آسٹریلیا میں حیات کی ایک جھلک

سفر انسان کی زندگی کا ایسا استاد ہے جو خاموش رہ کر بھی بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ بعض اوقات چند گھنٹوں کا سفر برسوں کے مطالعے پر بھاری ثابت ہوتا ہے کیونکہ کتابیں معلومات دیتی ہیں جبکہ سفر مشاہدہ، تجربہ اور احساس عطا کرتا ہے۔

شاید اسی لیے مجھے جب بھی شہروں کی ہنگامہ خیز زندگی، ٹریفک کا شور اور روزمرہ کی مصروفیات ذہنی تھکن میں مبتلا کرنے لگتی ہیں تو میرا دل بے اختیار آسٹریلیا کے کسی دور افتادہ دیہی علاقے کا رخ کرنے لگتا ہے، جہاں فطرت آج بھی اپنی اصل صورت میں سانس لے رہی ہے۔ آسٹریلیا کے بڑے شہروں کی ترقی، جدید انفراسٹرکچر اور بلند و بالا عمارتیں اپنی جگہ قابلِ دید ہیں، لیکن اس ملک کی اصل روح اس کے دیہات میں آباد ہے۔ وسیع سبز چراگاہیں، میلوں تک پھیلے جنگلات، چھوٹے چھوٹے فارم، لکڑی کے مکانات، خاموش سڑکیں اور سادہ مزاج لوگ مل کر ایک ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جو جدید ہونے کے باوجود فطرت سے اپنا رشتہ نہیں توڑتی۔

گزشتہ برسوں میں مجھے نیو ساؤتھ ویلز، کوئنزلینڈ، وکٹوریہ اور تسمانیہ کے متعدد دیہی علاقوں میں جانے کا موقع ملا۔ ہر سفر نے آسٹریلیا کی ایک نئی تصویر میرے سامنے رکھی، لیکن نیو ساؤتھ ویلز اور کوئنزلینڈ کی سرحد کے قریب واقع ایک فارم ہاؤس میں گزارے گئے چند دن آج بھی میری یادوں کا روشن باب ہیں۔ چند ماہ پہلے ایک ہفتہ ایسا آیا جب مسلسل مصروفیات کے باعث ذہن بوجھل سا ہو گیا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ دو تین دن کے لیے شہر سے دور کسی ایسی جگہ جایا جائے جہاں نہ موبائل فون کی گھنٹیاں ہوں، نہ ٹریفک کا شور اور نہ ہی روزمرہ زندگی کی بے ہنگم رفتار۔ انٹرنیٹ پر تلاش کے دوران ایک فارم ہاؤس کی تصاویر سامنے آئیں۔ اردگرد گھنے درخت، سبز میدان، لکڑی کا خوبصورت مکان اور دور دور تک خاموشی۔ یہی وہ ماحول تھا جس کی مجھے تلاش تھی، چنانچہ میں نے تین دن کے لیے اس فارم ہاؤس کی بکنگ کر لی۔

سفر کی صبح موسم خوشگوار تھا۔ سڈنی سے نکلتے ہی شاہراہ پر گاڑی رواں ہوئی تو شہری زندگی آہستہ آہستہ پیچھے رہنے لگی۔ چند ہی میل بعد بلند عمارتوں کی جگہ کھلے میدانوں نے لے لی۔ دونوں طرف سرسبز چراگاہیں تھیں جہاں بھیڑوں کے ریوڑ سفید بادلوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ کہیں دودھ دینے والی گائیں سکون سے گھاس چر رہی تھیں، کہیں گھوڑے آزادانہ دوڑ رہے تھے اور کہیں انگور، سیب اور ناشپاتی کے باغ دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ آسٹریلیا میں لمبی ڈرائیونگ کا اپنا ایک لطف ہے۔ شاہراہیں بہترین معیار کی ہیں، ٹریفک کم ہے اور راستے کا ہر موڑ ایک نیا منظر پیش کرتا ہے۔ کہیں نیلگوں پہاڑ افق سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں قد آور یوکلپٹس کے درخت سڑک کے دونوں طرف قدرتی محراب بنا دیتے ہیں اور کہیں چھوٹے چھوٹے دریا خاموشی سے بہتے ہوئے راستے کا حسن دوبالا کر دیتے ہیں۔

