امرت دھارا یا نیا پواڑا
- تحریر سہیل وڑائچ
- اتوار 02 / اگست / 2026
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یا چھوٹے انتظامی یونٹ بنانا یقینی طور پر امرت دھارا ہے لیکن نئے صوبے بنانے کی بات کرنا لازماً ایک نیا پواڑا ہے۔
امرت دھارا یا اکسیر اعظم وہ تصوراتی دوا ہے جس سے سارے مرض دور ہوسکتے ہیں۔ مرکز اور صوبے کے بعد ضلع یا ڈویژن کو اختیارات دینا حکومت اور عوام کے فاصلوں کو دور کرسکتا ہے۔ ’پواڑا ‘ پنجابی کا مشہور لفظ ہے پواڑا ڈالنا، جھگڑا ڈالنے یا مسئلہ پیدا کرنے کو کہتے ہیں۔ نئے صوبوں کی بات کرنا پواڑا ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ مسئلہ کالا باغ ڈیم اور نہروں کی تعمیر جیسا متازعہ امر ہے۔ سندھ میں وہاں کے قدیم باسی صوبے کی تقسیم کے سخت خلاف ہیں۔ فی الحال پنجاب کی کئی صوبوں میں تقسیم پر کوئی بڑی مخالفت نہیں لیکن پیپلزپارٹی پر شدید اعتراض یہ ہے کہ آپ سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں اور پنجاب کی تقسیم کے حامی ہیں۔ بلکہ آپ نے اپنی پارٹی کی تنظیم کو پہلے ہی جنوبی اور مرکزی پنجاب میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ واضح پالیسی تضاد ہے۔ مسلم لیگ نون، تحریک انصاف اور حتیٰ کہ جماعت اسلامی بھی اپنی اپنی پارٹیوں میں پنجاب کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے بیٹھی ہوئی ہیں۔ گویا صرف لوہا پنجاب میں گرم ہے جس پر صوبہ پنجاب میں ہی آسانی سے چوٹ لگ سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی علانیہ بلوچستان کی تقسیم کے خلاف ہیں کل تک خیبر پختونخوا کو قبائلی علاقوں میں ضم کرنے والے عناصر دوچار سال بعد ہی اسے صوبوں میں تقسیم کرنے کی بات کیسے کرسکتے ہیں؟
وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ یہ نظام گر چکا ہے تو اصل میں اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نظام کی بنیادیں سطح میں گہری نہیں، بلدیات اور مقامی حکومت گلی محلے میں اور لوگوں میں قریب ترین ہوتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140 اے نامکمل ہے اور تشریح مانگتا ہے اسی وجہ سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1976 میں لاہور میں دنیا بھر کے ماہرین بلدیات کو اکٹھا کرکے مقامی سطح کے نظام پر تجاویز طلب کی تھیں۔ ناچیز کے پاس اس بین الاقوامی کانفرنس کی تقریروں پر مشتمل کتاب موجود ہے۔ گویا اس وقت بھی آئین میں مقامی حکومت کے حوالے سے کمی کو محسوس کیا جارہا تھا۔ یہ کمی آج بھی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے وفاق سے اختیارات لے کر صوبے کو نیا آمر بنا دیا اور ہمارے اضلاع کے شہر اور دیہات اختیارات اور فنڈز سے محروم رہے۔ پاکستان کی تاریخ کا بہترین ، موثر اور زیادہ اختیارات والا بلدیاتی نظام جنرل پرویز مشرف لے کر آئے مگر اس نظام میں صلاحیت اور جوابدہی کی کمی جیسی خامیاں سامنے آئی تھیں۔ اس نظام کو چلانا ہے تو پرائیوٹ ماہرین معیشت اور ماہرین تعمیرات کواس نظا م میں شامل کرنا ہوگا۔ صرف بابو اس نظام کیلئے آمدنی پیدا نہیں کرسکتے۔ اس کیلئے جدید فنانس افسروں کی ضرورت ہوگی۔
یہی نظام اصلاح اور بہتری کے ساتھ اگرضلعی سطح پر نہیں توفی الحال اسے ڈویژنل سطح تک لے جایا جائے۔ صلاحیت اور جوابدہی ضلع میں مشکل ہے لیکن ڈویژنل سطح پرممکن ہے۔ میرے مہربان، مجھ سے کہیں عقل مند اور برتر میاں عامر محمود نئے صوبے بنانے کی تجویز دلائل کے ساتھ تسلسل سے پیش کر رہے ہیں۔ یہ ناچیز ان سے کم علم ہے مگر اختلافِ رائے کا بطورعام شہری حق تو رکھتا ہے۔ نئے صوبے بنانے کا خیال وفلسفہ ظاہر ہے بنیادی طور پر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے۔ مگر ناچیز کے خیال میں نئے صوبے بنانا نہ صرف تاریخ، جغرافیے اور تجربے سے انحراف ہے بلکہ دراصل یہ پاکستان کو توڑنے کی ابتدا ہے۔ سندھ میں کچھ بھی کرلیں مہاجر اکثریت اور سندھی اکثریت کے الگ الگ صوبے بنیں گے۔ قدرت نےانتظام یہ کر رکھا ہے کہ ایک وقت میں جب الطاف حسین سٹی اسٹیٹ کے نام سے آزادی کی خفیہ تحریک چلا رہے تھے تو سندھی پاکستان کی سلامتی کی ضمانت تھے۔ اور جب جی ایم سید جئے سندھ کے تحت سندھودیش بنانا چاہتے تو مہاجر پاکستان کی سلامتی اور اتحاد کی ضمانت تھے۔ سو قدرت نے وہاں خود توازن کا نظام قائم کر رکھا ہے کہ پاکستان محفوظ وسلامت رہے۔
