رشتہ یاکاروبار؟

اکبر علی پرانے دوست ہیں۔ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو پہلے ایک نجی کمپنی میں ملازمت کی، پھر اپنا بزنس شروع کیا۔ کہتے ہیں اچھی گزر رہی ہے، پنشن اور کاروبار سے اتنی آمدنی ہو جاتی ہے کہ باعزت طریقے سے کام چل رہا ہے۔

البتہ انہیں ایک بڑی پریشانی یہ لاحق ہے کہ ان کی چار جوان بیٹیاں گھر میں بیٹھی ہیں اور مناسب رشتے نہیں مل رہے۔ بیٹا سب سے چھوٹا ہے، اس لئے اس کی شادی کو تو ابھی دیر ہے۔ تاہم بیٹیاں عمر کے ایسے حصے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں سے آگے خطرے کی گھنٹی بج جاتی ہے۔ وہ اکثر مجھے کہتے رہتے ہیں اپنے دوستوں، عزیز و اقارب میں کوئی رشتہ دیکھو۔ میں نے کوشش بھی کی ہے مگر اچھا رشتہ ملنا بھی آج کل بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ان کی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اب ظاہر ہے رشتہ بھی اتنا پڑھا لکھا تو چاہیے جتنا ان کی بیٹیاں ہیں۔

دو دن پہلے ملنے آئے تو انہوں نے اس مشق کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کئے ان کا یہ جملہ مجھے تیر کی طرح لگا کہ اب رشتہ ڈھونڈنا بھی ایک جوئے جیسا ہے۔ مل گیا تو ٹھیک وگرنہ ساری زندگی جلتے کڑھتے گزار دو۔ انہوں نے کہا یار نسیم یہ بیٹوں کے والدین آخر اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں۔ رشتہ دیکھنے آتے ہیں تویوں لگتا ہے، بہت بڑا احسان کرنے آئے ہوں۔ ان کی باڈی لینگوئج اور باتیں سن کر ہی وحشت سی ہونے لگتی ہے۔ کل تو حد ہی ہو گئی۔ ایک ریفرنس کے ذریعے رشتہ دیکھنے کے لئے ایک فیملی آئی۔ لڑکا بیرون ملک کہیں جاب کرتا ہے۔ لڑکے کی ماں نے پہلے تو بیٹھتے ہی یہ سوال کرکے دماغ بھک سے اڑا دیا کہ ابھی تک بیٹیاں گھر کیوں بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان کی شادی کیوں نہیں ہوئی؟ کہنے لگے اس وقت جی تو یہ چاہ رہا تھا انہیں منہ توڑ جواب دیتا کہ اگر شادیاں ہو گئی ہوتیں تو میں تمہیں اندر داخل ہونے دیتا۔ خیرصبر کا گھونٹ پیا۔ تب اس عورت نے ایک اور زخم لگایا کہ ہم تو سب سے چھوٹی بیٹی سے شادی کریں گے۔ میری اہلیہ نے پوچھا لڑکا اٹلی میں کیا کرتا ہے، تو وہ پہلے اس سوال کا جواب دینے سے کتراتی نظر آئی۔ پھر جب اصرار کیا تو اس نے کہا ایک بڑے سٹور  پر منیجر ہے۔پاکستان روپے میں کم از کم دس لاکھ روپے تنخواہ بنتی ہے۔ اتفاق سے اٹلی میں میرے جاننے والے ہیں اور ایک برادرِ نسبتی بھی رہتے ہیں۔ اس خیال سے میں نے لڑکے والد سے اس سٹور کا نام پوچھا جہاں لڑکا کام کرتا ہے۔ پہلے تو وہ لیت العل سے کام لیتے رہے، پھر غالباً اس خیال سے بتا دیا کہ انہوں نے کون سا وہاں دیکھنے جانا ہے۔ پھر لڑکے کی ماں نے ایک اور پینترا بدلا۔ چونکہ بیٹے نے تو باہر ہی رہنا ہے، اس لئے جہیز کی توضرورت نہیں ہوگی۔  البتہ کیش اور سونے کی شکل میں آپ جو دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ لمحے بعد کہنے لگیں آپ کو پتہ ہے،جہیز کاسامان اور سونا کتنا مہنگا ہے۔ڈیڑھ دو کروڑ تو دینے ہی ہوں گے۔ 

