’ہارڈ اسٹیٹ‘ میں بااختیار کون ہوگا؟
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 02 / اگست / 2026
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کا ایک ایسا تصور پیش کیا جو اس اصطلاح کی عام تفہیم سے مختلف ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے قانون و آئین کی بالادستی اور سب کی جواب دہی کے بارے میں بات کی اور بتایا کہ حقیقی ’ہارڈ اسٹیٹ‘ اس معاشرے کو کہتے ہیں جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، ہر کسی کو انصاف ملے اور کوئی قانون کی خلاف ورزی کا حوصلہ نہ کرے۔
یہ باتیں سننے میں بھلی اور جمہوریت اور انسانی حقوق کی بنیاد پر چلنے والی تمام مغربی ریاستوں کے نظام سے بہت قریب ہیں۔ لیکن ان ممالک میں قانون کے سامنے جواب دہی کا تصور اس وقت راسخ ہؤا ، جب اختیارات کی تقسیم کا قضیہ ہمیشہ کے لیے حل کرلیا گیا۔ جب یہ طے ہوگیا کہ انتخابات شفاف ہوں گے، ریاست کا ہر ادارہ، ہر شعبہ اور ہر فرد ان حدود کے مطابق کام کرے گا جو ملکی قانون مقرر کرتا ہے۔ قانون سازی کا اختیار بند کمروں میں کھسر پھسر کرنے والے نادیدہ چہروں کو نہیں ہوگا بلکہ پارلیمنٹ میں کھلی بحث اور غور خوض کے بعد کوئی بھی قانون بنایا جائے گا یا اس میں ترمیم وتبدیلی کی جائے گی۔ اس طرح ایک ایسی ریاست وجود میں آتی ہے جس میں کسی فرد کو کسی پر برتری حاصل نہیں ہے ، جہاں ملک کا وزیر اعظم یا سربراہ مملکت بھی قانون کے سامنے ویسے ہی جواب دہ ہے جیسے کسی دکان یا فیکٹری میں کام کرنے والا کوئی عام شہری۔ جہاں جج قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور پولیس شواہد اور حقائق کی بنیاد پر مقدمے قائم کرتی ہے۔ جھوٹ اور گواہوں کی ناقص اور گمراہ کن کہانیوں اور فرضی قصوں کو قانونی کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جاتا۔
اس طرح وجود میں آنے والی ریاست کو شاذ ہی ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کہا جاتا ہے بلکہ اس کے بارے میں انسان دوست ریاست کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ عام طور سے یورپی ممالک کی بیشتر جمہوری مملکتیں اسی معیار کو پانے کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل رہتی ہیں۔ ہر ریاست کی کوشش ہے کہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ احساس تحفظ دیا جائے، ان کی زندگی خوش حال و اطمینان بخش بنانے کے لیے اقدامات ہوں، کسی عدالت میں محض خواہشات اور سیاسی مفادات کی بنیاد پر مقدمے قائم کرکے سیاسی مخالفین کو قید نہ کیا جائے اور میڈیا کو خبر دینے اور معاملات پر رائے زنی کا مکمل اختیار ہو۔ یہ رائے حکومتی پالیسیوں کے خلاف بھی ہوسکتی ہے لیکن محض اس بنیاد پر کسی صحافی یا اخبار کو ملک سے دشمنی کا الزام لگا کر اظہار کے حق سے محروم نہیں کیاجاتا۔
بہت لوگ جانتے ہوں گے کہ ہرسال مختلف مغربی ادارے ایسے جائزے جاری کرتے رہتے ہیں جن میں سب سے بہتر رہنے کے قابل ملک، سب سے زیادہ محفوظ ملک، سب سے زیادہ قانون پر عمل کرنے والا ملک، سب سے زیادہ آزادی رائے کا احترام کرنے والا ملک جیسے معیار مقرر کرکے دنیا کے مختلف ممالک کی صورت حال کی گریڈنگ کی جاتی ہے۔ ایسی گریڈنگ میں عام طور سے یورپی یا جمہوری نظام پر چلنے والے دیگر ممالک ہی پہلی دس پوزیشن حاصل کر پاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک جن کے لیڈر دن رات جان جوکھم میں ڈال کر عوام کی بہبود، خوشی اور مفاد کے لیے محنت کرنے کے دعوے کرتے ہیں، کبھی اس قسم کے جائزوں میں پہلی ایک سو پوزیشن میں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ ہمارے جیسے کم حوصلہ یہ کہہ کر دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ یہ جائزے مغربی ممالک کی سازش کا نتیجہ ہے اور یہ لوگ خود ہی معیار مقرر کرکے خود کو ہی سب سے زیادہ گریڈنگ میں شامل کرلیتے ہیں تاکہ مسلمان ملکوں کو نیچا دکھایا جاسکے۔ لیکن کبھی کسی مسلمان ملک کی کسی تنظیم نے ایسا کوئی جائزہ تیار کرنے یا عوام کی صورت حال کا معیار پرکھنے کی کوئی عملی کوشش نہیں کی۔ کیوں کہ اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔
اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے۔ جن ملکوں میں دن رات حکمران یہ دعوے کرتے ہوں کہ ملک میں دودھ کی نہریں بہنے والی ہیں اور عوام کی خوشحالی کے لیے ملک کی قیادت راتوں کو چین سے سوتی نہیں ہے، وہاں کسی جائزے یا تنقیدی تجزیے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ بس ایک سراب ہے جو عام کردیا گیا ہے، ایک جھوٹ ہے جو مسلسل بولا جارہا ہے اور اس سراب یا فریب کا پردہ چاک کرنے کی ہر کوشش ملک سے غداری اور وطن فروشی کے طور پر شمار کی جاتی ہے۔ اس پہلو سے اب اگر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی گفتگو کے دوسرے حصے پر غور کیا جائے جس میں انہوں نے ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کا نظریہ پیش کرنے کے بعد ملک کے ساتھ وفاداری کا سبق یاد کرانے کی کوشش کی تھی تو بات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے حقوق کی بہت بات کرتے ہیں لیکن کبھی یہ سوال نہیں کرتے کہ ان کے فرائض کیا ہیں؟ شاید ان کا یہ سوال درست ہو لیکن پاک فوج کے ترجمان کی معلومات کے لیے یہ بتا دینے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے کہ حقوق وفرائض میں توازن کی بات کسی بھی ذمہ دار جمہوری نظام میں تسلسل سے کی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ریاست اور اس کی نمائیندگی کرنے والا ہر فرد اور ادارہ بھی فرائض ادا کرنے میں نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئے۔ مثلاً پولیس کو شہریوں کی حفاظت کے لیے غیر معمولی اختیارات دیے جاتے ہیں لیکن کسی بھی بے اعتدالی پر پولیس کے احتساب کا کڑا نظام بھی استوار ہوتا ہے۔ کسی شہری کو اس بنا پر عتاب کا نشانہ نہیں بنایا جاتا کہ اس نے کسی پولیس افسر کو چیلنج کیا تھا، کسی سیاسی پارٹی کے خلاف نعرہ لگایا تھا یا کسی ایسے مطالبے کی حمایت کی تھی جو ریاست کی مروجہ پالیسی کے برعکس تھا۔
اسی طرح کسی شہری سے فرائض کی ادائیگی کا مطالبہ کسی مسلح فورس کا ترجمان یا نمائیندہ نہیں کرتا بلکہ اس سبق کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے یا اسے سیاسی مباحث میں نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود نظام کا کوئی نمائیندہ کسی شہری کو یہ کہہ کر اس کا حق دینے سے انکار نہیں کرسکتا کہ کیا اس نے اپنے فرائض ادا کیے ہیں اور نہ ہی کسی شہری کو ریاست کے ساتھ اختلاف کی صورت میں ’غدار ی یا ملک دشمن ‘ جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ الفاظ جمہوری معاشروں کی لغت سے نکال دیے گیے ہیں لیکن پاکستان میں انہیں زبان زد عام ہی نہیں کیاگیا بلکہ ملک دشمنی یا دین سے بغاوت کا الزام عائد کرنے اور کسی معتوب کو سزا دینے کا حق بھی دے دیا گیا ہے۔ ریاست اور ملک کا انتظامی ڈھانچہ عام طور سے ایسے ’محافظین‘ کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اسی لیے کبھی کسی اقلیت کی بستی پر حملہ ہوسکتا ہے، کبھی کسی قبرستان میں قبریں اکھاڑی جاسکتی ہیں اور کبھی لڑکیاں اغوا کرکے انہیں اپنے نکاح میں لانے والے اسلام کے ’مجاہد‘ قرار دیے جاسکتے ہیں۔ انصاف اور قانون کی بنیاد پر کام کرنے والی ریاستیں ایسے ’حقوق‘ کے پروانے جاری نہیں کرتیں۔
قانون پسند معاشرے کے بارے میں ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کی اصطلاح درحقیقت خوف پیدا کرتی ہے اور یہ تاثر قوی کرتی ہے کہ ریاست کے عسکری ادارے درحقیقت خود ہی ’لاٹھی کو سب کا پیر‘ قرار دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ایسی کسی کارروائی پر کبھی قانون نافذ کرنے کا سوال نہیں اٹھایاجاسکتا ۔ اور اگر لاپتہ افراد کے بدقسمت خاندان کبھی یہ سوال اٹھانے کا حوصلہ کرلیں تو ان کی آواز بننے والوں کو قانون ہاتھ میں لینے کے الزام میں جیلوں کا رخ کرتے دیر نہیں لگتی۔ پھر کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ کہ کون سا قانون توڑا گیا اور کس نے اس قانون شکنی کا فیصلہ کیا۔ اس لیے پاکستان میں مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل جب ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کی جمہوری تعبیر کرنے پر اصرار کرتے ہیں اور قانون کو بالادست دیکھنے کی بات کرتے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ ان کے خیال میں یہ قانون کون بنائے گا، ان کی خلاف ورزی کا فیصلہ کون کرے گا ۔اور کہاں یہ طے ہوگا کہ الزام تراشی درست ہے یااس میں مبالغہ آمیزی کی گئی ہے۔
یوں تو فوج اور اس کے نمائیندے سے ایسے سوالات نہیں ہونے چاہئیں کیوں کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کہتے رہے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن دو روز پہلے پریس کانفرنس میں انہوں نے ہارڈ اسٹیٹ اور وطن دوستی کے علاوہ آئین و گورننس کے معاملات پر جو پر مغز گفتگو کی ہے، اس کی روشنی میں ان سوالوں کا سب سے بہتر جواب شاید وہی دے سکتے ہیں۔ تاکہ کم از کم یہ تعین تو ہو کہ آخر ملک میں کسے آخری فیصلہ کرنے اور ذمہ داری قبول کرنے کا اختیار حاصل ہے؟