میں ایک نیا صوبہ بنانے جارہا ہوں

ہمارے ہاں عام نوعیت کے سیاستدان نہیں ہوتے۔ وہ سب ذہین ترین ہوتے ہیں، وہ اڑتی ہوئی چڑیاؤں کے پر گن سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام تاثر ہے کہ اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گننا عقل مند ہونے کی آخری نشانی ہے۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔

دانشور بتاتے ہیں کہ ایسے ذہین لوگ کھڑے کھڑے ایٹم بم بنالیتے ہیں۔ ذہین سیاست دانوں کی عالمانہ اور فاضلانہ باتیں سن کر میں بہت متاثر ہوتا ہوں، سوچتا ہوں کہ میں سیاستدان کیوں نہیں بنا؟ کیوں پاک صاف معاشرے میں جھوٹ بولنے کا بیڑا میں نے اٹھالیا ہے؟ یہ الگ موضوع ہے، اس پر پھر کبھی بات چیت ہوگی۔ سردست سیاستدانوں کی باتوں سے متاثر ہوکر میں نے فی الحال ایک عدد صوبہ بنانے کی ٹھان لی ہے۔ مجھے یہ بڑا ہی آسان کام لگتا ہے۔ میں آسانی سے یہ معجزہ کرکے دکھا سکتا ہوں، میں ثابت کرکے دکھادوں گا کہ ہم سیاست دان جب بھی کوئی کام کرکے دکھانے کی ٹھان لیتے ہیں، وہ کام ہم کرکے دکھا بھی سکتے ہیں۔ اب آپ میرا تماشہ دیکھتے جائیے اور اپنی انگلیاں دانتوں میں دے کر چباتے رہئے۔

یاد رہے کہ میں ایک صوبہ بنانے جارہا ہوں۔ آپ جانتے ہیں ناکہ صوبہ کس چیز کو کہتے ہیں؟ مثلاً خیبر پختونخوا ایک صوبہ ہے، پنجاب ایک صوبہ ہے، سندھ ایک صوبہ ہے، بلوچستان ایک صوبہ ہے۔ صوبوں کی اپنی تاریخ ہوتی ہے، صوبوں کی اپنی جغرافیائی شناخت ہوتی ہے، ہر صوبے کی اپنی اپنی ایک حکومت ہوتی ہے۔ اس حکومت میں ایک گورنر صاحب ہوتے ہیں، ایک وزیراعلیٰ ہوتے ہیں، حکومت چلانے کے لیے وزیروں اور مشیروں کی ایک کھیپ ہوتی ہے۔ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان سرکاری افسران ہوتے ہیں، جج صاحبان ہوتے ہیں، پولیس کی لمبی چوڑی نفری ہوتی ہے۔ اسی نوعیت کی انیک لازمی حاجتوں کے بارے میں، میں اچھا خاصہ گیان رکھتا ہوں، ادراک رکھتا ہوں، اس لیے میں جب صوبوں کے بیچوں بیچ ایک نیا صوبہ بنانے بیٹھوں گا تب کام ٹھوک بجاکے کروں گا۔ ایک نیا صوبہ بنانے کے لیے مجھے مندرجہ ضروریات، سازو سامان اور لوازمات کی ضرورت پڑے گی۔ ورنہ اس کے بغیر میرا کام نہیں چل سکتا۔ نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔

میں ایک صوبہ بنانے جارہا ہوں، میں کوئی کوٹھی، فارم ہاؤس اور اپارٹمنٹس بنانے نہیں جارہا۔ مجھے کہیں نہ کہیں سے دولت کے دروازے کھلے رکھنے پڑیں گے۔ نیا صوبہ پیسے کا کھیل ہے۔ ملک کی معیشت مضبوط ہے، مرکزی حکومت بے انتہا دولت مند ہے، کسی ملک اور ادارے کی مقروض نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مرکزی حکومت ایک صوبے کے بیچوں بیچ ایک نیا صوبہ بنانے میں میری بھرپور مدد کرے گی۔ خزانے کے دروازے کھول دے گی، ایک صوبے کے بیچوں بیچ دوسرا صوبہ بنانے میں میری بھرپور مدد کرے گی۔ یہیں سے میرے کام کی ابتدا ہوگی۔

