ایک درجن ریڈی میڈ صوبوں کا سوال ہے بابا
- تحریر حاشر ارشاد
- سوموار 03 / اگست / 2026
میری جسمانی ساخت تھوڑی عجیب سی ہے، میری دماغی ساخت کی طرح۔ دماغ تو خیر نظر نہیں آتا پر جسم ڈھکنے کے لیے لباس کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ میرا قد پاکستانی اوسط قد سے معمولی سا زیادہ ہو گا۔ پیکر وہی ہے جسے میں دل خوش کرنے کو ”اتھلیٹک بلڈ“ کہہ لیتا ہوں حالانکہ عادتیں سب ”کاؤچ پٹیٹو“ والی ہیں۔
خیر جسمانی ساخت اور قد ایک ایسے سانچے میں رکھا جا سکتا ہے جو بہت سے اور لوگوں کا ہو گا لیکن میرے کندھے اس سانچے سے میل نہیں کھاتے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ بازار سے قمیض لیں تو جو قمیض جسم پر پوری آئے وہ کندھوں سے چھوٹی رہ جاتی ہے، جو کندھوں کے ناپ کی ہو وہ باقی جسم پر جھول جاتی ہے۔ کاہلی کا تقاضا یہ ہے کہ آن لائن یا دکان سے بنے بنائے لارج اور ایکسٹرا لارج میں سے کوئی ایک اٹھانی پڑتی ہے۔ باقی سمال اور میڈیم کو دور سے سلام۔ کوئی خاص موقع ہو یا حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر سوٹ وغیرہ پہننے کا دل ہو تو پھر درزی کے پاس پہنچتا ہوں۔ باقاعدہ ناپ دیتا ہوں تاکہ ایسا لباس پہن سکوں جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو۔ درزی کی دکان کا ایک کاریگر مجھے سیدھا کھڑا کرنے کی کوشش سے آغاز کرتا ہے۔ کندھے اوپر کیجیے، گردن کا زاویہ ٹھیک کیجئے۔ ٹخنے جوڑیے۔ بازو یوں مردے کی طرح مت لٹکائیں، پھر چیف درزی فیتہ نکالتا ہے، کندھے سے کمر تک، کمر سے ٹخنے تک ناپتا ہے، اور اسی ناپ سے کپڑا کاٹتا ہے۔ اسی حساب سے سیتا ہے۔
اب دیکھیے یہ ریڈی میڈ کی خریداری سے مختلف کیوں نہ ٹھہرے جہاں دکان کا سیلز مین دو یا زیادہ سے زیادہ تین سانچوں میں ہی سے آپ کا لباس چننے پر مجبور ہے۔ چھوٹا، درمیانہ، بڑا۔ گاہک کا جسم چاہے جیسا بھی ہو، لباس انہی دو تین سانچوں میں سے کسی ایک میں ملے گا۔ اچھے درزی کا سلا لباس کبھی تنگ نہیں کرتا۔ دوسرا، سمجھوتے والا لباس، دیر یا بدیر، اکثر اوقات، کہیں نہ کہیں اپنی ہی نظر سے گر جاتا ہے۔ خاص طور پر جب جسم کی ساخت عمومی پیمانوں پر پوری نہ اتر رہی ہو۔ ریاستیں بھی اپنی انتظامی حدیں انہی دو طریقوں میں سے کسی ایک سے کھینچتی ہیں۔ ریڈی میڈ حل جو لوگوں کو ڈرائنگ روم میں سوجھتے ہیں اور جس میں بنے بنائے سانچے حل کی پیش کش کا واحد ذریعہ ہوتے ہیں اور وہ حل جو زمین سے اگتے ہیں۔ پیچیدہ، گنجلک اور سانچے سے باہر مگر سچے اور دیرپا۔
