نقوی صاحب ناراضی معاف!

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام ’کولیپس‘ کر چکا ہے، اس نظام کے ساتھ آگے نہیں چلا جا سکتا۔ اور اگر وزیراعظم روزانہ چودہ، اٹھارہ یا بیس گھنٹے بھی کام کریں تو یہ محض ’فائر فائٹنگ‘ ہے۔ اس سے بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔

انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حوالے سے بھی کہا کہ وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اپنی آئینی حدود سے تجاوز نہیں کیا۔ یہ بیان محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی رائے ہے جو اس نظام کا مرکزی حصہ ہے۔ یہی وہ سوال ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر واقعی موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، اگر یہ ڈلیور نہیں کر سکتا، اگر اس کے اندر رہ کر اصلاح ممکن نہیں، تو پھر سب سے پہلا سوال خود محسن نقوی صاحب سے بنتا ہے۔ کیا وہ اس کابینہ کا حصہ رہیں گے؟ کیا وہ بطور وزیر داخلہ اسی نظام کے اندر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے؟ کیا وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی بھی جاری رکھیں گےیا پھر ان کے بیان کو ایک ایسے ’نو کانفیڈنس‘ کے طور پر دیکھا جائے جو انہوں نے اپنے ہی نظام کے خلاف دیا ہے؟

جمہوریت میں یا کسی بھی ریاستی نظام میں اختلاف رائے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے۔ زیادہ صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز بھی ایک جائز آئینی اور سیاسی بحث ہے، جس پر اتفاق اور اختلاف دونوں ہو سکتے ہیں۔ تاہم محسن نقوی کا معاملہ صرف انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے بنیادی طور پر پورے نظام کو ناکام قرار دے دیا ہے ، جس کا وہ خود حصہ ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ان کے منصب کو دیکھتے ہوئے غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو سیاسی و انتظامی بندوبست موجود ہے، اسے عمومی طور پر ایک ہائبرڈ نظام قرار دیا جاتا ہے، جس میں منتخب حکومت کے ساتھ عسکری اداروں کا کردار بھی مختلف پالیسی معاملات میں نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ ایسے نظام میں محسن نقوی محض ایک وزیر نہیں بلکہ بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ وزیر داخلہ بھی ہیں، سینیٹر بھی، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی۔ اور خارجہ معاملات میں بھی ان کی سرگرمی نمایاں نظر آتی ہے۔ ایسے میں اگر وہ خود یہ کہیں کہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو پھر سوال صرف نظام پر نہیں، ان کے اپنے کردار پر بھی اٹھتا ہے۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر ان کے نزدیک نظام اس حد تک ناکام تھا تو کیا انہوں نے یہ مؤقف کابینہ کے اجلاسوں میں اختیار کیا؟ کیا انہوں نے پارلیمنٹ، خصوصاً سینیٹ کے فورم پر ایسی ہی واضح گفتگو کی؟ اگر نہیں، تو پھر عوامی جلسے یا تقریب میں اس نوعیت کا بیان دینے کا مقصد کیا تھا؟ کیا یہ اصلاح کی دعوت تھی یا نظام سے اظہارِ لاتعلقی؟ اسی تناظر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی کارکردگی بھی زیر بحث آتی ہے۔ محسن نقوی شاید پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے طاقتور ترین چیئرمینوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے پاس اختیارات کی کمی نہیں تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے دور میں قومی کرکٹ کی مجموعی سمت کیا رہی؟ ٹیم کی کارکردگی، ڈومیسٹک ڈھانچہ، انتظامی استحکام اور طویل المدت منصوبہ بندی، کیا ان شعبوں میں وہ نتائج سامنے آئے جنہیں ایک کامیاب ماڈل کہا جا سکے؟ اگر ایک ادارے میں مکمل اختیار رکھنے کے باوجود مطلوبہ تبدیلی نہ آ سکے تو پھر پورے نظام کی ناکامی کا مقدمہ پیش کرنے سے پہلے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ داخلی سلامتی، امن و امان، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، جرائم کی روک تھام اور ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی، یہ سب وزارت داخلہ کے بنیادی دائرۂ کار میں آتا ہے۔ اگر آج یہ کہا جا رہا ہے کہ نظام کام نہیں کر رہا تو پھر یہ سوال بھی جائز ہے کہ بطور وزیر داخلہ اس نظام کو مؤثر بنانے کیلئے کون سے بنیادی اقدامات کیے گئے؟

نیشنل ایکشن پلان کے کتنے نکات پر حقیقی پیش رفت ہوئی؟ داخلی سلامتی کے میدان میں کون سی ایسی اصلاحات متعارف کرائی گئیں جنہیں مثال کے طور پر پیش کیا جا سکے؟ کسی بھی نظام پر تنقید کرنا آسان ہے، لیکن اس نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا حساب دینا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ اگر محسن نقوی واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ ڈھانچہ اصلاح سے محروم ہو چکا ہے تو پھر ان کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے واضح اصلاحاتی ایجنڈا پیش کریں اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اس کی قیادت کریں، یا پھر اخلاقی طور پر یہ واضح کریں کہ وہ جس نظام پر عوامی سطح پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، اس کا حصہ کیوں ہیں۔ اس لیے اصل سوال نظام پر نہیں، بلکہ اس بیان کے منطقی نتائج پر ہے۔

اگر نظام واقعی ناکام ہے تو اس کی ذمہ داری صرف دوسروں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس میں وہ تمام افراد بھی شامل ہیں جو اس کے اہم ستون ہیں۔ اور اگر وہ خود انہی ستونوں میں سے ایک ہیں تو پھر عوام کو اس سوال کا جواب ضرور ملنا چاہئے کہ وہ نظام بدلنا چا ہتے ہیں یا صرف اس پر تنقید کرنا؟ امید ہے نقوی صاحب ناراض نہیں ہوں گے!

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)