مسلمانوں میں یورپ کی کشش کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 02 / اگست / 2026
ہماری مسلم ورلڈ کے لیے یہ خبر دلچسپی اور یورپ کے لیے پریشانی و تشویش کا باعث ہے کہ مسلم ملک مراکش کے ساٹھ ہزار نوجوان سپین میں داخل ہو گئے۔ جن دوستوں نے سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز دیکھی ہیں، وہ ادراک کر سکتے ہیں کہ یہ نوجوان بڑے بڑے گروہوں کی صورت دوڑ لگاتے اور ہلہ بولتے ہوئے سپین میں داخل ہو رہے ہیں۔
ان کی بڑی بڑی کشتیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں اور یہ جین زی کس طرح آہنی رکاوٹوں اور بڑی بڑی جالیوں کو توڑ رہے ہیں یا پھر ان کے اوپر چڑھ کر کس طرح پھلانگ رہے ہیں۔ ان سب ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں داخل ہوئے، ان کا مقصد کوئی حملہ یا قبضہ نہیں بلکہ اپنے بہتر مستقبل اور اچھے روزگار کے لیے سپین پہنچنے کی کاوش ہے۔ کیونکہ ان کے اپنے علاقے میں غربت اور بےروزگاری ہے جس سے تنگ آ کر یہ لوگ یورپ کا رخ کرتے ہیں۔
ہزاروں لوگوں نے اکٹھے ہو کر سمندر کی لہروں اور آہنی باڑ کو عبور کیا تاکہ سیکیورٹی فورسز کو غیر مؤثرکیا جا سکے اور وہ انہیں روکنے میں ناکام رہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ان دنوں سپین کی سرحدی سیکیورٹی میں بوجوہ ایک نوع کا خلا تھا۔ دوسرے سپین کی عدالت نے تارکین وطن کے حوالے سے کچھ نرم فیصلے کیے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ماقبل غیر قانونی طور پر سپین میں داخل ہونے والے پانچ لاکھ کے قریب تارکین وطن کو قانونی حیثیت دے دی گئی تھی۔ امریکی فارن آفس نے بھی اس حوالے سے سپین پر سخت اعتراضات کیے ہیں کہ ایسے سقم کی وجہ سے غیر قانونی ہجرت کو ممکن بنایا گیا۔
اگرچہ سپین کی سرحدی سیکیورٹی فورسز نے انہیں روکنے کے لیے مقدور بھر کاوشیں کیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی وجہ سے 57 کے قریب افراد ہلاک بھی ہو گئے۔ سپین کے پرائم منسٹر پیڈرو سانچیر نے سیوٹا کا ہنگامی دورہ کیا تاکہ صورت حال پر قابو پایا جا سکے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ حکومت ساٹھ ہزار میں سے سینتیس ہزار افراد کو واپس مراکو بھیجنے میں کامیاب ہوئی ہے مگر بقیہ 23 ہزار نوجوانوں کو تلاش کرنا، قابو پانا ایک ایسا ایشو ہے جس پر یورپ میں اچھی خاصی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فرانس، اٹلی، جرمنی اور یورپی ممالک نے سپین سے سرحدی کنٹرول سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی فارن آفس نے بھی اس پر سخت ردعمل دیا ہے جنہیں اپنی ہمسائیگی میں میکسیکو کی طرف سے ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔
امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے ہم وطنوں کے سامنے بڑھک ماری ہے کہ میں نے میکسیکو بارڈر پر دیوار تعمیر کرواتے ہوۓ کتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے ورنہ آج ہمارے ملک میں بھی غیر قانونی تارکین وطن ایسے ہی یلغار کرتے ہوۓ دندنا رہے ہوتے۔ یورپ کی تشویش اس وجہ سے بھی ہے کہ یورپی یونین کی وجہ سے ایک یورپی ملک میں داخلے کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ لوگ اگلے ملک میں بھی جا سکتے ہیں کیونکہ سرحدوں پر اس نوع کی کوئی رکاوٹیں نہیں ہیں۔ اس لیے یورپی ممالک کی پریشانی قابل فہم ہے۔ ویسے بھی امیگریشن کے حوالے سے سپین کو فرینڈلی کنٹری سمجھا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ درویش نے اپنے ایک ڈپلومیٹ فرینڈ سے پوچھا یورپ کا ویزہ لگوانے کیلیے سب سے بہتر ملک کون سا رہتا ہے، اس کا جواب تھا سپین۔