اس کے اس جملے پر میں نے اپنی اہلیہ کی طرف حیران کن نظروں سے دیکھا۔ البتہ ہم نے یہ بالکل واضح کر دیا کہ شادی پہلے بڑی بیٹی کی کرنی ہے۔ چھوٹی کا تو سوال ہی پیدا نہیں حوتا۔ وہ اندر گئیں اور بڑی بیٹی کو دیکھ کر باہر آئیں۔ کہنے لگیں بڑی بھی کوئی اتنی بُری نہیں، ہمیں منظور ہے۔ خیر ہم نے سوچ کر جواب دینے کا کہا اور انہیں رخصت کر دیا۔ ان کے جاتے ہی میں نے اپنے برادرِ نسبتی کو فون کیا اور سٹور کا پتہ بتا کے کہا معلوم کرو، اس نام کا لڑکا وہاں کیا کرتا ہے۔ اگلے دن اس نے بتایا وہ سٹور پر بطور ہیلپر ملازم ہے۔ اس کی عمر 35سال ہے اور تھوڑا لنگڑا کے بھی چلتا ہے۔ یہ سن کر ہم حیران ہوئے کہ اپنے اس بیٹے کے لئے اس کی ماں حور پری تلاش کررہی ہے اور ساتھ ڈیڑھ دو کروڑ کا جہیز کے نام پر تقاضا بھی کررہی ہے۔ میری اہلیہ نے اسے فون کرکے کہہ دیا ہمیں یہ رشتہ منظور نہیں اس لئے ہماری طرف سے انکار سمجھا جائے۔

اکبر علی کہنے لگے یہ ایک تجربہ نہیں ایسے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں اور سچی بات ہے اب تو خوف آتا ہے کہ بیٹی کا رشتہ کرکے کہیں پھنس ہی نہ جائیں۔ یہ بیٹوں کے والدین کی کیا نفسیات بن گئی ہے، وہ اپنے بیٹے کے لئے صرف لڑکی ہی نہیں اس کا سنہرا مستقبل بھی مانگتے ہیں۔ غریب والدین کیا کرتے ہوں گے جن کے پاس بیٹی کو جہیز میں ایک پیٹی، چند کپڑے اور مصنوعی زیورات دینے کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ کئی تو اپنے بے روزگار بیٹوں کا رشتہ لے کر آ جاتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں داماد بن کر یہ آپ ہی کا بیٹا ہوگا، اس کے مستقبل کے لئے بھی آپ ہی کچھ کریں گے تاکہ یہ دونوں میاں بیوی خوشی خوشی زندگی گزار سکیں۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر جی چاہتا ہے انہیں دو جوتیاں بھی ساتھ ماری جائیں۔

کل ایک وکیل دوست سے ملنے ضلع کچہری ملتان گیا۔ جہاں چیمبر میں دو فیملیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں ایک طرف خاموشی سے بیٹھ گیا۔ دوست وکیل کا منشی وہاں موجود دو لڑکیوں سے کاغذات پر دستخط کروا رہا تھا، انگوٹھے بھی لگوائے گئے جب وہ فیملیاں چلی گئیں تو وکیل دوست نے بتایا آج یہ پانچویں خلع کی درخواستیں ہیں، جو دائر کی گئی ہیں ۔روزانہ کا یہی معمول ہے اور اس وقت فیملی کورٹس میں ہزاروں خلع کے مقدمات چل رہے ہیں۔ میں نے وجوہات پوچھیں تو انہوں نے کہا کئی وجوہات ہیں لیکن دو وجوہات ایسی ہیں جن پر قابو نہ پایا گیا تو یہ معاملہ مزید گمبھیر شکل اختیار کرے گا۔ ایک وجہ لڑکے والوں کی غلط بیانی ہے۔ وہ جھوٹ بول کر رشتہ کرتے ہیں اور دوسری لڑکی والوں کی بے صبری ہے، جو چھان بین کے بغیر رشتہ کر دیتے ہیں۔ زیادہ تر لڑکے والوں کا لالچ کام خراب کرتا ہے۔ وہ شادی کے بعد غالباً یہ سمجھتے ہیں کہ اب لڑکی والے یرغمال بن گئے ہیں، ان سے جتنا چاہو مال ہتھیا لو۔

اس میں لڑکے کی ماں کا کردار سب سے زہریلا ہوتا ہے۔ وہ اپنی بہو کو طعنے دے کر مار دیتی ہے جبکہ بیٹے کے کان بھرتی ہے کہ وہ بیوی کو مجبور کرے کہ باپ سے پیسے مانگے۔ ان حالات میں گھر کیسے بس سکتے ہیں، اس لئے بے جوڑ شادیاں بالآخر طلاق یا خلع کی طرح جاتی ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)