پرانی چٹخنی، نادیدہ دروازہ
- تحریر حاشر ارشاد
- اتوار 02 / اگست / 2026
بات تازہ ہے۔ تیس جولائی کو اسلام آباد میں پہلی پاکستان اکنامک سمٹ کے سٹیج پر، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وہ بات پھر کہہ دی جو ہر چند برس بعد کہی جاتی ہے : موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اور نئے انتظامی یونٹ یا صوبے بنانے پر اتفاق کریں، ورنہ دس سال بعد بھی ہم آج ہی کے مسائل پر بحث کر رہے ہوں گے۔
بات ہونٹوں نکلی اور فوراً کوٹھا چڑھ گئی۔ سوشل میڈیا پر اٹھارہ اکائیوں والا ایک نقشہ گردش کرنے لگا۔ ہزارہ صوبہ تحریک نے فوری خیرمقدم کیا اور یاد دلایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی تین بار ان کے حق میں قرارداد پاس کر چکی ہے، اور اس تحریک میں سات جانیں جا چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے احتیاط کا مشورہ دیا۔ مسلم لیگ (ن) نے یاد دلایا کہ پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب کی قرارداد پہلے سے موجود ہے۔ تحریک انصاف والے ابھی سوچ رہے ہیں کہ اونٹ کی کس کروٹ پر رہنے کا کوئی فائدہ متوقع ہے۔
پر سچ تو یہ ہے کہ یہ سکرپٹ نیا نہیں ہے۔ یہی مکالمے یہ ملک اپنی پیدائش سے اب تک، ہر کچھ عرصے بعد دہراتا ہوا ملتا ہے، تقریباً لفظ بہ لفظ۔ اسی عرصے میں، سرحد کے اس پار، یہی سوال جب اٹھا، اسے حتمی جواب ملنے میں دشواری نہ ہوئی۔ انیس سو ساٹھ میں دو لسانی بمبئی ریاست کو توڑ کر ایک ہی دن میں دو نئی ریاستیں بنائی گئیں، مہاراشٹر اور گجرات۔ انیس سو تریسٹھ میں آسام سے ناگالینڈ الگ ہوا۔ انیس سو چھیاسٹھ میں پنجاب سے ہریانہ کاٹا گیا (جی جی، پنجاب کی پھر تقسیم) ۔ انیس سو اکہتر میں ہماچل پردیش کی مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت کو بدل کر مکمل ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔ انیس سو بہتر میں منی پور، تری پورہ اور میگھالیہ کو بیک وقت ریاستی حیثیت ملی۔ انیس سو پچھتر میں سکم کو ضم کر کے بائیسویں ریاست کا درجہ دیا گیا۔ انیس سو ستاسی میں میزورم، اروناچل پردیش اور گوا تینوں مکمل ریاستیں بنیں۔ دو ہزار میں مدھیہ پردیش سے چھتیس گڑھ، اتر پردیش سے اترا کھنڈ، اور بہار سے جھارکھنڈ برآمد ہوئیں، تینوں ایک ہی سال میں۔ اور دو ہزار چودہ میں آندھرا پردیش سے تلنگانہ کا جنم ہوا۔
پچھلے چھیاسٹھ برس ہیں، نو مرتبہ سوال اٹھا، بغیر کسی مارشل لا یا آئینی بحران کے، ہر دفعہ جواب دے دیا گیا، حل نافذ ہو گیا۔ روزمرہ کے عام پارلیمانی معمول کے طور پر۔ جمہوریت شاید اسی کا نام ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہاں رک کر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ بھارت کا نظام کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔ ہر مطالبہ آسانی سے نہیں مانا گیا۔ تلنگانہ کی تحریک خود ساٹھ برس تک چلی، اس میں مظاہرین مارے گئے، شورش رہی، سڑکوں پر لڑائی ہوئی لیکن بالآخر فیصلہ پارلیمان میں ہی ہوا۔
