’ریفرنڈم‘ برسر دیوار

سیاست پر باقاعدگی سے لکھنے والے کئی صحافیوں کی طرح میں بھی کافی عرصہ اس گمان میں مبتلا رہا کہ حکمران اشرافیہ اہم مسائل پر ہماری رائے سے متفق نہ بھی ہو تب بھی اس پر توجہ ضرور دیتی ہے۔ یہ دریافت کرنے میں 20سے زیادہ برس ضائع کردئے کہ حکمران اپنے ذہن میں آئے منصوبوں پر ہر صورت عمل کروانے کو ڈٹ جاتے ہیں۔

 اپنی اوقات عرصہ ہوا جان لینے کی بدولت ہی میں نے وزیر داخلہ جناب محسن نقوی صاحب کی اس سوچ کے بارے میں رائے دینے سے گریز کو ترجیح دی جو ان کے بقول مفلوج ہوئے بندوبستِ حکومت کو نئے صوبوں کے قیام سے فعال بنانے کی امید دلاتی ہے۔موجودہ حکومتی بندوبست کو ناکارہ ٹھہرانے سے قبل نقوی صاحب نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے کراچی میں طویل ملاقات کی تھی۔ ان دونوں کے مابین برسوں سے قائم قربت کا شاہد ہوتے ہوئے میں یہ تسلیم کرنے میں بہت دِقت محسوس کروں گا کہ مذکورہ ملاقات کے دوران نقوی صاحب نے صدر مملکت کو آگاہ نہیں کیا ہوگا کہ سرمایہ کاروں کی بلائی ایک کانفرنس میں وہ کون سے چونکا دینے والے نکات بیان کرنے جارہے ہیں۔ یہ لکھنے کے بعد اعتراف یہ بھی کرنا ہوگا کہ صدر مملکت نے ان کے بیان کردہ نکات کے بارے میں کیا رائے دی اس کے بارے میں قطعاًبے خبر ہوں۔

نقوی صاحب کی رائے کو ’’انفرادی‘‘ ٹھہرانا میرے لئے ناممکن ہے۔ سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ میں یکساں طورپر معتبرومؤثر مانے وزیر داخلہ ازخود پیش قدمی کے عادی نہیں اور یہ بات بھی ہم سب کے علم میں ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہماری مقتدرہ صوبائی شناخت پر اصرار کو ’’پاکستانیت‘‘ والی پہچان اجاگر کرنے کی راہ میں بنیادی رکاوٹ تصور کرتی رہی ہے۔ اس سوچ کے برملا اور دو ٹوک اظہار کے بجائے عوام کو موثر حکومت فراہم کرنے کے نام پر ’’چھوٹے انتظامی یونٹس‘‘ قائم کرنے کا ذکر ہوتا رہا۔ صدر ایوب اور جنرل مشرف کی متعارف کردہ ’’بنیادی جمہوریت‘‘ اور فلاحی حکومتیں مگر صوبائی شناخت کے تصور کو کمزور کرنے میں ناکام رہیں۔ ’’نچلی سطح سے جمہوری نظام کی اٹھان‘‘ کا تجزیہ بارہا دہرایا گیا اور اب کی بار اس کی ضرورت ایک بار پھر بہت شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے نقوی صاحب کے بیان کردہ نکات کو آنے والے چند مہینوں کے دوران عملی شکل اختیار کرتے دیکھ رہا ہوں۔ سوال فقط یہ تنگ کئے جارہا تھا کہ اس جانب کیسے بڑھا جائے گا؟

اتوار کی صبح چھپے کالم میں محترم صحافی سہیل وڑائچ نے میری مشکل آسان کردی۔ ان کا خیال ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کیلئے عوامی رائے جاننے کیلئے ریفرنڈم کا اہتمام ہوسکتا ہے۔ ’’ریفرنڈم‘‘ ہمارے ہاں حبیب جالب کی جانب سے اٹھائے ’’جن تھایاریفرنڈم تھا ‘‘ والا سوال اٹھانے کی وجہ سے لطیفہ بن چکا ہے۔ اپنی سوچ پر ڈٹی حکمران اشرافیہ مگر تاریخ کو حقارت سے نظر انداز کرنے کی عادی ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کے قیام کی راہ ہموارکرنے کے لئے لہٰذا ’’ریفرنڈم‘‘ کا اہتمام دیوار پر لکھا نظر آرہا ہے۔ سہیل وڑائچ البتہ خبردار کرتے پائے گئے کہ متوقع ریفرنڈم کے لئے سوال اس انداز میں  مرتب نہ ہو جو ’’نئے صوبوں‘‘ کے قیام پر اصرار کرتا سنائی دے۔ ریفرنڈم کو یقینی تصور کرنے کے باوجود وہ اس کے لئے مرتب ہوئے سوال کی ساخت پر توجہ دلانے کو ترجیح دیتے رہے۔