پانچ گھنٹے کے سفر کے بعد میری گاڑی مرکزی شاہراہ سے ہٹ کر ایک نسبتاً تنگ دیہی سڑک پر مڑ گئی۔ اب آبادی تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ کبھی کبھار کوئی فارم دکھائی دیتا، پھر کئی کلومیٹر تک صرف جنگل، چراگاہیں اور خاموشی۔ کچھ فاصلے پر پختہ سڑک ختم ہوئی اور بجری سے بنی ایک کچی مگر مضبوط سڑک شروع ہو گئی۔ گاڑی کے پہیوں کے نیچے چھوٹے پتھروں کی مخصوص آواز اس خاموش ماحول میں عجیب سی موسیقی پیدا کر رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف صدیوں پرانے یوکلپٹس کے درخت کھڑے تھے۔ ان کے لمبے تنوں اور بلند شاخوں سے گزرتی ہوا ایک مدھم سرگوشی پیدا کر رہی تھی۔ جگہ جگہ جنگلی پھول کھلے ہوئے تھے اور درختوں پر مختلف اقسام کے پرندے اپنی دنیا میں مگن تھے۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میں کسی فلمی منظر کا حصہ بن گیا ہوں۔

چند منٹ بعد جنگل ختم ہوا اور سامنے ایک خوبصورت فارم ہاؤس نمودار ہوا۔ دور سے ایسا لگتا تھا جیسے سبز میدانوں کے درمیان کسی نے نہایت سلیقے سے ایک باغ آباد کر دیا ہو۔ گھر کے گرد رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ لیموں، مالٹے، سیب اور سٹرابری کے پودے پھلوں سے لدے ہوئے تھے، جبکہ مرکزی دروازے کے قریب انگور کی بیل لکڑی کی دیوار سے لپٹی ہوئی تھی۔ عقب میں پھیلے وسیع میدان میں گائیں، بکریاں اور گھوڑے آزادی سے چر رہے تھے۔ میں نے گاڑی ایک شیڈ کے نیچے کھڑی کی اور اردگرد نظر دوڑائی۔ حیرت ہوئی کہ پورے فارم میں کوئی انسان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ نہ کوئی استقبالیہ، نہ دفتر اور نہ ہی کوئی ملازم۔ چند لمحے تو مجھے شبہ ہوا کہ شاید میں غلط جگہ آ گیا ہوں۔ میں نے فارم کی مالکن کو فون کیا۔

دوسری طرف سے خوش اخلاق خاتون کی آواز آئی۔

"ویلکم مسٹر مرزا ، آپ بالکل صحیح جگہ پہنچے ہیں۔"

اس نے بتایا کہ مرکزی دروازے کے ساتھ ایک چھوٹا سا باکس لگا ہوا ہے۔ اس کا کوڈ فون پر بتایا، میں نے باکس کھولا تو اندر گھر کی چابی رکھی تھی۔

’گھر آپ کے لیے تیار ہے، آرام سے اندر چلے جائیں’ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

فون بند ہونے کے بعد میں چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔ لاکھوں ڈالر مالیت کا ایک گھر، ایک اجنبی مسافر کے حوالے، بغیر کسی پوچھ گچھ، بغیر کسی نگرانی اور بغیر کسی ملازم کے۔ یہ اعتماد میرے لیے اس سفر کا پہلا سبق تھا۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو ہر چیز نہایت سلیقے سے رکھی ہوئی تھی۔ ڈرائنگ روم میں لکڑی کا فرنیچر، کتابوں کی ایک چھوٹی سی الماری، صاف ستھرا قالین اور بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں جن سے باہر سبز میدان صاف دکھائی دیتے تھے۔ باورچی خانے میں روزمرہ ضرورت کی تمام اشیا موجود تھیں۔ بیڈروم کی سفید چادریں، صاف تولیے اور برآمدے میں باربی کیو کی سہولت اس بات کا احساس دلا رہی تھی کہ یہاں آنے والے مہمان کو ہر ممکن آسائش فراہم کرنا اس گھر کے مالکان کی روایت ہے۔