آج پیپلزپارٹی اندرون سندھ میں ہار جائے اور جئے سندھ وہاں جیت جائے تو سندھی صوبہ تو خود بخود آزاد ہو جائے گا۔ کراچی میں آج بھی الطاف کے حامی ختم نہیں ہوئے۔ کل کو سٹی اسٹیٹ بنانے کی خدانخواستہ کوئی تحریک پھر چل پڑی تو کیا دوبارہ فوجی آپریشن کرکے اس تحریک کو روکا جاسکے گا۔ گویا سندھ کی تقسیم سے پاکستان کمزور، غیرمتوازن اور قابل تقسیم ہو جائے گا۔ بلوچستان کا بلوچ علاقہ پہلے ہی شورش زدہ ہے جس دن وہاں آزادانہ انتخابات ہوگئے، بلوچ اکثریتی صوبے میں علیحدگی پسندانہ جذبہ انہیں بغاوت پرآمادہ کرسکتا ہے۔ بلوچستان کو بھی قدرت نے بلوچ اور پشتون آبادی سے متوازن کر رکھا ہے۔ پشتون نام نہاد آزادی کی دہشتگردی میں شامل نہیں ہیں اور بلوچستان کی نام نہاد آزادی کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ہیں لیکن پشتون صوبہ بنا تو کئی نئی آزادی کی تحریکیں جنم لے کر نئے نئے مسائل پیدا کریں گی۔ خدا نے بلوچستان میں جو بلوچ پشتون توازن قائم کررکھا ہے اسی پر اکتفا کریں۔
پنجاب کا معاملہ سب سے الگ ہے۔ بظاہر پنجاب کی ناک کو موڑنا سب سے آسان لگ رہا ہے۔ لیکن یاد رکھیں پنجاب کا ردعمل تاخیر سے آتا ہے اور جب آتا ہے تو پھر سب کچھ بدل دیتا ہے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پنجاب بحیثیت آزاد ملک پاکستان بننے سے 182 سال پہلے وجود میں آیا جب سکھوں نے لاہور پر 1765 میں قبضہ کیا۔ اُس وقت سے ہی پنجاب ایک آزاد ملک بن گیا۔ تاریخی طور پر پنجاب کی شناخت سب صوبوں سے پرانی ہے۔ کوئی مانے نہ مانے پاکستان کی سب سے طاقتور ترین ڈھال پنجاب ہے اور پنجاب کے بہادر جوان ہی پاکستان کے دفاع اور استحکام کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دےرہے ہیں۔ پنجاب کی تقسیم دفاعی ڈھال میں چھید کرنے اور مضبوط ترین فوج کی شناخت کو کمزور کرنے کا سبب بنے گی۔ پنجاب نے پاکستان کیلئے اپنی شناخت، زبان اور ثقافت تک قربان کردی تاکہ پاکستان مضبوط بنے۔ مگر یاد رہے پنجاب کی تقسیم اس صوبے میں پنجابی قوم پرستی کو فروغ دے گی جو فی الحال سرے سے مفقود ہے۔ مگر اس کے بیج دلوں میں کہیں موجود ضرور ہیں جو کسی وقت بھی فصل بن سکتے ہیں۔
مسلم لیگ ن پنجاب سینٹرک سیاسی جماعت ہے۔ اس سال وہ ترقیاتی بجٹ میں سے تقریباً 500 ارب وفاق سے کم لینے پر راضی ہوگئی ہے۔ اگر اس نے پنجاب کی کئی صوبوں میں تقسیم بھی مان لی تو اس کی طاقت کمزور ہوجائے گی اور اس کی سیاست کو ضعف پہنچے گا ۔ تحریک انصاف بھی اکثریت پنجاب سے ہی لیتی رہی ہے۔ اس نے پنجاب کی تقسیم پر ہامی بھری تو اسے کئی علاقائی پارٹیاں ختم کردیں گی۔ پیپلزپارٹی سے تو پہلے ہی پنجاب اس کی سندھ سینٹرک پالیسی کی وجہ سے ناراض ہے۔ گویا سیاسی جماعتوں نے اگر پنجابیوں کو غلطی سے کاکروچ سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو یہ سوئے ہوئے شیر کہیں جاگ نہ جائیں اور جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ نہ لگادیں۔
ملک ہوں یا صوبے، شہرہوں یا دیہات ، ہر کوئی اپنی تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ سے جڑا ہوتا ہے، زورزبردستی سے تاریخ، ثقافت اور جغرافیے میں کی گئی تبدیلیاں پائیدار نہیں ہوتیں۔ ان کا ردعمل خطرناک ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ ریفرنڈم تیار ہے اصل مسئلہ سوال کا ہوگا صوبے بنانے کا سوال ڈالا گیا تو نیا پواڑا پڑے گا اور اگر نئے انتظامی یونٹس یا اختیارات کی ڈویژنل یا ضلعی سطح تک منتقلی کا سوال ڈالا گیا تو یہ امرت دھارا ہوگا۔
ریفرنڈم تاریخی طور پر بری شہرت رکھتے ہیں۔ دعا یہی ہے کہ اس بار ریفرنڈم امرت دھارا کی بنیاد بنے نہ کہ ایک نئے پواڑے کی…!!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)