افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
- تحریر فیضان عارف
- سوموار 03 / اگست / 2026
انگریزوں کی اکثریت اپنے کام سے کام رکھنے کی عادی ہے، وہ نہ تو کسی کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ ہی اس بات کو پسندکر تے ہیں کہ کوئی دوسرا اُن کے ذاتی امور میں دخل اندازی کرے۔
اسی طرح یہ لوگ ہر وقت اور ہرمحفل میں ملکی سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں گفتگو اور بحث مباحثے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ گوروں کو دوسروں کے گریبانوں میں جھانکنے سے زیادہ اپنے گریبان میں جھانکنے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ سیاستدان ہوں یا تاجر، جج ہوں یا سرکاری اہلکار، کسی پرائیوٹ کمپنی کا کوئی ملازم ہو یا کوئی ڈاکٹر اور انجینئر، کوئی بینکر یا اکاؤنٹنٹ ہو یا کوئی وکیل (قانون دان) اور اُستاد ہر شخص اپنے کام کوبہتر طریقے اور ذمہ داری سے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس ملک کے ہر شعبہ زندگی میں کام کرنے والوں کا انتخاب کرتے وقت اُن کی قابلیت اور اہلیت کو اولیت دی جاتی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ادارے اور محکمے ترقی کرتے ہیں بلکہ ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں۔
یونائیٹڈ کنگڈم میں لوگوں کی پرائیویسی اور شخصی آزادی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کوئی کیا کھاتا پیتاہے، کیا کام کرتا ہے، کن لوگوں سے ملتا جلتا ہے، اس کے سیاسی اورمذہبی نظریات کیا ہیں کسی ہمسائے یا ملنے جلنے والے کو اِن معاملات سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی ایک دوسرے سے اس بارے میں استفسار کرتا ہے اور نہ ہی کسی کی ٹوہ میں رہتا ہے۔ برطانیہ میں آباد ایشیائی اور خاص طور پر پاکستانی کمیونٹی جتنا وقت وطن عزیز کی سیاست کے بارے میں بحث مباحثے پر ضائع کرتی ہے یا ایک دوسرے کے بارے میں غیر ضروری معلومات کی ٹوہ پر صرف کرتی ہے، اگر وہ اپنے اس وقت، توانائی اور وسائل کو اپنے ذاتی حالات کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کرے تو اِن کی زندگی میں بہت مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔ انگریزوں کی اکثریت نہ تو سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی مصروفیات کی تصاویر اور تفصیلات کی تشہیر کرنے کو اچھا سمجھتی ہے اور نہ ہی کسی سیاستدان یا مشہور شخصیت کے ساتھ تصاویر بنا کر اُسے فیس بک کی زینت بناتی ہے۔ انگریزوں کا یقین ہے کہ افراد کے ٹھیک ہونے سے ہی ملک اور قوم ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ جو اقوام یہ سوچتی ہیں کہ پہلے ملک ٹھیک ہوگا تو پھر افراد بھی ٹھیک ہونا شروع ہو جائیں گے، وہ ایک ایسے مغالطے میں مبتلا رہتے ہیں جس کا کوئی علاج ممکن نہیں۔
جس قوم کے افراد اپنا اپنا گھر اور گلی صاف رکھتے ہیں اُن کا ملک خود بخود صاف ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دفتر میں کام کرنے والا کوئی ملازم ہویا کسی کنسٹرکشن سائٹ پر محنت کرنے والا کوئی مزدور ہر ایک اپنا کام ذمہ داری سے کرتا ہے۔ اُسے اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ ملک کے سیاستدان کیا کر رہے ہیں، عدالتوں کے جج انصاف کے تقاضے پورے کر رہے ہیں یا نہیں۔ یہاں کوئی دکاندار ملکی سیاست کا تجزیہ نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی عام آدمی برطانوی معیشت پر اپنی ماہرانہ رائے دینے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح برطانوی صحافی ہرفن مولا ہونے کادعویٰ نہیں کرتے ہیں۔ انگریزوں کا خیال ہے کہ کوئی بھی ملک اور قوم اُس وقت ترقی کر سکتے ہیں جب معاشرے کا ہرفرد اپنے حصے کا کام کرے، اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے، اپنی نااہلی کا الزام اور اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ کسی اور پر ڈالنے سے گریز کرے۔ جس ملک کے لوگ اپنا کام ذمہ داری سے کرنے کی بجائے دوسروں کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیں یا مداخلت کرنے کی کوشش کریں، بلاوجہ اپنے ہمسائیوں، رشتے داروں اور دوست احباب کی ٹوہ میں رہیں، سیاست اور مذہب کو اپنی ہر محفل کا موضوع بنائے رکھیں، غیبت اور منافقت کو اپنا وطیرہ بنا لیں وہاں معاشرتی ترقی کی رفتار سست پڑجاتی یا رُک جاتی ہے۔