سامان رکھ کر میں برآمدے میں آ بیٹھا۔ شام آہستہ آہستہ اتر رہی تھی۔ سورج کی سنہری کرنیں سبز گھاس پر بکھری ہوئی تھیں۔ دور چراگاہ سے گائیں واپس لوٹ رہی تھیں اور پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف پرواز کر رہے تھے۔ شہر سے صرف چند گھنٹے کی مسافت پر واقع یہ خاموش دنیا مجھے کسی اور ہی زمانے کی یاد دلا رہی تھی، جہاں وقت کی رفتار سست تھی مگر زندگی بھرپور تھی۔ فارم ہاؤس میں پہلی رات غیر معمولی سکون کے ساتھ گزری۔ نہ گاڑیوں کا شور، نہ سائرن کی آوازیں، نہ موبائل فون کی مسلسل گھنٹیاں۔ صرف کبھی کبھار ہوا کا ایک جھونکا درختوں کی شاخوں سے ٹکراتا اور پھر خاموشی پورے ماحول پر چھا جاتی۔ شہر میں رہنے والے انسان کو ابتدا میں ایسی خاموشی کچھ اجنبی محسوس ہوتی ہے، لیکن چند ہی گھنٹوں بعد یہی خاموشی دل کو ایک عجیب سا اطمینان دینے لگتی ہے۔

صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی۔ کھڑکی کا پردہ ہٹایا تو سامنے شبنم سے بھیگی سبز گھاس سورج کی روشنی میں یوں چمک رہی تھی جیسے کسی نے بے شمار ننھے موتی بکھیر دیے ہوں۔ دور درختوں پر مختلف اقسام کے پرندے اپنی مخصوص دھن میں مصروف تھے۔ آسٹریلیا کے دیہی علاقوں کی صبح کا ایک اپنا ہی رنگ ہے۔ یہاں قدرت مصنوعی آوازوں سے نہیں بلکہ پرندوں کی چہچہاہٹ، ہوا کی سرگوشیوں اور جانوروں کی ہلکی ہلکی آہٹ سے انسان کو بیدار کرتی ہے۔ میں گرم چائے کا کپ لے کر برآمدے میں آ بیٹھا۔ سامنے ایک وسیع چراگاہ تھی جہاں گھوڑے، گائیں اور چند بکریاں بے فکری سے چر رہی تھیں۔ ان جانوروں میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ نہ انہیں کسی شور نے پریشان کیا تھا اور نہ ہی وہ انسان کی موجودگی سے خوف زدہ تھے۔ چند لمحوں کے لیے میں صرف انہیں دیکھتا رہا۔

زندگی کی یہ سادگی شاید اسی سکون کا راز تھی جس کی تلاش میں لوگ دنیا بھر کا سفر کرتے ہیں۔ ناشتے کے بعد میں نے فارم کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً پچیس ایکڑ پر پھیلی اس جائیداد میں چھوٹے بڑے درخت، سبز میدان، ایک قدرتی تالاب، مویشیوں کے باڑے اور زرعی آلات رکھنے کے لیے ایک بڑا شیڈ موجود تھا۔ ہر چیز نہایت ترتیب سے رکھی گئی تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کہیں بھی بے ترتیبی کا نام و نشان نہیں تھا۔ شیڈ کے اندر ٹریکٹر، گھاس کاٹنے والی مشینیں، مختلف زرعی آلات اور جانوروں کی خوراک رکھی ہوئی تھی، لیکن ان پر کوئی تالا نہیں تھا۔ مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ اس معاشرے کی بنیاد صرف مضبوط قوانین نہیں بلکہ لوگوں کے باہمی اعتماد پر بھی قائم ہے۔ جب امانت داری اجتماعی رویہ بن جائے تو نگرانی کی ضرورت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔

فارم کے ایک کونے میں دو بڑے پانی کے ٹینک نصب تھے۔ معلوم ہوا کہ بارش کا سارا پانی گھر کی چھت سے پائپوں کے ذریعے انہی ٹینکوں میں جمع کیا جاتا ہے۔ یہی پانی باغیچے، جانوروں اور گھریلو استعمال میں کام آتا ہے۔ آسٹریلیا ایک خشک براعظم ہے، اس لیے یہاں پانی کی ہر بوند کو قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ کیا جاتا ہے اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ گھر کی چھت پر شمسی پینل بھی نصب تھے۔ سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی بجلی روزمرہ ضروریات پوری کرتی تھی اور اضافی بجلی قومی گرڈ میں چلی جاتی تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی سوچ کا حصہ بھی ہے۔