مراکش ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جہاں کے شاہ محمد ششم ملک کی سب سے بڑی قابل احترام اور مؤثر شخصیت ہیں۔ پرائم منسٹر عزیز اخنوچ کی منتخب حکومت بھی موجود ہے۔ آخر یہ نیک لوگ اپنے اسلامی ممالک کو اتنا اچھا خوشحال اور ترقی یافتہ کیوں نہیں بناتے کہ غیر مسلم یہاں رہنے کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھیں۔ مراکو تو رہا ایک طرف، خود ہمارا پیارا پاکستان جسے ہم نے ہندوؤں سے لڑ کر ایک ماڈل اسلامی مملکت کے خواب دکھا کر ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو گھروں سے بے گھر اور دس لاکھ بے گناہ انسانوں کو موت کی وادی میں اتار کر حاصل کیا تھا۔ 1947 میں ہمارے مسلمان جس ذوق شوق سے یہاں پہنچے تھے، آج اسی ذوق شوق سے اسے چھوڑ کر یورپ پہنچ جانا چاہتے ہیں۔ اسی تگ و دو میں وہ بیچارے کبھی ٹریولرز یا انسانی سمگلرز کے ہاتھوں لٹتے ہیں اور کبھی چوری چھپے غیر قانونی یورپ جانے والی کشتیوں میں ڈوب کر مر جاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی لاشیں جب گھروں میں پہنچتی ہیں تو ایک نوع کی قیامت برپا ہوتی ہے۔ مگر بہتر مستقبل کی شوق میں یورپ پہنچنے کی لگن ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے لوگ آخر اپنے ملکوں کو کیوں اس قابل نہیں بناتے، یہاں ترقی، خوشحالی، آزادی اور انسان دوستی وانسان نوازی جو آج مغرب یا یورپ کا طرۂ امتیاز ہے۔ ہم لوگ اپنے ملکوں اور اپنے لوگوں کو اس سے بہرہ ور کیوں نہیں کرتے؟ وہ انسانی حقوق اور انسانی آزادیاں ان معصوموں کو کیوں نہیں دیتے؟ اپنے دینی لوگوں سے بات کریں تو وہ کافروں پر لعنتیں بھیجتے نہیں تھکتے۔ ان کی تہذیب کو گندے انڈے اور نہ جانے کیا کچھ بول جاتے ہیں۔ ان کی مغربی تہذیب کو اتنا برا بیان کرتے ہوئے پیشگوئیاں فرماتے ہیں کہ:
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
شاخ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہوگا
آج اسی مغرب اور مغربی تہذیب کو بالخصوص ہماری مسلم اقوام سے ایک نوع کا خوف ہے کہ یہ لوگ ہمارے ممالک میں آ کر مذہبی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہماری تہذیبی اقدار پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ یہاں آ کر شریعت نافذ کرنے کے مطالبات شروع کر دیتے ہیں، کبھی حجاب کے نام پر اودھم مچانے لگتے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے ہمارے ممالک میں چائلڈ ابیوز جیسے سنگین اور دیگر مختلف النوع جرائم میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ آج پورا مغرب ہماری اس اسلامی یلغار سے خوفزدہ ہے اور اپنے امیگریشن قوانین کو تبدیل کرنے کے لیے ان کی حکومتوں پر عوام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ مغربی اہل دانش کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب آپ لوگوں کے پاس اتنی بڑی ہدایت، اعلیٰ مذہب، اعلیٰ ضابطہ حیات موجود ہے، کتاب مقدس کی صورت آخری خدائی الہامی پیغام بعینہ آپ کے پاس محفوظ ہے تو اس کی برکت سے آپ خود اپنے معاشروں کو اتنا اچھا کیوں نہیں بنا لیتے کہ تمہارے نوجوان مغرب کا رخ کرنے کی بجائے اپنے مذہب اور اپنی مذہبی اقدار کے گیت گائیں اور بہتر زندگی تلاش میں یورپ جانے کا خبط ذہنوں سے نکال پھینکیں۔
ویسے بھی اسلامی تعلیمات میں یہ واضح ہدایت موجود ہے کہ اسلامی مملکت ہی دارالسلام یعنی جائے امن و سلامتی ہوتی ہے۔ جبکہ غیر اسلامی مملکت کو دار الكفر سے بڑھ کر دار الحرب قرار دیا گیا ہے۔ یعنی بد امنی لڑائی اور جنگ والی جگہ۔ روز اول سے حکم دیا گیا ہے کہ اے ایمان والو! دار الكفر یا دار الحرب یعنی غیر اسلامی ملک سے ہجرت کرتے ہوئے دارالسلام یعنی اپنے اسلامی ملک میں لوٹ آؤ۔ سوائے انتہائی ناگزیر مجبوری کے وہاں رہنے کو بڑا گناہ اور پاپ قرار دیا گیا ہے۔ ہماری بنیادی اسلامی تعلیمات ہی نہیں بلکہ چودہ صدیوں پر محیط اسلامی شریعہ و فقہ کی کتابیں ان مباحث سے بھری پڑی ہیں۔ نہ جانے ہمارے نوجوان ان کا مطالعہ کیوں نہیں کرتے اور ہمارے مولوی صاحبان بھی اب اس نوع کی تفصیلات ان کے سامنے لاتے ہوئے کافی حد تک شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