خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

محسن نقوی نے سسٹم کو ری سیٹ کرنے کی بات کیا کی، ہر طرف طوفان آگیا۔ کچھ کو پارلیمانی نظام خطرے میں نظر آرہا ہے، کچھ کو جمہوریت ڈی ریل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

کچھ ان حالات کو ایک ’موقعے‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کچھ کو لگتا ہے خاندانی سیاستیں ڈوب جائیں گی۔ کچھ وراثتی سیاست کے خلاف اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔ سب کو توقع ہے کچھ ہونے والا ہے۔ ایک دو نہایت ’باخبر‘ یوٹیوبر نے اپنی خبر کو یہ کہہ کر تڑکا لگایا کہ بات اب چھ ماہ کی رہ گئی ہے۔ پھر نظام ری سیٹ ہوجائے گا۔ پھر تبدیلی آجائے گی۔ پھر ملک بدل جائے گا۔ پھر چھوٹے صوبے بن جائیں گے۔ پھر ہر ڈویژن ایک صوبہ کہلائے گا۔ ملک میں صوبے ہی صوبے ہوں گے۔ جگہ جگہ وزیراعلیٰ بکھرے ہوں گے۔ عوام کم اور وزرا زیادہ ہوں گے۔ عمارتیں کم اور اسمبلیاں زیادہ ہوں گی۔ عوام کے مسائل عوامی سطح پر حل ہوں گے۔ غریب کا بچہ بھی وزیر، مشیر بنے گا۔ جین زی بھی حکومت میں آئے گی۔ اور پھر راج کرے گی خلقِ خدا۔ وغیرہ وغیرہ۔

اب یہ بہت دلچسپ پہلو ہے کہ نظام ری سیٹ کرنے کی باقاعدہ تاریخوں کا اعلان ہوگیا۔ یہ اعلان ’باخبر‘ یوٹیوبرز کی جانب سے کیا گیا ہے۔ چھ ماہ کی حتمی تاریخ دے دی گئی ہے۔ بظاہر لگتا ہے اس کے بعد جنگ کا نقارہ بج جائے گا۔ گھمسان کا رن پڑے گا۔ خیر اور شر آمنے سامنے ہوں گے۔ لفظی جنگ بھی ہوگی اور قانونی گولہ باری بھی۔ آئینی نکات بھی سامنے آئیں گے اور قانونی موشگافیاں بھی ہوں گی۔ لیکن چھ ماہ کی مدت معین ہے۔ ان باوثوق ذرائع کے مطابق اختلاف نظام کی ہیئت اور بنت پر ہوسکتا ہے مگر نظام کی تبدیلی کی مدت پر نہیں۔

نظام ری سیٹ کرنے سے کیا ہوگا؟ بظاہر اس نعرے میں پوشیدہ خواب یہ ہیں کہ نظام ری سیٹ ہوگا تو کمپیوٹر کے وائرس کی طرح تمام تر یکسر وائرس ختم ہوجائیں گے۔ سب مشینیں پھر سے درست کام کرنے لگیں گی۔ ہر دھرا اپنی جگہ پر آجائے گا اور ہر پرزہ اچانک سے فعال ہوجائے گا۔ بوسیدہ نظام کی سب کلفتیں ختم ہوجائیں گی۔ پرانے نظام کی سب قباحتیں رفع ہوجائیں گی۔ اچانک سے انقلاب آجائے گا جو نہ صرف اذہان میں تبدیلی لائے گا بلکہ  قلوب کو  بھی مسخر کرے گا ۔ اپنے کچھ دوست ری سیٹ کو اسی طرح سمجھ رہے ہیں جس طرح منٹو کا منگو کوچوان ’نئے قانون‘ کو سمجھ رہا تھا۔ اس کو لگتا تھا کہ قانون بدل گیا ہے تو اب غریب کے دن بھی بدل جائیں گے۔ امیر کی امارت بھسم ہوجائے گی۔ محلات دھڑام سے گر جائیں گے۔ جھگیاں عالی شان محلات میں تبدیل ہوجائیں گی۔ پولیس راہِ راست پر آجائے گی۔ عدالتیں غریب پرور ہوجائیں گی۔ امرا اپنی تجوریوں کی کنجیاں غریبوں کے حوالے کردیں گے۔ زیادہ دولت والوں کو کوڑے لگائے جائیں گے اور غریب کے مطالبات پر نظرِ کرم نہ کرنے والوں پر سرکاری طور پر پرچے کروائے جائیں گے۔