دوپہر کے وقت میں قریبی دیہات کی طرف نکل گیا۔ راستے میں انگور کے باغ، ایووکاڈو کے درخت، مالٹوں کے باغات اور شہد کی مکھیوں کے چھتے دکھائی دیتے رہے۔ ہر فارم اپنی خاموش محنت کی کہانی سنا رہا تھا۔ کہیں ایک کسان ٹریکٹر چلا رہا تھا، کہیں ایک بزرگ خاتون باغ کی دیکھ بھال میں مصروف تھی اور کہیں ایک نوجوان باپ اپنے کم عمر بیٹے کو ٹریکٹر چلانا سکھا رہا تھا۔ دیہی آسٹریلیا میں خاندان اور کام ایک دوسرے سے جدا نہیں، بلکہ ایک ہی زندگی کے دو پہلو محسوس ہوتے ہیں۔

اسی دوران ایک منظر نے مجھے چونکا دیا۔ سڑک کے کنارے ایک لکڑی کا چھوٹا سا اسٹال بنا ہوا تھا۔ اس پر تازہ سیب، ناشپاتیاں، سٹرابری، شہد کی بوتلیں اور گھر میں تیار کیا گیا جام رکھا تھا۔ ہر چیز کے سامنے اس کی قیمت درج تھی۔ ایک طرف لکڑی کا ایک چھوٹا سا ڈبہ رکھا تھا جس پر لکھا تھا:

Please leave your payment here. Thank you.

میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ نہ کوئی دکاندار، نہ کوئی ملازم اور نہ ہی کسی قسم کی نگرانی۔ اسی دوران ایک گاڑی آ کر رکی۔ ایک خاتون اتری، اس نے شہد کی ایک بوتل اور سیبوں کا ایک تھیلا اٹھایا، رقم ڈبے میں ڈالی اور خاموشی سے اپنی راہ چل دی۔ چند لمحوں بعد ایک بزرگ شخص آیا، اس نے کچھ سٹرابری خریدی، مطلوبہ رقم رکھی اور چلا گیا۔ پورا لین دین چند سیکنڈ میں مکمل ہو گیا۔ میں نے بھی خالص شہد کی ایک بوتل خریدی۔ رقم ڈبے میں ڈالتے ہوئے دل میں یہ خیال آیا کہ اعتماد بھی سرمایہ ہوتا ہے، بلکہ شاید وہ سرمایہ جو کسی بینک میں جمع نہیں کیا جا سکتا۔

واپسی پر میری ملاقات ایک مقامی کسان سے ہوئی جو اپنے فارم کے باہر باڑ کی مرمت کر رہا تھا۔ میں نے اس سے مختصر گفتگو کی۔ معلوم ہوا کہ اس کا خاندان تین نسلوں سے اسی علاقے میں آباد ہے۔ اس نے بتایا کہ یہاں لوگ ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں، اس لیے باہمی اعتماد زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا کبھی اس طرح کے اسٹال سے کوئی چیز چوری بھی ہوتی ہے؟

وہ مسکرایا اور بولا: ’کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے، لیکن اتنا کم کہ اس کے لیے پورا نظام بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اگر ہم ہر شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تو ہماری زندگی مشکل ہو جائے گی‘۔ اس کا جواب مختصر تھا، لیکن اس میں ایک پورا سماجی فلسفہ پوشیدہ تھا۔ شام تک میں دوبارہ فارم ہاؤس پہنچ چکا تھا۔ سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ آسمان پر نارنجی، سنہری اور ہلکے ارغوانی رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ دور چراگاہ سے واپس آتے گھوڑوں کے قدموں کی دھیمی چاپ، پرندوں کی آخری پرواز اور درختوں سے ٹکراتی ہوا کی مدھم آواز اس منظر کو ناقابلِ فراموش بنا رہی تھی۔

