نواز شریف کی برف سے محسن نقوی کا بیان نظرانداز کرنے کی ہدایت
وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پارٹی قائد نواز شریف نے اپنی جماعت کی قیادت کو محسن نقوی کا بیان نظر انداز کرنے کے لیے کہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 30 جولائی کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ’نظام ڈھے چکا ہے۔‘ اس پر انہیں پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے قائدین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پیغام میں محسن نقوی کو پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا اور طنزاً لکھا تھا کہ ’سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔‘
تاہم گزشتہ روز یہ خبریں آئیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی کی سینیئر قیادت کو ہدایت کی ہے کہ محسن نقوی کا نظام تباہ ہونے کا بیان نظر انداز کیا جائے۔ ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران رانا ثنا اللہ نے اس بات کی تصدیق کی۔
جیو ٹی وی پر پروگرام کے میزبان شاہزیب خانزادہ نے رانا ثنا اللہ سے سوال کیا کہ کیا نواز شریف نے پارٹی قیادت کو محسن نقوی کا بیان نظر انداز کرنے کے لیے کہا ہے؟ وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور کا جواب تھا: ’یہ درست ہے۔‘
شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا: ’اور کیوں منع کیا، کیا کہہ کر منع کیا؟‘ اس کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’محسن نقوی نے جو گفتگو کی ہے، ہم اس سے بالکل متفق نہیں ہیں اور گفتگو میں انہوں نے جو انداز اختیار کیا، اس پر بھی ہمیں سخت اعتراض ہے۔‘
رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’اس بحث کو مزید الجھانے کے بجائے پارٹی قیادت کی طرف سے یہی ہدایت ہے کہ اسے نظر انداز کیا جائے کیوں کہ یہ بے معنی گفتگو ہے، اس کا کوئی سیاق و سباق نہیں ہے۔‘