گورننس کیسے بہتر ہو؟

وزیر داخلہ اور آئی ایس پی آر کے سربراہ کی طرف سے ملکی نظام پر سوال اٹھائے جانے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ ملک میں بری حاکمیت یا بیڈ گورننس کے معاملات کیسے ٹھیک کیے جاسکتے ہیں۔  تاہم سرکاری نمائیندے اور وفاقی وزرا اس اہم سوال پر بات کرنے کی بجائے  یہ واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ معاملات اسی طرح چل سکتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اسی بات کو یوں بیان کیا کہ  ’ملک میں اس وقت جو ہائبرڈ نظام کام کررہا ہے، اسی میں راہ نجات ہے‘۔ اس وضاحت یا صراحت سے سمجھا جاسکتا ہے کہ وزیر دفاع فوج سے یہ درخواست کررہے ہیں  کہ موجودہ انتظام کے بارے میں سوال اٹھانے کی بجائے اسے چلنے دیا جائے۔ دیگر وزیروں نے بھی اسی سے  ملتی جلتی باتیں کرکے اپنی حکومت کا جواز  دینے کی کوشش کی ہے لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ جن طاقتوں کو مطمئن ہونا چاہئے ، وہ تو پہلے وزیر داخلہ اور پھر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے ذریعے  شہباز شریف کی حکومت کو ناکام قرار دے کر وسیع، دور رس اور اسٹرکچرل  تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں۔

اس صورت حال میں وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ان باتوں کو  شیر مادر سمجھ کر ہضم کرلیں اور آنکھیں موند کر اس وقت کا انتظار کریں جب ان سے استعفی  دینے یا وزیر  اعظم ہاؤس خالی کرنے کا کہا جائے۔ دوسرا طریقہ  یہ  ہے کہ وہ واضح کریں کہ ملکی آئین کے تحت وہی اس ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ اگر کوئی وزیر یا  کسی ریاستی ادارے کا نمائیندہ ان کی اتھارٹی اور اختیار  پر سوال اٹھائے گا  تو اسے اپنا راستہ علیحدہ کرنا ہوگا۔  اس لیے انہیں سب سے پہلے محسن نقوی  سے  استعفیٰ دینے  کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا اور اگر وہ اس میں لیت و لعل سے کام لیتے تو انہیں کابینہ سے نکال کر واضح کرتے کہ وہ ایک فعال اور مؤثر حکومت کے سربراہ ہیں اور اپنی اتھارٹی اور اپنے زیر نگرانی کام کرنے والے نظام کے بارے میں افواہ سازی کی اجازت نہیں دے سکتے۔

اسی طرح انہیں عوامی بیان کے ذریعے آرمی چیف پر واضح کرنا چاہئے تھا کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے  سیاسی و آئینی امور پر اظہار خیال کے ذریعے ان کی حکومتی اتھارٹی کو چیلنج کیا ہے۔ اسے برداشت نہیں کیاجاسکتا۔ یا تو متعلقہ افسر سے استعفی لیا جائے یا اس کی سرزنش کی جائے تاکہ فوجی افسروں پر یہ واضح ہوجائے کہ ملک  میں انارکی نہیں ہے۔ یہاں جنگل کا قانون  بھی نافذ نہیں  ہے بلکہ  آئین کے تحت  منعقد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں ایک حکومت قائم ہوئی ہے جو کسی وزیر یا فوجی افسر کے سامنے جواب دہ نہیں ہے بلکہ  پارلیمنٹ کے ذریعے ملکی معاملات چلانے کی پابند ہے۔ جو بھی اس کے اس اختیار کو چیلنج کرے  گا ،اسے سرکاری نوکری کی بجائے ، سیاسی میدان میں مقابلہ کرناچاہئے۔