میں دیر تک برآمدے میں بیٹھا رہا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اس مختصر قیام نے مجھے آسٹریلیا کے دیہی معاشرے کے ایک ایسے رخ سے متعارف کرایا ہے جو بڑے شہروں کی چمکتی ہوئی سڑکوں پر نظر نہیں آتا۔ یہاں ترقی کا مطلب صرف جدید سہولتیں نہیں بلکہ فطرت کے ساتھ توازن، وسائل کا دانشمندانہ استعمال اور ایک دوسرے پر اعتماد بھی ہے۔ ان ہی خیالات میں گم تھا کہ اگلے دن واپسی کا پروگرام ذہن میں آیا۔ ابھی مجھے اس سفر کا ایک اور دلچسپ تجربہ حاصل کرنا تھا، جس نے میرے دل پر سب سے گہرا اثر چھوڑا۔ اگلی صبح ناشتے کے بعد میں نے فارم ہاؤس کی چابیاں دوبارہ اسی چھوٹے سے باکس میں رکھ دیں جہاں سے تین روز قبل نکالی تھیں۔ جاتے ہوئے نہ کسی نے آ کر کمرے چیک کیے، نہ برتن گنے، نہ کوئی حساب کتاب ہوا اور نہ ہی کسی نے پوچھا کہ گھر کی کون سی چیز استعمال کی گئی ہے۔ میں نے صرف دروازہ بند کیا، کوڈ لاک کیا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

گاڑی آہستہ آہستہ دیہی سڑک پر چل رہی تھی۔ چند ہی لمحوں میں فارم ہاؤس نظروں سے اوجھل ہو گیا، مگر اس کی خاموش فضا اور وہاں کے لوگوں کا اعتماد میرے ذہن میں نقش ہو چکا تھا۔ واپسی کا راستہ میں نے جان بوجھ کر مختلف منتخب کیا تاکہ مزید دیہات اور چھوٹے قصبے دیکھنے کا موقع مل سکے۔ راستے میں لکڑی کے خوبصورت مکانات، چھوٹے چرچ، دیہی اسکول اور مقامی کمیونٹی ہال دکھائی دیتے رہے۔ اکثر گھروں کے سامنے آسٹریلیا کا پرچم لہرا رہا تھا اور باغیچوں میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔ ہر چیز میں ایک سادگی تھی، لیکن وہ سادگی بے ترتیبی نہیں بلکہ حسنِ ترتیب کا احساس دلاتی تھی۔ دوپہر کے قریب مجھے بھوک محسوس ہوئی۔ ایک چھوٹے سے گاؤں میں سڑک کے کنارے لکڑی کا بنا ہوا ایک مختصر کیفے نظر آیا۔ اس کے سامنے چند گاڑیاں کھڑی تھیں اور باہر لکڑی کی میزوں پر چند مقامی لوگ کافی پی رہے تھے۔ میں بھی اندر داخل ہو گیا۔ کیفے بہت بڑا نہیں تھا، لیکن بے حد صاف ستھرا اور خوشگوار تھا۔ دیواروں پر پرانی تصاویر آویزاں تھیں جن میں اس علاقے کی ابتدائی آبادکاری، کسانوں اور مویشیوں کی جھلکیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ کاؤنٹر کے پیچھے ایک عمر رسیدہ آسٹریلوی خاتون نہایت خوش دلی سے گاہکوں کی خدمت کر رہی تھی۔

اس نے مسکرا کر میرا استقبال کیا اور مینو میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے مینو دیکھا، لیکن زیادہ تر کھانے میرے لیے موزوں نہیں تھے۔ میں نے نرمی سے پوچھا: کیا آپ کے پاس حلال کھانے کا کوئی انتظام ہے؟ اس نے معذرت خواہانہ انداز میں جواب دیا: بدقسمتی سے ہمارے پاس حلال گوشت نہیں ہے، لیکن اگر آپ چاہیں تو میں تازہ سبزیوں، انڈوں، پنیر اور ٹوسٹ سے آپ کے لیے کھانا تیار کر سکتی ہوں۔ میں نے خوشی سے اس کی پیشکش قبول کر لی۔

چند ہی منٹوں میں اس نے نہایت محبت سے ایک سادہ مگر لذیذ کھانا تیار کر دیا۔ گرم آملیٹ، مکھن لگے ہوئے ٹوسٹ، تازہ سلاد اور خوشبودار چائے۔ کھانے میں شاید کوئی غیر معمولی چیز نہیں تھی، لیکن اس میں خلوص کی ایسی خوشبو شامل تھی جو کسی بھی مہنگے ریستوران میں نہیں مل سکتی۔ کھانے کے دوران ہماری مختصر گفتگو ہوتی رہی۔ اسے معلوم ہوا کہ میں پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں اور آسٹریلیا کے مختلف علاقوں کی سیر کر رہا ہوں۔ اس نے پاکستان کے بارے میں چند سوالات کیے اور خاص طور پر وہاں کے پہاڑوں اور تاریخی مقامات میں دلچسپی ظاہر کی۔