صوبہ بنانے کے لیے مجھے زمین کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے لیے ہم کسی ہمسایہ ملک کی زمین پر قبضہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنے کسی صوبے کو توڑنا مروڑنا پڑے گا۔ پرانے صوبے کے وجود پر نیا صوبہ بنے گا۔ صوبے کے بٹوارے میں، میں انگریزوں والی حرکت نہیں کروں گا۔ انگریز کے بٹوارے میں مکان کا صحن ہندوستان میں اور کمرے پاکستان میں آگئے تھے۔ ہم اس قسم کی غلطی نہیں کریں گے۔ ہم نئے اور پرانے صوبے کے د رمیان مکانوں کے مکان اور زرعی زمین کا بٹوارہ کریں گے۔ نیا صوبہ بنانے کے لیے میں نے مرکزی حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔ ہم نے پرانے ایک صوبے کی نشاندہی بھی کردی ہے، جس کو تقسیم کرنے کے بعد ہمیں ملنے والی زمین پر ہم نیا صوبہ بنائیں گے۔ ہمارا کام تب سے شروع ہوگا جب مرکزی حکومت صوبائی حکومت کو صوبہ توڑنے کے لیے قائل کردے اور صوبے کا بٹوارہ کردے۔ ایک بات کھل کر میں آپ کو بعد میں بتلاؤں گا، سردست بس اتنا بتا دیتا ہوں کہ جس طرح ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہوتی ہیں اور ایک ساتھ پیار، محبت سے نہیں رہ سکتیں، اسی طرح زبان، تہذیب، تمدن، رسم و رواج لوگوں کو قوموں میں تقسیم کردیتے ہیں۔ اسی لیے ہم صوبوں کو تقسیم کرکے نئے صوبے بنانے کی بات کررہے ہیں۔ اسی میں پاکستان کی بہتری اور بھلائی ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ مرکزی حکومت صوبائی حکومتوں کو قائل کرے گی کہ صوبوں کو توڑ کر نئے صوبے بنانا پاکستان کے حق میں ہے۔

نئے صوبے کا انتظامی سربراہ تو وزیراعلیٰ ہی ہوگا، مگر صوبے کے سب سے اعلیٰ عہدے پر کسی کو بٹھانا مرکزی حکومت کا کام ہے۔ مجھے امید ہے کہ صوبائی گورنر کے عہدے کے لیے مرکزی حکومت ہماری پسند کے شخص کو مقرر کرے گی۔ نیا صوبہ بنانے کا سب سے بڑا مقصد ہے کہ وزیراعلیٰ ہمارا اپنا، ہمارے کنبے کا ہوگا، ایرا غیرا نتھوخیرا ہمارا وزیراعلیٰ نہیں ہوگا۔ نئے صوبے کے ارکان اسمبلی اور وزیروں کی پلٹن کے لیے نئے انتخابات منعقد ہوں گے۔ ایک ہی زبان، ایک ہی تہذیب، ایک ہی تمدن کے لوگ منتخب ہوں گے۔ کتنا اچھا لگے گا؟ آج کل کی طرح بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے اسمبلی کی شکل دیکھنے کو ترسیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ نئے صوبے کی نئی اسمبلی کے لیے نئے انتخابات کرانے پڑیں گے۔ الیکشن پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ نئے صوبے کی نئی اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان مفت میں کرادیں گے۔ یہ مخلصانہ رویہ مرکزی حکومت کی طرف سے نئے صوبے کی انتظامیہ کے لیے تحفہ ہوگا۔

میں آج کل کوئی دوسرا کام نہیں کررہا۔ میں پرانے صوبے پر ایک نیا صوبہ بنانے کی کاغذی کارروائی پر کام کررہا ہوں۔ انشا اللّٰہ میں آپ کو پرانے صوبے پر نیا صوبہ بناکر دکھا دوں گا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)