عقل، عزت اور عروج

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے عزت کے بارے میں فارسی مقولہ ہے’ عزت بہ زر نیست، بہ ہُنر است‘۔ یعنی عزت دولت سے نہیں، ہنر سے ملتی ہے۔ اور عروج، اوج کمال کو پہنچے یعنی اقتدار اور طاقت حاصل کرنے والوں کیلئے زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔

عقل کے بغیر عروج زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ عقل ، عزت اور عروج کے سیاسی استعمال اور اثرات پر پہلے ایک سچا واقعہ سن لیں۔ مرحوم ومغفوراقبال ٹکا دانا دوست اور مشفق ومہربان سیاست کار تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو اقتدار سے اتر گئے تو ضیاالحق نے دوبارہ نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔ پیپلز پارٹی نے ٹکٹوں کا اعلان کرنا تھا۔ اقبال ٹکا عارف والا سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ کے خواہش مند تھے۔ بھٹو نے ٹکٹوں کے اعلان سے ایک دن پہلے اقبال ٹکا کو ملاقات کیلئے بلایا اور کہا دیکھو ٹکا تم میرے دوست ہو۔ یہ بتاؤ تم بھٹو کے دوست رہنا پسند کرو گے یا ٹکٹ لینا؟ اقبال ٹکانے مشکل اور پیچیدہ سوال کا ترنت جواب دیا۔ میں ٹکٹ لینے کو ترجیح دوں گا۔ بھٹو نے اقبال ٹکا کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے مسکرا کر کہا توتم وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دوستی کی نسبت پارٹی ٹکٹ کوترجیح دے رہے ہو۔ مجھے تمہاری دوستی سے اس بے وفائی کی امید نہ تھی۔ اقبال ٹکانے جذباتی ہوئے بغیر جواب دیا کہ اگر مجھے ٹکٹ ہی نہ ملا تو کاہے کی دوستی اور کہاں کا تعلق؟ بھٹو مسکرا کر خاموش ہوگئے اور اقبال ٹکا کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دےدیا۔

آئیے عقل، عزت اور عروج کی سیاسی تشریح کو موجودہ حالات پر منطبق کرنے کی کوشش کریں۔ معاشرے کی مڈل کلاس اقدار کی پاسبان اور نگہبان ہوتی ہے۔ اسی لئے اس میں عزت کا لفظ مقدس ترین ہوتا ہے۔ عام بول چال میں کہا جاتا ہے ’ مجھے بس عزت چاہیے‘ یا پھر یہ دولت اور اقتدار نہیں اصل چیز عزت ہے’اور جان جائے عزت نہ جائے‘ وغیرہ وغیرہ ۔ بھارت کی ایک فلم میں مڈل کلاس کے عزت کے تصور کو ’ عجت‘ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا گیا۔ فلم تو خیر فلم ہے، اس میں حقیقت کم اور افسانہ زیادہ ہوتا ہے۔ مگر اہل اقتدار اور عروج وکمال والے اپنی عقل سے عزت کی نسبت اقتدار کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ ان کا فلسفہ یہ ہوتا ہے کہ سیاست عروج وزوال کا کھیل ہے۔ عزت ، بے عزتی اور اونچ نیچ اس کھیل کے داؤپیچ ہیں ۔ دانا پہلوان ، مخالف کی کمزوری پکڑ کر بار بار وہی داؤ کھیلتا ہے۔ اپنی کمزوری ہوتو اس کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ عظیم باکسر محمد علی کلے اپنے مخالفوں کو اپنے پیٹ پر وار کرنے دیتا تھا جبکہ منہ اور سر کو اپنے مکوں سے چھپا کر بچا لیتا تھا۔ مخالف پیٹ پر وار کر کے تھک جاتا تو محمد علی کلے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے مخالف کو ناک آؤٹ کر دیتا۔ باکسنگ اور پہلوانی تو خیرجسمانی طاقت اور ہنر کے کھیل ہیں جبکہ سیاست طاقت، غیر جذباتیت اور عقل کا کھیل ہے۔ جس کے ہر داؤ پیچ کو سوچ سمجھ کر اور اس کے ممکنہ اثرات سامنے رکھ کر کھیلنا پڑتا ہے۔

موجودہ حکومت کے دو بڑے حلیف نونی اور پیپل دونوں نے گزشتہ 41 سال میں بہت اتارچڑھاؤ دیکھے ہیں، جیل اور ریل، تخت اور تختے کا تماشا انہوں نے نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ یہ دونوں مختلف اوقات میں تختہ مشق بھی بنے رہے ہیں ۔ وہ وقتی عزت و مقبولیت اور عدم مقبولیت کے ادوار سے گزر کر اب جذبات سے نہیں بلکہ عقل سے فیصلہ کرتے ہیں۔ انہیں علم ہے کہ عروج برقرار رکھنا ہے تو وقتی عزت سے اقتدار کو دوام نہیں مل سکتا۔ سر جھکانا بھی پڑے تو مشکل راستے سے کمر جھکا کر گزر جائیں۔ سرنگ کے بعد کھلی روشنی آنی ہی ہوتی ہے۔ آئیے تصوراتی طور پر دیکھتے ہیں کہ نظام ختم ہونے کی بات پرنون کے چار لیڈروں نواز شریف، مریم نواز، شہبازشریف اور اسحاق ڈار کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں کیا بات ہوئی ہوگی اور فیصلہ کس طرح سے کیا گیا ہوگا۔