جب کسی ملک کے اندر زبان، تہذیب یا شناخت کی بنیاد پر بننے والی برادریاں اپنی الگ پہچان پر زور دینے لگیں، تو مرکز میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس عموماً دو راستے ہوتے ہیں۔ پہلا راستہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ یہ زور اپنی جگہ حقیقی ہے، اور نئی انتظامی حدیں اسی حقیقت کے مطابق کھینچی جانی چاہئیں۔ دوسرا، اور کہیں زیادہ آسان راستہ، یہ ہے کہ اس زور کو محض ایک عددی مسئلہ سمجھ لیا جائے : بڑی اکائیوں کو، آبادی کے بوجھ کے نام پر، برابر برابر ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے، جیسے معاملہ بس وزن کی تقسیم کا ہو۔ یہ لو تمہارے دو کلو اور یہ تمہارے ڈیڑھ کلو۔ کیا ہوا جو ایک بیف ہے اور دوسرا چکن۔ اور کیا ہوا اگر مانگا تم نے مٹن تھا۔ یہ دوسرا راستہ تقریباً ہر بار ناکام رہا ہے، اور ناکامی کی وجہ سادہ ہے۔ جس برادری نے اپنی زبان اور شناخت کی پہچان مانگی تھی، اسے ایک نیا، مگر اتنا ہی بے تعلق، انتظامی خانہ تھما دیا جاتا ہے۔ مطالبہ تسلیم نہیں ہوتا، صرف ایک بنے بنائے لاتعلق سانچے میں دفن کر دیا جاتا ہے۔
دنیا بھر کی تاریخ اس فرق کی گواہ ہے، مثبت اور منفی، دونوں صورتوں میں۔ تاریخ سے سیکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ قیمت کم ہوتی ہے۔ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی قیمت کبھی کبھی جان دے کر چکانی پڑتی ہے۔ تو کیوں نہ تاریخ سے سیکھ ہی لیا جائے۔ سوئٹزرلینڈ میں انتظامی حدود کو کینٹن کہتے ہیں۔ آئیے آپ کو جوراں کینٹن کی کہانی سنائیں۔ برن ایک شہر تھا (اور ہے ) اور ساتھ ساتھ کینٹن بھی۔ اس کا شمالی حصہ فرانسیسی بولنے والا اور کیتھولک تھا، جب کہ باقی برن جرمن بولنے والا اور پروٹسٹنٹ۔ یہ خطہ 1815 میں ویانا کانگرس کے فیصلے کے بعد برن میں شامل کیا گیا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وہاں علیحدگی کی تحریک نے زور پکڑا۔ سلسلہ وار ریفرنڈموں کے بعد ، ستمبر انیس سو اٹھہتر میں پوری قوم نے اس خطے کو الگ کینٹن بنانے کے حق میں ووٹ دیا، اور یکم جنوری انیس سو اناسی کو جوراں سوئٹزرلینڈ کا نیا کینٹن بن گیا۔ تقسیم سادہ نہیں تھی، گنجلک تھی کہ جنوبی جوراں کا پروٹسٹنٹ فرانسیسی بولنے والا حصہ، زبان مشترک ہونے کے باوجود، برن کے ساتھ ہی رہا۔ انیس سو چوراسی میں یہ بھی سامنے آیا کہ برن کی حکومت نے خفیہ طور پر اپنے وفاداروں کو رقم دی تھی کہ تقسیم میں ان کا پلڑا بھاری رہے۔ لیکن ان مسائل کے باوجود اصول پھر بھی واضح تھا۔ نیا کینٹن اس لیے بنا کیونکہ زبان اور مذہب کی حقیقی تفریق موجود تھی، یہ آبادی کا سادہ حساب نہیں تھا۔ لوگ مشترکات پر اکٹھے ہوتے ہیں، انتظام پر نہیں۔
