ایران امریکہ مذاکرات کے بارے میں متضاد دعوے
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد گزشتہ شب کہا تھا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر کے روز شروع ہوں گے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اس وقت آبنائے ہرمز کے بارے میں عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو گذشتہ آٹھ روز سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ عمان کے ساتھ مشاورت اور تعاون سے جلد از جلد ایسا راستہ طے کیا جائے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات آج شروع ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایران پر حملوں کی منسوخی کے بارے میں گذشتہ شب کیے گئے ان کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے بارے میں ایک معاہدہ موجود ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے بارے میں بھی ایک معاہدہ حاصل کر لیا جائے گا۔
اتوار کے روز اپنے صدارتی طیارے ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’ظاہر ہے کہ وہ حملے کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ وہ حملے کے حجم سے آگاہ تھے، کیونکہ وہ اس کی تیاریاں دیکھ رہے تھے۔ اب ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات کل دوپہر (یعنی پیر کے روز) سے شروع ہوں گے۔‘