے گلے میں بھگوان بولتا ہے تو محسن نقوی کے پردے میں کون بول رہا ہے۔ خیر انہوں نے ہلکا سا اشارہ تو دیا ہے کہ ایک شخص آپ کے لئے مسلسل بیرون ملک سے مواقع لا رہا ہے آپ اُن سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے۔ اب یہ عجیب کھچڑی پکی ہوئی ہے جو باتیں اندر بیٹھ کے ہو سکتی ہیں،انہیں باہر کیوں لایا جا رہا ہے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی اقتدار میں ہیں، تیسری جماعت تحریک انصاف کو نشانِ عبرت بنایا ہوا ہے۔ جو اقتدار میں ہیں وہ مل بیٹھ کے کسی نئے نظام کا فیصلہ کیوں نہیں کرتیں۔کیوں ملک کا وزیر داخلہ ایک تقریب میں یہ پیغام دیتا،بلکہ انکشاف کرتا ہے کہ ملک کا نظام ختم ہو چکا ہے۔ آپ پانچ سال لگائیں یا دس سال اس نے نہیں چلنا، وزیراعظم آٹھ گھنٹے کام کریں یا سولہ گھنٹے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
عام حالات میں تو ایسے بیان دینے والے وزیر کو کابینہ سے نکال دیا جاتا ہے مگر محسن نقوی کے بارے میں تو کوئی حکومتی نمائندہ بات تک نہیں کر رہا۔ یہی بات تحریک انصاف کے کسی رہنما نے کی ہوتی تو اب تک وزیر و مشیر اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے۔ نظام کی ناکامی بلکہ خاتمے کے بیان سے سوالات تو بہت جنم لے رہے ہیں۔ پہلا سوال تو یہی ہے کس نظام کی بات ہو رہی ہے۔اس ملک میں کوئی نظام چلنے بھی دیا گیا ہے۔ ون یونٹ کے بعد جب فیڈرل نظام آیا تو بہت سی اُمیدیں تھیں کہ ملک اب چلے نکلے گا۔ 1973کا آئین بنا تو یہ امید اور بھی مضبوط ہو گئی کہ اب پارلیمانی جمہوریت پروان چڑھے گی اور اُسے کسی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہو گا، مگر اس آئین کے صرف چار سال بعد اس آئین کی بساط لپیٹ دی گئی۔ آئین بنانے والوں نے اس میں ایسی کئی شقیں رکھی تھیں کہ کوئی آمر غیر آئینی طریقے سے جمہوریت پر شب خون نہ مار سکے۔
مگر آنے والے ڈکٹیٹر نے اسے کاغذ کو چیتھڑا بنا دیا۔ گیارہ سال تک ما و رائے آئین حکمرانی جاری رہی، جب ایک نظام میں دوسرا نظام گھسیڑ دیا جائے تو نظام کہاں بچتا ہے۔ ضیاالحق حادثے میں رخصت ہوئے تو پھر لیپا پوتی کا نظام آیا۔اس نظام میں ایک سرکس شروع ہو گئی۔ایک کے بعد دوسرا وزیراعظم رخصت ہونے لگا۔ جب اوپر کی سطح پر ٹھہراؤ نہ ہو تو نچلی سطح پر استحکام کیسے آ سکتا ہے۔ ادارے تباہ ہونے گلے، ایڈہاک ازم نے جڑ پکڑ لی۔ سیاسی جماعتیں کمزور ہوتی گئیں، نظام نام کی کوئی چیز ملک میں نہ رہ گئی۔ یہ کشمکش اگر جاری نہ رہتی، ایک مضبوط سیاسی ڈھانچہ قائم ہو جاتا تو شاید ایک مضبوط نظام بھی ہمیں مل جاتا۔محسن نقوی کہتے ہیں اس نظام کے تحت دس بیس سال بھی گزر جائیں کوئی استحکام نہیں آئے گا ۔یہاں سوال یہ ہے وہ جس نئے نظام کی بات کر رہے ہیں، کیا اُسے دس بیس سال بغیر کسی مداخلت کے چلنے دیا جائے گا۔ مانا کہ سیاستدانوں نے نظام کی مضبوطی کے لئے کچھ نہیں کیا، مگر انہیں مضبوطی کے لئے کام کرنے کا موقع بھی دیا گیا یا نہیں؟ ایسے سیاستدان تو شاید ہی دنیا میں کہیں ملیں جو لچک دکھاتے ہیں اور خود کو اسٹیبلشمنٹ کی منشاکے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔
محسن نقوی جو کہہ رہے ہیں اُسے ایک فرد کی رائے نہ سمجھا جائے،بلکہ یہ ایک پیغام ہے جو آنے والے دِنوں میں نئے نظام کی تشکیل کو آشکار کر رہا ہے۔اس میں انہوں نے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ یہ بنیادی طور پر کوئی انوکھی بات نہیں،سنجیدہ حلقے تو ایک عرصے سے نئے صوبوں کے قیام پر زور دے رہے ہیں۔اس وقت ملک میں سیاسی سطح پر جو جمود ہے اور چند خاندانوں نے سیاست پر قبضہ جمایا ہوا ہے،جو بذاتِ خود سب سے بڑی خرابی ہے۔اس کا توڑ بھی اسی میں ہے کہ نئے صوبے بنا دیئے جائیں۔ ملک کی 25کروڑ کی آبادی میں اگر ایک صوبہ پندرہ کروڑ کی آبادی پر مشتمل ہو تو وفاقی سطح پر توازن کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ایک عرصے سے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ، اگر اس نئے مجوزہ نظام کے تحت پنجاب کے ایک نہیں کئی صوبے بنا دیئے جاتے ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے، امریکہ کی بھی باون ریاستیں ہیں تاہم جو بھی کرنا ہے وہ طاقت کے زور پر نہیں،بلکہ باہمی گفت و شنید کے ذریعے ہونا چاہئے۔
اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں خود مل بیٹھیں، سب سے بنیادی عنصر یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں تحریک انصاف کو شامل رکھا جائے، اس کے بغیر ایسی کوئی بھی پیش رفت متنازعہ رہے گی۔ اگر بالادستی کی خواہش پر قابو پایا گیا تو کوئی بھی نیا نظام اس ملک کو کچھ نہیں دے سکے گا اگر واقعی ملک کو نیا نظام دینا ہے اور اُسے چلانا بھی ہے تو اُس کے لئے سب کو آئین کی بالادستی قبول کرنی ہو گی۔ ماورائے آئین سمجھنے کی خبط نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے،اس کا تدارک ضروری ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)