بیلجیم نے یہی سبق ایک الگ راستے سے سیکھا۔ ڈچ بولنے والے فلینڈرز اور فرانسیسی بولنے والے والونیا کے درمیان کشیدگی نے 1970 سے شروع ہو کر، 1980، پھر 1988، اور بالآخر 1993 تک، چار مرحلوں میں، ملک کا پورا آئینی ڈھانچہ بدل ڈالا۔ آج بیلجیم تین لسانی برادریوں اور تین علاقائی اکائیوں پر مشتمل ایک وفاق ہے۔ یہ نظام آج بھی، اپنے ہی ماہرین کے بقول، زیرِ تعمیر ہے، اور 2008 میں حکومت سازی کا چھ ماہ کا بحران اسی پرانی کشیدگی کی یاد دہانی تھا۔ اصول سمجھنا یہاں بھی مشکل نہیں ہے۔ ملک کی لسانی خطوط پر ازسرِ نو تشکیل ہوئی تو یہ ٹوٹنے سے بچ گیا۔ اب بھی اس تشکیل کو زیر تعمیر کہنا اس امر کی یاد دہانی ہے کہ باشعور قومیں تغیر کو پیش نظر رکھتی ہیں، اس سے نظر نہیں چراتیں۔
کینیڈا نے 1999 میں شمال مغربی علاقوں کے مشرقی حصے کو الگ کر کے نوناووت بنایا۔ اس کی بنیادی وجہ وہ جدوجہد تھی جس کا نقطہ عروج علاقے کی اکثریتی انوئٹ آبادی کو اپنی زبان اور روایات میں حکومت کرنے کا حق دینا تھا۔ انوئٹ رہنماؤں نے 1976 میں خود مختاری کا مطالبہ رکھا، 1992 میں ریفرنڈم ہوا، 1993 میں قانون پاس ہوا، اور چھ برس کی تیاری کے بعد یکم اپریل 1999 کو نیا خطہ وجود میں آیا۔ قدرتی وسائل پر مکمل اختیار البتہ 2024 تک، یعنی پچیس برس بعد تک، اوٹاوا کے ہاتھ میں رہا۔ خودمختاری فوری طور پر مکمل نہیں ملی، سمت البتہ درست تھی۔ مشترکات کی تعریف بالکل واضح تھی۔ بھارت کی مثال شاید سب سے آسان فہم ہو۔ 1956 سے پورے ملک کی انتظامی حدیں از سرِ نو کھینچنے کا آغاز ہوا، اور معیار آبادی کا حساب نہیں، زبان تھی۔ تیلگو بولنے والوں کے لیے آندھرا پردیش، مراٹھی اور گجراتی بولنے والوں کے لیے الگ الگ ریاستیں، پنجابی اور ہریانوی بولنے والوں کی تقسیم۔ اور اسی حساب سے مسلسل نئی حد بندیاں آج بھی ہو رہی ہیں۔ آج سب تقسیم شدہ علاقے اسی ایک اصول پر کھڑے ہیں۔ نتیجہ مکمل بے عیب نہیں رہا۔ گورکھا لینڈ کی مثال سامنے ہے۔ لیکن اس سے اصول کی نفی پھر نہیں ہوئی بلکہ اصول زیادہ مستحکم ہوا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت میں جہاں بھی زبان کی بنیاد پر حد بندی ہوئی، وہاں کوئی بے چینی کبھی مستقل بغاوت میں نہیں ڈھلی۔
نائجیریا کی کہانی بھی سن لیجیے کہ کچھ پیچیدگیاں بھی سمجھنا ضروری ہیں۔ سبق سیکھنے کے لیے اس میں بھی بہت کچھ ہے گرچہ دوسری مثالوں سے کچھ مختلف۔ 1967 میں جنرل یعقوب گوون نے ملک کے چار بڑے خطوں کو ختم کر کے بارہ صوبے بنائے۔ اس کا ایک مقصد خاص طور پر مشرقی خطے کی ان چھوٹی نسلی برادریوں کو اپنی شناخت دینا تھا جو ایگبو اکثریت کے تلے اپنے آپ کو مجبور اور لاچار سمجھتی تھیں۔ اس فیصلے میں جمہوری مشاورت یا آئینی پارلیمان کی کوئی بحث شامل نہیں تھی۔ اعلان 27 مئی کو ہوا۔ اور محض تین دن بعد ، 30 مئی کو، مشرقی خطے نے بیافرا کی علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ علیحدگی کا اعلان کرنے والے صاحب بھی ایک جنرل ہی تھے۔ اس کے بعد جو تین سالہ خوفناک خانہ جنگی چھڑی اس میں لاکھوں جانیں گئیں۔