تاہم دو روزتک چھائی ہوئی ’خاموشی‘ اور وفاقی وزرا کے وضاحتی بیانات کے بعد دیکھا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف نے ’محفوظ‘ راستہ یعنی پہلا آپشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ خاموش رہا جائے اور طوفان کو نکلنے دیا جائے۔ اس دوران   درون خانہ ہونے والی ملاقاتوں  میں وضاحتیں دے کر کچھ مزید وقت مانگا جائے اور استدعا کی جائے  کہ اس حکومت کو چلنے دیا جائے۔ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ وہی کرے گی جس کے بارے میں  ’سرکار‘ کی طرف سے اشارہ ہوگا۔ صوبے بنانے یا وفاق کے  اختیارات مضبوط کرنے کے بارے میں بھی یہ وضاحت دی جارہی ہوگی کہ اس بارے میں مسلم لیگ (ن) کی بجائے پیپلز پارٹی اصل رکاوٹ ہے۔ یوں  خود اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی جائے گی۔ حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ وزیر اعظم تو یہ اعلان بھی نہیں کرسکتے کہ  ان کے پاس تو کوئی اختیار ہی  نہیں ہے ، وہ حالات یا گورننس کیسے ٹھیک کریں؟

ملک میں بداعتمادی اور حکومت کی ناکامی کا رشتہ ملکی مالی حالات سے منسلک ہے۔ اگر موجودہ حکومت اپنے ابتدائی اعلانات کے مطابق چند ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لاکر ملکی معیشت میں ’رونق لگانے‘ کا اہتمام کرلیتی تو شاید اسے اس وقت سخت سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اگرچہ مشرق وسطی کی جنگ میں  پاکستان کے سفارتی کردار اور عسکری صلاحیتیوں کی اہمیت اجاگر ہونےکے بعد یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل  قریب میں ملکی معیشت میں کچھ سرگرمی پیدا ہوسکتی ہے لیکن ایک تو ایران جنگ کے تسلسل کی وجہ سے بے یقینی کی فضا موجود ہے ۔ دوسرے   پاکستان ابھی تک کسی  کثیر سرمایہ کاری  کو ’ہضم‘ کرنے کے لیے انتظامی  تیاری نہیں کرپایا۔  ملک میں کوئی ایسا اقتصادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جس میں سرمایہ کاری کے ذریعے  پیداوار میں فوری اضافہ کا اہتمام  ہوسکے۔ جب بھی کسی  منصوبہ کی بات ہوتی ہے تو یہی سوال سامنے آتا ہے کہ سب کچھ نئے سرے سے کرنا ہوگا۔ اگر کوئی سرمایہ کار اس کے باوجود نئے منصوبہ میں  سرمایہ لگانے پر آمادہ ہوجائے تو ملکی قوانین اور بیوروکریسی  میں پائی جانے والی بدعنوانی کی وجہ سے عملی رکاوٹوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ موجودہ حکومت گزشتہ چار سال کے دوران فوج کی مکمل سرپرستی کے باوجود  اس صورت حال کو تبدیل نہیں کرسکی۔ یہ بلاشبہ  شہباز حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے جس کے  بارے میں کوئی حجت یا  دلیل نہیں دی جاسکتی۔

تاہم یہ معاملہ کا صرف معاشی پہلو ہے جس کے بہتر ہونے سے لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے اور معاشی سرگرمی کی وجہ سے  عام شہریوں کی مشکلات میں کچھ کمی ہوسکتی ہے۔ تاہم  اس سے ملک  کے بنیادی ڈھانچے میں  موجود خرابیاں درست نہیں ہوسکتیں۔  ان کی اصلاح  کے لیے صرف قانون و آئین کا نام لینے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ایسا مزاج پیدا کرنا ہوگا  جو  ہر غیر قانونی و غیر آئینی اقدام کو مسترد کرے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ خرابی کہاں ہے لیکن خرابی پیدا کرنے والوں سے لے کر اس سے فائدہ اٹھانے والے، سب لوگ اپنی بجائے، دوسرے کو ذمہ دار سمجھ کر  کسی بھی طرح وقت ٹالنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی پریس کانفرس اسی مزاج کی شاہکار مثال قرار دی جاسکتی ہے۔ جنرل احمد شریف نے دبنگ لہجے میں  سب  کے لیے قانون و آئین کی برابری کی بات کی لیکن اس سوال پر  غور کرنے کی زحمت نہیں کی کہ  آئین کو ناکام بنانے میں کس ادارے نے   سب سے زیادہ کردار ادا کیا  ہے۔ اور کیا فوج  نے کسی اندرونی بحث میں اس نکتہ پر غور کرکے اصلاح احوال  کی  کوشش کی ہے؟

