نظام کی منجدھار

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی وزیرداخلہ محسن نقوی کی تقریر کے اگلے روز پریس کانفرنس کرکے کم و بیش وہی تھیسز پیش کیا جو وزیرداخلہ پیش کر چکے تھے۔لب لباب یہی کہ گڈگورننس کے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔

 اب یہ آوازیں بھی آنے لگی ہیں کہ اس سارے بیانیے کا مقصد قوم کو کسی نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا نہ ہو ۔اس بات میں تووزن ہے کہ آبادی اگر چارگنا بڑھ گئی ہے تو انتظامی یونٹس بھی بڑھنا چاہئیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ بڑے یونٹوں میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں اور جن کے حوالے سے کہا جا رہا ہے، نظام فیل ہو گیا ،کیا ان کا علاج کئے بغیریہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ یونٹ چھوٹے ہوں گے تو وہ خرابیاں ختم ہوجائیں گی؟ گورننس میں خرابی کہاں سے آئی؟ کیسے پیدا ہوئی۔ قانون ڈھیلا ڈھالا ہو؟ نظام انصاف کمزور ہے؟ یا پھر جو لوگ نظام کے اوپر بیٹھے ہیں ان کی ترجیحات میں یکسوئی نہیں؟ اس کا تعین کئے بنا صرف یہ کہہ دینا کہ گڈ گورننس کے لئے چھوٹے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں۔ ایک مبہم سی بات ہے۔

چاہیے تو یہ کہ اس پر کھلی بحث ہو۔ ضلعی، ڈویژنل، صوبائی اور وفاقی سطح پر سیمینار کرائے جائیں، پھر سیاستدان مل بیٹھیں، اس کے بعد طاقت کے مراکز بھی اپنا ان پٹ ڈالیں، معاملہ اتنا سادہ تو نہیں کہ بیک جنبشِ قلم ماضی کولپیٹ کر مستقبل کی بساط کھول دی جائے۔ اگر نظام فیل ہوا ہے تووہ سب ہی فیل ہوئے ہیں، جنہوں نے اس نظام سے فائدے اٹھائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی یہی کہا کہ جو کچھ بھی ہو، وہ آئین کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔ تو کیا ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا وہ آئین کے دائرے میں نہیں تھا۔ کسی کو تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بات آئینی دائرے سے باہر گئی تو نظام تباہ ہو گیا۔ آئین کے دائرے سے باہر گئی کیسے اور کب، کوئی تو حد تعین کرنا پڑے گی  اگر آج یہ متعین نہیں کی جاتی تو آگے چل کر جب چھوٹے انتظامی یونٹس بن جائیں گے وہ بھی حد توڑیں گے، پھر کیا ہوگا؟کیا مزید نئے یونٹس بنانے کی طرف جائیں گے؟ مسئلہ صرف یہی نہیں کہ آبادی بڑھ گئی ہے اس لئے گورننس نہیں رہی۔ آبادی بڑھی ہے تو اداروں کی توسیع بھی تو ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھی ہیں، سینیٹ  کے ممبران بڑھ گئے ہیں۔ پولیس کی نفری کئی گنا بڑھ چکی ہے، انتظامی ڈھانچہ وسیع ہوچکا ہے۔ نئے اضلاع بھی بنا دیئے گئے ہیں اور تحصیلیں بھی بڑھ گئی ہیں۔اصل مسئلہ یہ نہیں بلکہ ایک نظام پر مکمل عملدرآمد کا ہے۔ قانون موجود ہے مگر وہ کھلونا بن چکا ہے۔ بالادست طبقے اسے موم کی ناک سمجھتے ہیں، یہی بالادست طبقے چھوٹے انتظامی یونٹوں میں بھی رہیں گے بلکہ مزید مضبوط ہو جائیں گے، پھر کیا ہوگا، گورننس تو مزید چند طبقوں کے چنگل میں پھنس جائے گی۔

نظام کوئی بھی ہو اگر اسے پوری شفافیت کے ساتھ نافذ نہ کیا جائے تو آسمانی صحیفہ بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ دنیا میں ایسا ہی نظام ہے، جیساہمارے ہاں ہے۔ وہی انتظامیہ، وہی پولیس، وہی ریاستی مشینری، وہی وزارتیں، وہی عدلیہ، فرق صرف اتنا ہے وہاں جو قانون ہے، وہ سب کے لئے ہے، اس میں امتیازات نہیں، اونچ نیچ نہیں، جب یہ تفریق آجاتی ہے تو صوابدیدی اختیارات کا زہر بھی نظام میں گھل جاتا ہے۔ پھر کرپشن بھی آتی ہے اور ریاست اس گاڑی کی طرح ہچکولے کھانے لگتی ہے، جس کے رنگ پسٹن میں کچرا آجائے۔ اس بات کا کھوج لگائے بغیر کہ ناکامی کی وجوہات کیا ہیں، علاج تجویز کر دینا ایسا ہی ہے جیسے ڈاکٹر کسی مریض کو دیکھے بغیر ادویات لکھ دے۔یہ کڑوا سچ ہے کہ اس ملک کو نظام تو ملے مگر ان پر عمل نہیں ہونے دیا گیا۔ اس حوالے سے ایک شعر یاد آ رہا ہے:

مسجد تو بنا دی پل بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

دل اپنا پرانا پاپی تھا، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

ایک چھوٹا سا گھر چلانے کے لئے بھی اگر اصول و روایات پر عمل نہ کیا جائے تو انتشار پھیلتا ہے۔ یہاں ہم روزانہ ہی یہ بات سنتے ہیں کہ اداروں کواپنی حدود میں رہ کر قومی سلامتی و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ بات بذاتِ خود ایک بڑی خرابی کی نشاندہی کرتی ہے۔گویا ہمارے ہاں یہ رجحان موجود ہے کہ ادارے اپنی حدود سے باہر نکل کر کھیلتے ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ آئینی حدود سے نکل کر کھیلنے کی اجازت بھی مل جاتی ہے یا وہ ازخود حاصل کرلیتے ہیں۔ کیا کسی ترقی یافتہ ملک میں ایسا ممکن ہے۔ برطانیہ جیسا ملک کہ جہاں کوئی تحریری آئین نہیں ایک روایات پر مبنی نظام چل رہا ہے، وہاں بھی قانون سب کے لئے یکساں ہے چاہے وہ ایلیٹ کلاس سے ہے یا لیبر کلاس سے۔ جب آپ نظام کو کمزور کر دیں گے تو وہ دنیا کا سب سے بہتر نظام ہی کیوں نہ ہوناکامی سے دوچار ہوگا۔

ہمارے رہنما مدینے کی ریاست کا حوالہ بہت دیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ مدینے کی ریاست میں امیر اور غریب کے لئے علیحدہ قانون نہیں تھا۔ ریاست مدینہ کے بانی کا پیغام تو یہ تھا جرم اگر میری بیٹی  بھی کرلے تو اسے بھی وہی سزا ملے گی جو عام آدمی کو ملتی ہے۔ 1973 کے آئین میں آپ تبدیلی پر تبدیلی کرتے جائیں، ترمیم پر ترمیم لے آئیں،  اس وقت تک کوئی فرق نہیں پڑے گا جب تک آئین کو سپریم دستاویز سمجھ کر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا جاتا۔ اچھا ہے یہ اعتراف کیاجا رہا ہے کہ نظام چل نہیں رہا۔ اب تھوڑی سی ہمت کرکے یہ اعتراف بھی کیا جائے کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں تو پھر ایک اجتماعی عہدنامے اور نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے، جو ہمیں اس منجدھار سے نکال سکے، جس میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)