لوگ سمجھ رہے ہیں کہ نظام ری سیٹ ہونے سے سب کے دلدر دور ہوجائیں گے۔ امیر غریب میں تفریق مٹ جائے گی۔ کالجوں میں داخلے میرٹ پر ہوں گے۔ نوجوانوں کے لیے نوکریاں دینے والے راستے میں روزگار کے پروانے لیے کھڑے ہوں گے۔ بھوک ختم ہوجائے گی۔ غربت مٹ جائے گی۔ یاس کے بادل چھٹ جائیں گے۔ امید کا سورج طلوع ہوجائے گا۔ اقتدار کا ہما کاکروچوں کے سر پر بیٹھ جائے گا۔

اب یہ بھی سوال اہم ہے کہ نظام کس طرح ری سیٹ ہوگا؟ تبدیلی کس طرح آئے گی؟ کیا یہ تبدیلی سوچ و فکر میں آئے گی کہ اچانک تمام لوگ صالح اعمال شروع کردیں گے۔ اختلافات کو تیاگ دیں گے۔ بُرے، بھلے ہوجائیں گے۔ یہی اشرافیہ جو غریب کا خون چوستی ہے وہ اچانک سے غریب پرور ہوجائے گی۔ یہی بدنامِ زمانہ لوگ ایک نئے نظام میں آکر سب کام چھوڑ کر وطن کی خدمت پر مامور ہوجائیں گے۔ پورے سماج کے حالات بدل جائیں گے۔ خیالات بدل جائیں گے۔

نظام کے ری سیٹ سے متعلق جین زی کا جوش دیدنی ہے۔ ان کو لگتا ہے اب غم کی رات ڈھل گئی ہے۔ حکومت کاکروچوں سے ڈر گئی ہے۔ اب جوان دل لوگ سامنے آئیں گے۔ اب ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔ اب فیصلہ کن جین زی ہوگی۔ اب تعلیم بھی آسان ہوگی، نوکریاں ہی ان کے در پر سجدہ کر رہی ہوں گی۔ حکومتوں میں بھی ان کا حصہ ہوگا، بزرگ نسل متروک کہلائے گی۔ پرانے حکمرانوں پر اب لوگ ٹھٹھے لگائیں گے۔ اب نیا دور آئے گا۔ نئی نسل کا عہد آئے گا۔

پہلے ذکر کیا کہ کچھ دیدہ ور اور جہاندیدہ لوگ ری سیٹ کے بٹن کو دبانے کے لیے چھ ماہ کی مدت دے رہے ہیں۔ یہ مدت بہت زیادہ ہے۔ میں آپ کو پورے وثوق سے بتا رہا ہوں کہ نظام اگر ری سیٹ ہوسکتا ہے تو اسی مہینے میں ہوسکتا ہے۔ چھ ماہ کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔ اتنی لمبی تاریخوں کی حجت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو کچھ ہوگا اسی مہینے میں ہوسکتا ہے۔ جو تبدیلی آئے گی اسی مہینے میں آسکتی ہے۔

یہ مہینہ اگست کا مہینہ ہے۔ پاکستان کی آزادی کا ماہِ مبارک۔ یہ ماہ اس عظیم جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جب اس خطے کے مسلمانوں نے انگریزوں کو بھی مار بھگایا اور ہندوؤں سے بھی نجات حاصل کی۔ یہ سبز پرچم کے بلند ہونے کا مہینہ ہے۔ یہ برصغیر کی فضاؤں میں پہلی بار ’یہ ریڈیو پاکستان ہے‘ کی آواز بلند ہونے کا مہینہ ہے۔ نظام کوئی بھی ہو، جذبہ اگر چودہ اگست 1947 کا ہوگا تو سب مسئلے حل ہوں گے۔ اگر ہر سوچ کا محور اور مرکز پاکستان ہوگا تو سب کچھ ٹھیک ہوگا۔ اگر آزادی کے موقع والی قربانی کا جذبہ ہر دل میں دھڑکے تو ملک ٹھیک ہوگا۔ اگر قائد کے فرمودات پر عمل ہوگا تو ملک درست سمت میں جائے گا۔ ہمارا ہر قدم اگر پاکستان کی محبت میں گندھا ہوگا تو بات بنے گی۔ سسٹم ری سیٹ کرنا ہے تو یہی موقع ہے، تو یہی مہینہ ہے ۔

(بشکریہ: وی نیوز)