مجھے یہ حقیقت بہت حیران کرتی ہے کہ ہم اوور سیز پاکستانیوں نے یو کے آ کر بھی انگریزوں سے دوسروں کی پر ائیویسی اور شخصی آزادی کا احترام کرنا نہیں سیکھا۔ پاکستانی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو پہلی بار اپنے کسی ہم وطن سے ملتی ہے تو اس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتی ہے، پہلا سوال ہوتا ہے کہ آپ کا تعلق پاکستان کے کون سے شہر سے ہے؟ برطانیہ کب آئے تھے؟ اب یہاں کیا کام کاج کرتے ہیں، برٹش نیشنل ہیں؟ کس علاقے میں رہتے ہیں؟ کتنے فیملی ممبر ہیں؟ فیملی کے باقی لوگ کیا کرتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ ہم لوگ اپنے ملنے والوں سے پہلی یا دوسری ملاقات میں ہی جن سوالات کے تفصیلی جوابات جاننے کے متمنی ہوتے ہیں، انگریز سالہا سال کی ملاقاتوں کے بعد بھی ایسے سوالات پوچھنے سے گریز کرتے ہیں تاوقتیکہ کوئی ملنے والا از خود ایسی معلومات فراہم کر دے۔ انگریزوں کو اپنے ملنے والوں کی زندگیوں میں گہرائی تک جاننے کا کوئی زیادہ تجسس نہیں ہوتا اور نہ ہی اُن کے مزاج میں ایسی کسی کرید کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ بلا ضرورت اور بلا جواز کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں بے دریغ سوالات کرنا پرائیویسی اور شخصی آزادی کے بالکل منافی ہے۔
اگر کسی خاندان میں لڑکے اور لڑکی کے رشتے کی بات چل رہی ہو تو معلومات کے حصول کے لئے سوالات ناگزیر ہوتے ہیں لیکن اگر سرسری سی ملاقات میں غیرضروری سوالات اور ذاتی معلومات کا پینڈورا باکس کھولا جائے تو اسے غیر اخلاقی حرکت سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ جہاں خارش نہ ہورہی ہو وہاں کھجلی کرتے رہنے سے پہلے جلد سرخ ہو جاتی ہے اور پھر وہاں زخم بن جاتا ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں بچوں کو پرائمری سکول سے ہی اس بات کی تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے کہ دوسروں کی پرائیویسی میں مداخلت نہ کی جائے اور ہر ایک کی شخصی آزادی کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ برطانیہ اور یورپ میں بچوں کو پرائمری سکول میں جوتعلیم و تربیت دی جاتی ہے وہ زندگی بھر اُن کے کام آتی ہے،اسی لئے پرائمری سکولوں میں بچوں کو معاشرتی اقدار سکھانے کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی ہے یہ اقدار لوگوں میں مساوات، قوت برداشت، باہمی احترام اور جمہوری رویوں کے فروغ کا باعث بنتی ہیں۔
برطانیہ ہو یا دنیا کا کوئی اور ترقی یافتہ اور خوشحال ملک وہاں پر ائمری سکولوں کی تعلیم تربیت کو شخصیت سازی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم اس حوالے سے اسلامی ممالک کا مغربی دنیا سے موازنہ کریں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ پاکستان سمیت بیشتر اسلامی اور پسماندہ ملکوں میں بچوں کی ابتدائی اور پرائمری تعلیم و تربیت کو یکسر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ انہیں ایسا کچھ پڑھایا اور سکھایا نہیں جاتا کہ وہ بڑے ہو کر ملک اور معاشرے کے لئے مفید اور کار آمد انسان بن سکیں۔ اسلامی ملکوں میں ہمیں جو افرا تفری، انتہا پسندی اور عدم برداشت، بدامنی اور نا انصافی نظر آتی ہے اس کا بڑا سبب بھی پرائمری تعلیم و تربیت کا یہی فرق ہے۔ جو ملک اپنی نرسری میں پنیری لگانے اور اُن کی حفاظت کرنے پر یقین نہیں رکھتے وہاں کے معاشرے سایہ دار درختوں اور اُن کے ثمرات سے محروم رہتے ہیں۔
مغربی ممالک میں آبادی کم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں ہر شخص کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ مغربی معاشروں میں لوگ شادی اور اس کی ذمہ داریاں نبھانے کی کھکھیٹر میں پڑنے سے گریز کرتے ہیں اور بچے پالنے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے۔ مغربی ملکوں کے وسائل زیادہ اور آبادی کم ہے جبکہ مفلوک الحال ممالک کی آبادی زیادہ اور مسائل ہیں۔ اس عدم توازن کے باعث پسماندہ ملکوں اور معاشروں کی مشکلات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ بے روزگاری اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے غریب ملکوں کے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے اسی لئے وہاں کے نو جوانوں کی اکثریت ترقی یافتہ ممالک تک پہنچنے کے لئے اپنے والدین کی جمع شدہ پونجی اور اپنی زندگی بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ نو جوان جو اپنی بد حالی سے نجات پانے کے لئے اپنا وطن چھوڑ کر اجنبی دیاروں کا سفر اختیار کرتے اور راستوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، اُن کے انجام سے سبق حاصل کرنا اور ڈرنا چاہئیے۔