1967 کے بعد سے اسی اصول پر، اگلے تیس برسوں میں، صوبوں کی تعداد بارہ سے چھتیس تک پہنچ گئی، ہر بار کسی نہ کسی نسلی اقلیت کو اکثریت کے تسلط سے نکالنا مقصود تھا یا کم ازکم سرکاری وجہ یہی بتائی گئی۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کا خیال یہ رہا کہ بنیادی وجہ طاقت کا توازن ٹھیک کرنا تھا۔ نائجیریا، اپنی ڈھائی سو سے زائد نسلی برادریوں کے باوجود، 1970کے بعد سے کسی نئی مکمل خانہ جنگی کا شکار نہیں ہوا۔ گو 1967 کی خانہ جنگی کے خون کے دھبے اب تک نہیں دھلے۔ اصول یہاں بھی ٹھیک تھا لیکن اس کا پہلا اطلاق افسوس ناک حد تک متشدد رہا۔ بعد میں بھی اس اصول کے تحت تقسیم سے وہ نتائج برآمد نہ ہوئے جو مقصود تھے۔ کیوں؟ شاید اس کا جواب جمہوریت اور آمریت کے طرز اقتدار میں پوشیدہ ہے۔ ہمارے لیے سمجھنے کو یہاں بھی بین السطور بہت کچھ ہے۔
عراق کی مثال اپنی جگہ دلچسپ ہے کہ اس میں اسی بنیادی اصول کے الٹنے کے نتائج سے آگاہی ملتی ہے۔ صدام حسین کے دور میں بعثی حکومت نے کرکوک کے کرد اکثریتی اضلاع کی انتظامی حد بندی بدل کر انہیں عرب اکثریتی صوبے صلاح الدین سے جوڑ دیا، کرد اور ترکمان باشندوں کی زمینیں چھین کر جنوبی عراق سے لائے گئے عرب خاندانوں کو دے دیں۔ مقصد صاف تھا، حدود کے تغیر سے ایک قوم کا وزن گھٹا دیا جائے۔ سوچیے کہ مشرق وسطی میں ایسے ہی ایک اور مسلسل استحصال پر ہمارا خون کیسے کھولتا رہا لیکن کردوں کے حوالے سے ہماری گردن ہمیشہ ریت میں ہی دبی ملی۔ اس حد بندی میں 2003 میں بعثی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی جنبش نہ آئی۔ کرکوک کے کرد باشندے آج بھی وہی زمینی اور انتظامی جھگڑا لڑ رہے ہیں جہاں انتظامی حدود کسی برادری یا مقامی شناخت کو تسلیم کرنے کے لیے نہیں، اسے دبانے کے لیے بدلی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تنازعہ آج بھی زندہ ہے۔
یہ کل چھ مثالیں ہیں، چھ مختلف علاقوں کی، مختلف براعظموں کی۔ آمریت کی بھی، جمہوریت کی بھی اور شاید کسی حد تک ہمارے محبوب ہائبرڈ نظام کی بھی۔ پر ہر مثال سے نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ جہاں نئی انتظامی حد بندی زبان، تہذیب اور مقامی شناخت کے حقیقی رنگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوئی، وہاں کشیدگی کم ہوئی، ترقی کے راستے کھلے۔ کدورتیں دھلتی چلی گئیں خواہ عمل خود کتنا ہی طویل اور ناہموار کیوں نہ رہا ہو۔ لیکن جہاں یہ حد بندی محض اقتدار کی سہولت یا آبادی کے حساب کے لیے کھینچی گئی، وہاں کشیدگی یا تو دب کر بعد میں دھماکے کے ساتھ پھٹی، یا پہلے دن سے ہی تباہی کا آغاز ہو گیا۔ مجھے یہ بھی مان لینے دیجیے کہ زبان اور مقامی شناخت کی بنیاد پر کھینچی گئی حدود بھی خودکار امن کی ضمانت نہیں ہیں، نہ ہی ترقی کی ہمیشہ نقیب ہیں۔ ہماری اپنی مثالوں میں یہ سقم نظر آتے ہیں۔ جوراں کو آج بھی اپنے کچھ حصے واپس نہیں ملے۔ بیلجیم کا وفاق آج بھی حکومت سازی میں مہینوں پھنس جاتا ہے۔ نائجیریا کی پہلی کوشش خود ایک خانہ جنگی کا پیش خیمہ بنی۔ صحیح ناپ لے لیا جائے تو بھی کبھی کبھی لباس غلط سل جاتا ہے یا اس میں کوئی جھول رہ جاتا ہے لیکن ناپ سرے سے لیا ہی نہ جائے تو لباس کیسا ہو گا، یہ شاید بتانے کی ضرورت نہیں۔
ہمارے اپنے خطے میں بھی اس سبق کو نظرانداز کرنے کی ایک پرانی مثال موجود ہے۔ ہم بار بار اسے دہراتے ہیں لیکن اس سے سبق نہیں سیکھتے۔ 1955 میں مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں، پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کو ملا کر ایک اکائی بنا دی گئی تھی، خاص طور پر مشرقی بازو کے ساتھ سیاسی توازن برابر رکھنے کی خاطر۔ پنجابی، سندھی، پختون اور بلوچ کی الگ الگ شناخت کو جان بوجھ کر ایک ہی سانچے میں پگھلانے کی یہ کوشش پندرہ برس چلی اور ناکام رہی۔ آج اسی ملک میں، سرائیکی خطے کی اپنی زبان پر اصرار، ہزارہ کی آبادی کا اپنی شناخت پر زور، پنجاب کے اندر نیا نیا شاونزم، بلوچستان کے لسانی دھڑے، سندھی مہاجر جھگڑے۔ یہ سب مرکز کو بے چین کر رہے ہیں۔ اور ایک بار پھر وہی پرانا، آسان جواب دہرایا جا رہا ہے : بڑی اکائیوں کو، آبادی کے بوجھ کے حساب سے، برابر برابر ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے۔ یقین نہیں تو سابقہ مادر ملت ریحام خان کا کل کا وی لاگ سن لیجیے جس میں وہ درجن انڈوں کی طرح درجن صوبے بنانے کی تبلیغ کر رہی ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ وارننگ بھی کہ زبان، نسل اور مقامی شناخت کی بنیاد پر کوئی صوبہ نہ بنے۔ خدا جانے ان کا سکرپٹ کون لکھتا ہے؟
آج کے دن ایک سانچوں میں ڈھلے ریڈی میڈ انتظامی تقسیم کا جواب اتنا ہی غیر متعلق ہو گا جتنا 1955 میں ایسے ہی ایک انتظامی ادغام کا تھا۔ اگر نئی حدیں زبان اور شناخت سے بے نیاز ہو کر صرف آبادی بانٹنے کے لیے کھینچی گئیں، تو جس بے چینی سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہی بے چینی مزید شدت سے لوٹے گی۔ لوگوں کا اصل مطالبہ کبھی چھوٹی انتظامی اکائی کا نہیں تھا، اپنی زبان اور اپنی شناخت کے اعتراف کا تھا۔ وہ پورا کرنے کی نیت لگ تو نہیں رہی پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
آخر میں، ایک دفعہ پھر بتاتا چلوں اگر آپ کو بھول گیا ہے تو، کہ جسم کبھی کپڑے کے مطابق نہیں ڈھلتا۔ کپڑا جسم کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)