ساتھ ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ مغربی بنگال کے دارجلنگ علاقے سے دہائیوں کی پرتشدد جدوجہد کے باوجود گورکھالینڈ کا مطالبہ آج تک نہیں مانا گیا۔ یعنی بھارت کا نظام ہر مطالبہ پورا نہیں کرتا لیکن وہ مطالبے کو ایک حتمی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت ضرور رکھتا ہے، خواہ وہ انجام ”ہاں“ ہو یا ”نہیں“ ۔ ہماری طرح ہر فیصلہ عالم برزخ میں الٹا لٹکا نہیں رہتا۔ اگر 1955 کو ہی بنیاد بنا لیں جب بھارت نے پہلی بڑی انتظامی تقسیم کا سوچنا شروع کیا تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ ان اکہتر برسوں میں پاکستان کا نقشہ کس سمت حرکت کرتا رہا؟ جواب ہے کہ الٹی سمت میں۔ انیس سو پچپن میں، جس وقت بھارت اپنی ریاستوں کو از سرِ نو ترتیب دے رہا تھا، پاکستان نے اپنے مغربی بازو کے چاروں صوبوں یعنی پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کو ملا کر ایک اکائی، ”مغربی پاکستان“ بنا دیا۔ یہ تخلیق نہیں تھی، انضمام تھا۔ یہ انتظام پندرہ برس چلا۔ انیس سو ستر میں جنرل یحییٰ خان نے اسے مارشل لا کے حکم نامے سے توڑا، آئینی عمل سے نہیں، اور صرف وہی چار صوبے بحال کیے جو انیس سو سنتالیس میں پہلے سے موجود تھے۔ یہ کوئی نیا صوبہ نہیں تھا، محض سنہ سنتالیس کی حالت میں بنیادی واپسی تھی۔ اس کے لیے پنجابی میں ایک بڑا اچھا محاورہ ہے، وہ آپ خود یاد کر لیں۔
اسی سال، انیس سو ستر میں، بہاولپور کی بحالی کی تحریک نے سر اٹھایا۔ وہ ریاست جو انیس سو سنتالیس میں الحاق کے بعد کچھ عرصہ اپنی حیثیت میں رہی، پھر ون یونٹ میں ضم کر دی گئی۔ سڑکوں پر مظاہرے ہوئے، جانیں گئیں، تحریک نے اپنے مطالبے کے سر پر انتخابی نشستیں تک جیتیں۔ ہوا کیا؟ چھپن برس بعد آج بھی بہاولپور پنجاب کا حصہ ہے۔ دو ہزار نو میں گلگت بلتستان کو ”خودمختاری“ دی گئی، مکمل صوبائی درجہ جان بوجھ کر نہیں دیا گیا، کیونکہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے مکمل انضمام سیاسی طور پر ممکن نہ تھا۔ آج تک وہاں کے عوام قومی اسمبلی میں نمائندگی سے محروم ہیں۔ رہی خود مختاری کی حقیقت تو گلگت بلتستان کے کسی باشندے کے ساتھ آدھ گھنٹہ بیٹھ جائیں، اصطلاح کے نئے معنی چودہ طبق روشن نہ کر دیں تو ہمارا گریبان پکڑ لیجیے گا۔
دو ہزار بارہ میں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی، دونوں نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور کی علیحدہ صوبائی حیثیت کے حق میں قراردادیں منظور کیں۔ چودہ برس بعد ، دو ہزار چھبیس میں، یہ قراردادیں اب بھی قراردادیں ہی ہیں، قانون نہیں بنیں۔ صوبہ تو دور کی بات ہے۔ تین الگ تحریکیں۔ بہاولپور، جنوبی پنجاب، ہزارہ، تین الگ دہائیوں میں، تینوں میں قراردادیں منظور ہوئیں، تینوں میں جانیں گئیں، اور تینوں آج بھی وہیں کھڑی ہیں جہاں سے چلی تھیں۔ یہ اتفاق نہیں ہو سکتا۔ کہیں کوئی ایسی چٹخنی ہے جو دروازے کو کھلنے ہی نہیں دیتی۔ آئیے ذرا اس چٹخنی کا سراغ لگاتے ہیں۔
لیجیے مل گئی۔ یہ تو برانڈڈ نکلی۔ اس پر بڑے خوبصورت الفاظ میں کندہ ہے۔ دفعہ دو سو انتالیس شق چار، تیار کنندہ آئین پاکستان۔ 239۔ 4 کے مطابق، پاکستان میں کوئی نیا صوبہ بنانے کے لیے پہلے اس صوبے کی اسمبلی، جسے تقسیم کیا جانا ہے، کو دو تہائی اکثریت سے منظوری دینی پڑتی ہے، پھر یہی ترمیم قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں میں دو تہائی اکثریت سے پاس ہونی چاہیے۔ بھارت میں یہی معاملہ دفعہ دو اور تین کے تحت طے ہوتا ہے: پارلیمنٹ محض سادہ اکثریت سے، عام قانون سازی کے ذریعے، نئی ریاست بنا سکتی ہے اور متعلقہ ریاست کی رائے صرف سنی جاتی ہے، اس کی رضامندی لازم نہیں۔ ایک طرف عام قانون، دوسری طرف تین الگ اداروں سے تین بار دو تہائی حمایت، اور جس صوبے کو تقسیم کیا جانا ہے، اسی کو اپنی تقسیم پر ویٹو کا اختیار بھی حاصل ہے۔ بن گئے صوبے!