پاکستانی فوج مسلمہ طور سے ایک پروفیشنل  اور باصلاحیت عسکری قوت ہے۔  لیکن بدقسمتی سے  یہ حقیقت بھی اتنی ہی مسلمہ ہے کہ فوج سول معاملات چلانے اور سیاسی فیصلے کرنے میں اسی قدر ناکام  ثابت ہوئی ہے۔ یہ حقیقت صرف ملک میں طویل فوجی ادوار ہی سے واضح نہیں ہوتی بلکہ  درپردہ سول حکومتوں کو کٹھ پتلی کی طرح چلانے  کا طریقہ اور اس میں ناکامی بھی ، اسی سچائی کی چغلی کھاتی ہے۔ فوج کی نگرانی میں ملک کے سول ادارے انتخابی دھاندلی کے مرتکب ہوتے ہیں اور پھر اداروں کے پسندیدہ شخص کو وزیر اعظم بنوا کر حالات درست کردینے کا عزم کیا جاتا  ہے لیکن ہر بار یہ کوشش ناکام رہتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثالیں  2018 کے انتخابات میں  عمران خان کی کامیابی  اور  2024 کے انتخابات  میں شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔    اس ’خد مت‘ کے عوض سول معاملات میں  فوج کو وسیع دسترس دی گئی  لیکن  عمران خان کے خلاف ساڑھے  تین سال بعد  عدم اعتماد کی تحریک  لانا پڑی  لیکن شہباز شریف کے خلاف  فرد جرم عائد کرنے کے لیے تو اڑھائی برس بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ سول معاملات میں فوج کی شراکت کے موجودہ انتظام  کے لیے  پہلے ’ون پیج ‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی، پھر اسے ہائبرڈ انتظام کا نام دیا گیا۔ وزیر دفاع نے اسی نظام کو بچانے کی دہائی دیتے ہوئے  اسے ’باعث نجات‘ قرار دیا ہے۔ کیوں کہ شہباز شریف کی طرح خواجہ صاحب بھی نہ سچ دیکھ سکتے ہیں اور نہ اسے بیان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

اس منظر نامہ میں گورننس کی خرابی اور اسے ٹھیک کرنے کی کوششوں  کا جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ فوج نے مسلسل متحرک اور فعال کردار ادا کیا ہے۔  لیکن جب یہ انتظام مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہوتا ہے تو سیاست دانوں کو  کٹہرے میں کھڑا کرکے کوئی نیا مہرہ  تلاش کرنے کا کام شروع ہوجا تا ہے۔ سوچنا چاہئے کہ بار بار ناکام ہونے والے تجربوں کو دہرانے سے مسائل کیسے حل ہوسکتے ہیں؟ گورننس کا  براہ راست تعلق سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت سے ہے۔ سول  حکومت خود مختاری سے فیصلے کرنے  کی اہل نہیں ہے اور پارلیمنٹ کو طاقت ور حلقوں کی ربر اسٹیمپ بنا لیا گیا ہے۔ ایسی پارلیمنٹ میں پھر وہی پرانے خاندان اور گھسے پٹے مہرے ہی بار بار ’منتخب‘ ہوکر واپس آئیں گے کیوں کہ اسٹبلشمنٹ کو خود مختاری اور  سوجھ بوجھ سے کام کرنے والے لوگ قابل قبول نہیں ہوسکتے اور جو لوگ قانون  و آئین کو  پہلی ترجیح دینا چاہتے ہیں، وہ کسی ادارے کی غیر آئینی  فرمائشیں پوری نہیں کرسکتے۔ اسی لیے ملک میں  قانون کا  احترام ایک اجنبی لفظ بن چکا ہے۔

ان حالات میں یہی استدعا کی جاسکتی ہے کہ اگر براہ راست  حکومت کرنے یا ہائبرڈ نظام کے تحت سیاستدانوں کو چلانے کا نظام کام نہیں کرسکا تو  70 سال کی ناکامیوں کے بعد  تجرباتی طور سے ہی سہی ، ایک بار سیاست اور پارلیمنٹ کو آزاد چھوڑ کر بھی  دیکھ لیا جائے۔ شاید وہ طریقہ بہتر طور سے کام کرسکے۔ اگر تب بھی بہتری نہ  آئےتو آپ کے ہاتھ میں ڈنڈا تو موجود ہی ہے۔