بیچارے پپنشنرز

ملازمت کے خاتمے کے بعد پنشن ہر ملازم کا ایک خواب ہوتا ہے لیکن کچھ عرصے سے پینشنرز حضرات کا یہ خواب چکنا چور ہو کے رہ گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ تو یہ بات بیچارے پینشنرز حضرات ہر صادق نظر آ تی ہے۔

پہلے جب ملازمین اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوتے تھے تو ان کےوارے نیارے ہو جاتے تھے۔ ایک اچھی خاصی معقول رقم یکمشت ملنے سے ان کے بہت سے خواب پورے ہو جاتے تھے۔ بچیوں اور بچوں کی شادی کے فرض ادا ہوتے تھے۔ کسی کی تعلیم کا سلسلہ چل نکلتا تھا اور روزمرہ معاملات بھی اچھی طرح چلتے رہتے تھے۔ اگرچہ ابھی بھی بہت سے ملازمین کی پنشن قابل رشک ہے مگر عام ملازمین کو ایسے حکومتی فارمولوں میں الجھایا گیا ہے کہ اب یہ ہنشن کی گتھی سلجھتی دکھائی نہیں دیتی۔

یہ پہلو کس قدر افسوسناک ہے کہ کہ مختلف محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین سٹرکوں پر اہنے جائزحقوق کی بحالی اور وصولی کے لئے احتجاج کر رہےہیں۔ امریکہ، جاپان، برطانیہ اور کینڈا میں سئینر سٹیزن اور ریٹائرڈ ملازمین کو پر کشش مراعات کی وجہ سے ان کی زندگی اور عمر کا آخری دور قابل رشک گزرتا ہے۔ ان کی زندگی کی آ سانی کے لئے سہولتیں اور مراعاتی پیکج فراہم کئے جاتے ہیں۔ وہ خود ڈرائیونگ کرتے ہیں اور معاملات زندگی نارمل طریقے سے انجام دیتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں صورت حال اس سے مختلف ہے۔ ادھر لوگ سسکتے اور پریشان و معذور زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور معاشرے ہر بوجھ دکھائی دینے لگتے ہیں۔

راقم نے برطانیہ میں کئی سئنیر شہریوں اور ریٹائرمنٹ کے بعد لوگوں کو بھرپور زندگی گزارتے خوشحال دیکھا ہے۔ وہ ریٹائرمنٹ پر معقول رقم ملنے پر ورلڈ ٹور لگاتے ہیں۔ اپنے ملک میں گھومتے ہیں اور زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں بیچارے سینئر اور ریٹائرڈ شہری زندگی کی خوشیوں کو ترستے ہیں۔ ان کے پاس عام ضرورتوں اور دوا کے پیسے تک نہیں ہوتے۔ بجٹ میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ان کی پنشن میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ حالیہ بجٹ میں پنجاب کے ملازمین کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم اضافہ ملا ہے اور ساڑھے تین فی صد اضافے پر پپنشنرز احتجاج کر رہے ہیں۔

مختلف محکموں کے ساتھ ساتھ بنک کے ریٹائرڈ پنشنرز بھی خاصی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک فارمولے کے تحت ان کی پنشن 2004 کی ابتدائی تنخواہ پر منجمد کر دی گئی ہے اور ستر فی صد کی بجائے انہیں 35 فی صد پنشن کی ادائیگی کی جارہی ہے جو موجودہ مہنگائی کے تناسب سے انتہائی کم ہے۔ حالانکہ اصولی طور پر ہنشن ریٹائرمنٹ کی ابتدائی تنخواہ پر فکس ہونی چاہیے۔ خوش قسمتی سے نیشل بنک سمیت چند دیگر بنکوں کے ملازمین کو عدالتوں سے ریلیف ملنے کی وجہ سے اب معقول پنشن ملنے لگی ہے تاہم ملک کے ایک بڑے بنک حبیب بنک کے ملازمین ابھی تک کئی سالوں سے انصاف کی بحالی کے لئے عدالتوں سے انصاف ملنے کے منتظر ہیں۔

ایک جیسا موقف ہونے کی وجہ سے انہیں بھی امید ہے کہ وہ اہنا حق وصول کر لیں گے مگر آ ئے روز کی پیشیوں اور بنک کے وکیلوں کے حیلے بہانوں اور تاخیری حربوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور یہ کہتے نظر آ تے ہیں کہ مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے۔ کیونکہ عمر کے اس آ خری حصے میں کئی درخواست گزار زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ وزیر اعظم، وزیر اعلی، وزیر خزانہ، چیف جسٹس اور میڈیا کے ساتھ ساتھ اب یہ سینکڑوں درخواست پنشنرز اللہ تعالیٰ کے حضور بھی ایک عاجزانہ فریاد کر رہے ہیں کہ رحیم و کریم عدل و انصاف کے سب سے بڑے بادشا ہم کمزور ہیں، ہم بوڑھے ہیں، ہم بے بس ہیں۔ ہمارے پاس نہ کوئی طاقت ہے، نہ کوئی رسائی، تیرے در کے سوا ہمارا کوئی در نہیں۔

کاش کوئی ایسا انتظام بھی ہو کہ عدالت سے سائل کو جلد انصاف ملے۔ عدالتی چھٹیوں کے دوران بھی ضروری نوعیت کے کیس خصوصی بنچوں کے ذریعے سنے جائیں۔ ان پنشنرز نے اپنی جوانی اپنے ادارے کی خدمت میں گزاری، اب بڑھاپے میں وہ اپنی جائز پنشن کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ان کی زندگی کا چراغ بجھنے سے پہلے انہیں عدالتی فیصلے کی نوید ملے گی اور عمر کے آخری دن خوشگوار گزریں گے جب ہم بہت سے پرکشش محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین کو پرکشش پنشن دے رہے ہیں تو بنک اور دیگر محکموں کے ملازمین کو بھی یہ سہولت فراہم کریں۔

حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں نظام کی خرابی اور ناکامی کا جو کڑوا سچ بولا ہے اس پر بھی غور وفکر کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر ادارے کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہیے۔ پنشن بھی ایک اہم ملکی مسلہ ہے۔ اس کو ریٹائرڈ ملازمین کی حسب منشا اور زمینی حقائق کے مطابق حل کرنا چاہیے۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے مہنگائی بھی آ سمان سے باتیں کررہی ہے۔ ایسے میں بنک اور دیگر ملازمین کے پنشنرز کی پنشن میں ہر سال ایک معقول اضافہ ہونا چاہیے اور جن لوگوں نے اہنی جوانی صلاحیت وقت اور تجربہ اہنے ادارے کی بہتری کے لئے وقف کیا ادارہ بھی اہنی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کی بہتری کا بھی سوچے اور ان کی محنتوں کا قرض ان کی خوشحالی کی صورت اتارے کہ ادارے کی ترقی میں ان ملازمین کا خون پسینہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اور ادارے کا بڑھتا منافع ان کی پنشن میں بھی شامل ہونا چاہیے۔