اس چٹخنی کی بھی اپنی ایک کہانی ہے، جو خود اس پر سب سے بڑا طنز ہے۔ انیس سو چھپن کے آئین میں صوبے کی حدود بدلنے کے لیے صرف سادہ اکثریت درکار تھی، بالکل بھارت کی طرح۔ انیس سو باسٹھ میں ایوب خان کے آئین نے یہ حد بڑھا کر دو تہائی کر دی، اور یہ اضافہ اتفاقی نہیں تھا: مقصد یہی تھا کہ ون یونٹ، جو خود سادہ اکثریت سے ہی بنایا گیا تھا، اب سادہ اکثریت سے کبھی توڑا نہ جا سکے۔ چٹخنی ایسے دروازے کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی جو خود ہی غیر آئینی کارخانے میں ڈھلا تھا۔ ون یونٹ بہرحال مر گیا، لیکن دروازہ کھولے بغیر۔ راستہ کھڑکی سے بنانا پڑا، مارشل لا کی کھڑکی سے۔
پاکستان بننے کے چھبیس سال بعد جب خیال آیا کہ آئین بھی بنا کر دیکھ لیا جائے۔ بغیر سر کا جسم کب تک چلے گا تو 1973 کی وہ دستاویز وجود میں آئی جس پر آج بھی سر پھٹول جاری ہے۔ آئین بن گیا پر چٹخنی کھولنا آئین ساز بھول گئے۔ وہی دو تہائی کی شرط، جوں کی توں اٹھا کر نئے دروازے پر لگا دی گئی۔ جس دروازے کی حفاظت کے لیے یہ چٹخنی بنی تھی، اسے کئی دہائیوں پہلے وقت کی دیمک کھا کر ختم کر چکی ہے پر چٹخنی باقی ہے۔ اور ہم ایسے سراب گزیدہ ہیں کہ صرف چٹخنی دیکھ کر ہی دہلیز پار کرنے سے گریزاں ہیں گویا کوئی نادیدہ دروازہ اب بھی وہیں موجود ہو۔
اور ہماری اس فریب خوردگی کا خمیازہ ہم ہی بھگت رہے ہیں، اس کا احساس بھی ہے پر چٹخنی کھولنے کی بات کرنے کی ہمت کسی میں نہیں۔ عبدالعلیم خان صوبوں کو چار چار حصوں میں بانٹ کر سولہ صوبے بنانے کی بات کرتے ہیں، کوئی وائرل نقشہ اٹھارہ اکائیاں تجویز کرتا ہے، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی حامی بنتی ہے مگر سندھ کی تقسیم کی بات آئے تو مرنے مارنے پر تل جاتی ہے، مسلم لیگ (ن) کہتی ہے پارلیمان میں لے آؤ، جانتے ہوئے کہ پارلیمان میں کچھ ہو گا نہیں، تحریک انصاف کسی گنتی میں نہیں، مذہبی جماعتوں کو ختم نبوت کانفرنس سے فرصت نہیں ملتی اور اصل حاکم تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ آپ یہ مکالمہ ہزار دفعہ دہرا لیں۔ یہ گفتگو لاکھ دفعہ کر لیں۔ یہ سب مکالمے، یہ سب باتیں، خواہ کتنی ہی مخلصانہ ہو، اسی ایک دیوار سے ٹکرا کر واپس آ جائیں گی جس سے ٹکرا کر بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ کی تحریکیں پہلے ہی واپس آ چکی ہیں۔ نیت کی کمی کبھی مسئلہ نہیں رہی، نہ عوام کے مطالبے کی شدت مسئلہ ہے۔ مسئلہ وہ چٹخنی ہے جو اب بھی ایک نادیدہ دروازے پر لگی ہے اور بند ہے۔
نتیجہ سامنے ہے: پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے ملک کا انتظامی نقشہ جو انیس سو سنتالیس میں چار صوبوں پر منجمد ہو گیا، جن میں سے تین اپنے ابتدائی تئیس برسوں میں سے پندرہ برس ایک ہی اکائی میں دبے رہے، آج چھبیس کروڑ آبادی کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتا۔ چھوٹے، زیادہ قابلِ انتظام انتظامی یونٹ کسی ہوائی نظریے سے جڑی مفاد پرستی کے لیے نہیں ہیں۔ عوام کے لیے ہیں۔ نئے یونٹ ہزارہ اور جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے پچاس برس پرانے، پرامن، آئینی راستے سے کیے گئے مطالبات کا جواب ہیں۔ رکاوٹ نہ جغرافیہ ہے، نہ آبادی، نہ وسائل، بس وہی چٹخنی ہے جو ایک ایسے دروازے کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھی جو خود چھپن برس سے موجود ہی نہیں۔
جب تک یہ چٹخنی نہیں اتاری جاتی، ہر دس سال بعد کوئی وزیر اسی سٹیج پر کھڑا ہو کر یہی اعلان کرے گا کہ نظام ناکام ہو چکا، اور نادیدہ دروازہ ویسے ہی بند رہے گا جیسے آج ہے۔ اور ہم، ہم عوام، دہلیز کے اس پار کھڑے سوچتے رہیں گے کہ کبھی یہ دہلیز عبور ہو گی بھی یا نہیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)