بھائی سہیل کی اس رائے سے سو فیصد اتفاق کے باوجود کہ نئے صوبوں کی راہ ہموار کرنے کے لئے ریفرنڈم کروانا ہوگا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں اگرچہ ناکام ہورہا ہوں کہ اس کا انعقاد کیسے ممکن بنایا جائے گا۔ ماضی میں ریفرنڈم فوجی وردی پہنے صدور نے کروائے تھے۔ نقوی صاحب مگر نظامکو ری سیٹ کرنے کا تقاضہ کرتے ہوئے اس امر پر بھی مصر رہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کا قیام موجودہ حکومتی بندوبست کے ذریعے عمل میں لایا جاسکتا ہے کیونکہ آج کی عسکری قیادت براہ راست اقتدار پر قابض ہونا نہیں چاہتی۔ موجودہ نظام ہی کو بلکہ تسلسل کے ذریعے مستحکم مگر عوام کے لئے بارآور بنانا چاہتی ہے اور نقوی صاحب کی رائے سے اختلاف مجھ دیہاڑی دار کے لئے ممکن نہیں۔ 2024 کے انتخابات کے بعد قائم ہوا حکومتی بندوبست اپنا ہر قدم آئین کے مطابق اٹھانا چاہتا ہے۔ اسی باعث یکے بعد دیگرے 26ویں اور 27ویں ترمیم متعارف ہوئیں۔ نئے صوبوں کی تشکیل کیلئے مگر 28ویں ترمیم کو موجودہ پارلیمان سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کروانا تقریباً ناممکن ہے۔ اسی باعث نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کے قیام کی راہ ہموار کرنے کیلئے ریفرنڈم کا انعقاد ضروری ہے۔ 2024 سے قائم ہوا حکومتی بندوبست بلکہ ’’تاریخ میں پہلی بار‘‘ منتخب حکومت کے ہاتھوں ریفرنڈم کروانے کی روایت بھی قائم کرسکتا ہے۔

ہمارے آئین کے آرٹیکل 48کی شق (6)وزیر اعظم کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ اگر ضروری سمجھے تو ’’قومی اہمیت کے کسی مسئلے‘‘ پر ریفرنڈم کی تجویز دے سکتا ہے۔ کابینہ سے منظوری کے بعد اسے یہ تجویز پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانا ہوگی۔ ریفرنڈم کی تجویز منظور کرنے کے لئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے دو تہائی اکثریت درکار نہیں۔ سادہ اکثریت ہی کافی ہے۔ اس شق پر توجہ دیں تو شاید وزیر اعظم شہبازشریف نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے لئے پارلیمان کو ریفرنڈم کے لئے آمادہ کرسکتے ہیں۔مسلم لیگ کے نام سے قائم دیگر جماعتوں کی طرح نواز شریف سے منسوب مسلم لیگ بھی نئے صوبوں کے قیام کی تاریخی اعتبارسے مخالف نہیں رہی ہے۔ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے اور اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے صوبہ پنجاب میں سے ’’جنوبی پنجاب‘‘ کے نام سے نیا انتظامی یونٹ نکالنے کی مگر اس نے بھی یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ایوانِ بالا میں مخالفت کی تھی۔ شہباز شریف صاحب ذاتی طورپر اگرچہ اس کے قیام پر رضا مندی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ عوام سے محض یہ سوال پوچھنے کے لئے لہٰذا وہ تیار ہوسکتے ہیں کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کا قیام درکار ہے یا نہیں۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اس سوال کے حوالے سے ریفرنڈم کی تجویز بآسانی منظور کروائی جاسکتی ہے۔

کلیدی سوال مگر ریفرنڈم کی تجویز کی منظوری کے بعد یہ اٹھے گا کہ اس کے لئے سوال کس زبان میں مرتب کیا جائے۔ سوال مرتب کرتے ہوئے ’’نئے صوبوں‘‘ کے قیام کا ذکر براہ راست کرنے سے گریز اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘کے قیام کے لئے عوامی رائے معلوم کرنے پر توجہ  دے سکتی ہے۔ ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے بذریعہ ریفرنڈم ’’ہاں‘‘ میں آیا جواب بھی لیکن نئے صوبوں کا قیام موجودہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے ناممکن بنادے گا۔ وجہ اس کی آرٹیکل 239کی شق (4)ہے۔ یہ واضح الفاظ میں اصرار کرتی ہے کہ ’’صوبوں کی حدود‘‘ طے کرنے کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے لئے وہاں کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے اور اس کا حصول ناممکن نظر آرہا ہے۔ محض ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے عوم سے بذریعہ ریفرنڈم حاصل کردہ ’’ہاں‘‘ اس تناظر میں کام نہیں آئے گی۔ سندھ کی تقسیم واقعتاً درکار ہے تو آئین کی 239کی شق (4)کو ختم کرنا ہوگا جو پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر فی الوقت ممکن نہیں۔

 ’’آئینی حدود‘‘ میں رہتے ہوئے نئے صوبوں کا قیام لہٰذا مجھ قلم گھسیٹ کو ’’آئین کی حدود میں رہتے ہوئے‘‘ ناممکن دِکھ رہا ہے۔ غالباًاسی باعث نقوی صاحب کی بیان کردہ تجویز پر عملدرآمد کے لئے سہیل وڑائچ ریفرنڈم کی توقع باندھے ہوئے ہیں اوراس کے ذریعے پوچھے سوال کی بابت فکر مندی کا اظہار کررہے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)