آغاز ظاہر ہے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہی کیا ہوگا تاکہ حقیقی صورتحال کی ترجمانی کر سکیں۔ شہباز شریف نے کہا ہوگا کہ مقتدرہ خلوص دل سے پاکستان کی ترقی اور بہتری کی خواہش مند ہے۔ لیکن مقتدرہ اور ہماری مشترکہ کوششوں، محنت اور خلوص کے باوجود کوئی بڑی تبدیلی نہیں آرہی۔ مقتدرہ کے قابل سوجھوانوں کا خیال ہے کہ جب تک انتظامیہ کے ڈھانچےمیں انقلابی تبدیلیاں نہ ہوں مؤثر اور بہترین حکمرانی ممکن ہی نہیں۔ اس حوالے سے نئے صوبے بنا کر یا انتظامی یونٹ بنا کر اس تبدیلی کو شروع کیا جا سکتا ہے تاکہ علاقائی اور ضلعی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازاس محفل کے حساب سے عمر میں سب سے چھوٹی تھیں اس لئے اندازہ ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہوگا کہ ہمیں بتائے بغیر یہ بم کیوں پھوڑا گیا؟ سب کچھ ٹھیک تو چل رہا تھا اچانک یہ بھونچال لانے کا مقصد اور ضرورت کیا تھی؟

جواب میں وزیر اعظم بولے ہوں گے، بیٹا مریم! ملکی اور بین الاقوامی حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اور مقتدر طبقے مل کر چلیں تاکہ ملکی کشتی کو اصلاح کے ذریعےپار لگا سکیں۔ ہمیں جذباتی طور پر نہیں ٹھنڈے دل سے حالات کو دیکھنا ہے۔ اسحٰاق ڈار نے کہا ہوگا کہ یہ وقت اس دھماکے کیلئے مناسب نہیں۔ کشمیر، پختونخوا اور بلوچستان میں آگ لگی ہوئی ہے۔ سندھ اور پنجاب پر سکون ہیں۔ وہاں یہ وقت دھماکہ کرکے آگ لگانے کا نہیں۔ مقتدرحلقوں تک میری رسائی ہے۔ میں ان سے جاکر بات کروں گا کہ یہ وقت اس طرح کے متنازعہ فیصلوں کا نہیں ہے۔ امید ہے مقتدر حلقے میری بات غور سے سنیں گے اور شاید مان بھی جائیں۔ میٹنگ کے آخر میں نواز شریف نے اختتامی فیصلہ کیا ہوگا اور کہا ہوگا کہ شہباز، یہ غیر مناسب کام ہوا ہے یہ ایک طرح سے سیاست کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ لیکن ڈار صاحب کی یہ بات درست ہے اور تمہاری رائے سے بھی میں اتفاق کرتا ہوں کہ مقتدرہ اور نون کا یہ لڑنے کا وقت نہیں ۔ شہباز صاحب اور ڈار صاحب جاکر راولپنڈی بات کریں۔ فی الحال نون کوئی ردعمل نہ دے۔ اگر کوئی تبدیلی لانی ہے تو باریک بینی سے بیٹھ کر مقتدرہ اور نون کی قیادت اکٹھے فیصلہ کرے۔

دوسری طرف پیپل کے صدر باپ اور بیٹے بلاول بھٹو میں بھی اس موضوع پر مشورہ ہوا ہوگا ۔ آئیے اس تصوراتی ٹیلیفون کال کو ڈی کوڈ کرلیں جوممکنہ طور پر کچھ اس طرح ہوئی ہوگی۔

باپ:۔ یہ اسلام آباد میں جو تقریر ہوئی ہے نہ مجھے اس کی خبر تھی اور نہ اندازہ تھا حالانکہ محسن مجھے رات کو ملا تھا۔ لیکن ا س نے اس اعلان کے بارے میں مجھے کچھ نہیں بتایا۔

بیٹا:۔ میں آپ کو بڑی دیر سے کہہ رہا ہوں کہ ہماری جماعت کے خلاف نونی سازش کررہے ہیں، آزاد کشمیر میں ہماری سیٹیں زورزبردستی اور دھاندلی سے چھین لی گئی ہیں۔ سندھ حکومت اور آپ کی کرپشن کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے، مقتدرہ کوآپ سے اور مجھ سے بدگمان کیا جارہا ہے۔

باپ:۔ ہمارا مقتدرہ سے سب سے مضبوط رابطہ محسن کے ذریعے تھا مگر اب وہ بہت بڑا ہوگیا ہے اور کئی دفعہ اپنی مرضی کرتا ہے۔ ہمارا بچہ ہے مگر اس نے دوسروں کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ محسن ہم سے مخلص ہے۔

بیٹا:۔ آپ کے دوست ماضی میں ہمیشہ ہمیں مرواتے رہے ہیں۔ بذات خود محسن تو بہت اچھا ہے۔ مگر اس کو بھڑکانے اور بہلانے والے بہت ہیں ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔

باپ:۔ تحمل اور احتیاط سے چلنا ہے۔ جذبات کو کنڑول کرکے ہی ہم اس بحران کو ٹال سکتے ہیں۔

نونی اور پیپل کیمپوں کی تصوراتی گفتگو اور مشوروں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر داخلہ کی طرف سےچلائے گئے بم نے سیاست میں کہاں کہاں اور کس کو کتنا متاثر کیا ہے…!

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??