اسی دوران نمازِ عصر کا وقت ہو گیا۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے اس سے پوچھا: ’اگر آپ اجازت دیں تو کیا میں چند منٹ کے لیے کسی صاف جگہ پر اپنی نماز ادا کر سکتا ہوں‘۔ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی، پھر مسکراتے ہوئے بولی: ’ضرور، آئیے میرے ساتھ‘۔ وہ مجھے کیفے کے پچھلے حصے میں لے گئی، جہاں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس نے جلدی سے ایک صاف چٹائی بچھائی اور کہا ’یہ جگہ آپ کے لیے مناسب رہے گی۔ آپ اطمینان سے اپنی عبادت کریں، میں اس دوران کسی کو یہاں نہیں آنے دوں گی‘۔

میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ یہ لمحہ میرے لیے غیر معمولی تھا۔ ہزاروں میل دور ایک اجنبی ملک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک عیسائی خاتون پوری محبت اور احترام کے ساتھ ایک مسلمان مسافر کو عبادت کے لیے جگہ فراہم کر رہی تھی۔ اس منظر نے مجھے احساس دلایا کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے باوجود احترام، محبت اور انسان دوستی وہ مشترکہ اقدار ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہیں۔

نماز کے بعد جب میں واپس کاؤنٹر پر آیا تو اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا: کیا آپ کی عبادت مکمل ہو گئی؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، اور میں آپ کی مہربانی کبھی نہیں بھولوں گا۔ وہ بولی: ’ہم سب مختلف راستوں پر چلتے ہیں، لیکن اگر ہم ایک دوسرے کے عقیدے اور احساسات کا احترام کریں تو دنیا کہیں زیادہ خوبصورت بن سکتی ہے‘۔ اس مختصر جملے نے میرے دل کو چھو لیا۔ بل ادا کرتے وقت میں نے اس کا شکریہ دوبارہ ادا کیا۔ وہ دروازے تک مجھے رخصت کرنے آئی اور جاتے ہوئے کہا: ’اگلی بار اس علاقے میں آئیں تو ضرور ملیں‘۔ میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور شاہراہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

شام ڈھل رہی تھی۔ سورج آہستہ آہستہ افق کے پیچھے اتر رہا تھا اور اس کی سنہری روشنی سبز میدانوں پر ایک نرم سی چادر بچھا رہی تھی۔ راستے میں وہی چراگاہیں، وہی بھیڑیں، وہی گھوڑے اور وہی خاموش دیہات تھے، لیکن اب میری نگاہ صرف مناظر تک محدود نہیں رہی تھی۔ میں ان مناظر کے پیچھے چھپی ہوئی ایک تہذیب، ایک طرزِ فکر اور ایک معاشرتی رویے کو بھی دیکھ رہا تھا۔ اس مختصر سفر نے مجھے آسٹریلیا کے ایک ایسے رخ سے آشنا کیا جو سیاحتی بروشروں میں کم دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ آسٹریلیا تھا جہاں فطرت سے محبت زندگی کا حصہ ہے، جہاں پانی کی ایک بوند بھی قیمتی سمجھی جاتی ہے، جہاں محنت عزت کی علامت ہے، جہاں اعتماد کو معاشرتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے، اور جہاں ایک اجنبی مسافر کو بھی عزت، احترام اور خلوص کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

سڈنی کی بلند عمارتیں دوبارہ افق پر نمودار ہونے لگیں تو یوں محسوس ہوا جیسے میں صرف ایک سفر سے واپس نہیں آ رہا بلکہ اپنے ساتھ ایسے تجربات اور یادیں لے کر لوٹ رہا ہوں جو مدتوں میرے ساتھ رہیں گی۔ آج بھی جب کبھی شہری زندگی کی تیز رفتاری سے دل اُکتا جاتا ہے تو ان خاموش دیہی راستوں، لکڑی کے اس فارم ہاؤس، شبنم سے بھیگی گھاس، پرندوں کی صبح کی نغمگی اور ان سادہ مگر باکردار لوگوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یہی یادیں مجھے یقین دلاتی ہیں کہ دنیا کی اصل خوبصورتی صرف حسین مناظر میں نہیں بلکہ ان انسانوں میں بھی ہوتی ہے جو اپنے کردار، محبت اور خلوص سے ہر مسافر کے دل میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