ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر
- تحریر یاسر پیرزادہ
- بدھ 05 / اگست / 2026
”جنابِ اسپیکر، معزز اراکینِ پارلیمان، خواتین و حضرات! آج کا دن ہماری سیاسی تاریخ کا یادگار دن ہے، آج سے قریباً اسّی برس پہلے قائد نے ہماری ریاست کی سمت متعین کی تھی مگر افسوس کہ ہم بھٹک گئے۔
اسی لیے آج میں کوئی روایتی تقریر کرنے نہیں آیا اور نہ ہی آپ کے سامنے اپنی حکومت کی کامیابیاں گنوانے آیا ہوں۔ آج میں ریاست کی جواب دہی کا عہد کرنے آیا ہوں۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری شہری کی جان، مال، عزت اور عقیدے کا تحفظ ہے۔ دہشت گردوں سے لڑتا ہوا کوئی پولیس اہلکار ہو، دور دراز صوبے میں سفر کرتا ہوا کوئی مزدور ہو، مسجد میں عبادت کرتا ہوا نمازی ہو، چرچ میں دعا کرتی مسیحی خاتون ہو یا اپنے گھر میں بیٹھا کوئی عام شہری، ان سب کی جان ریاست کے نزدیک یکساں قیمتی ہوگی۔ دہشت گردی کے بارے میں ریاست کی پالیسی دو ٹوک ہوگی۔ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہو گا، کوئی پسندیدہ یا ناپسندیدہ مسلح گروہ نہیں ہو گا اور کسی شخص کو بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ریاست کسی مسلح جتھے کو خارجہ پالیسی کا اثاثہ، داخلی سیاست کا معاون یا مذہب کا نمائندہ نہیں سمجھے گی۔ جو شخص آئین کو تسلیم کر کے ہتھیار چھوڑنا چاہے گا، اس کے لیے قانون کے اندر واپسی کا راستہ ہو گا اور جو ہتھیار اٹھا کر شہریوں کو قتل کرے گا، اسے ریاست کی پوری قانونی قوت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انتہا پسندی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ مدرسے، اسکول، یونیورسٹی، مسجد، میڈیا اور سیاسی جماعت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی دوسرے شہری کے ایمان کی پیمائش کرے اور پھر اس کے زندہ رہنے کا فیصلہ بھی خود صادر کر دے۔ فتویٰ عدالت کا متبادل نہیں، ہجوم قانون کا قائم مقام نہیں اور مذہبی جذبات قتل کا لائسنس نہیں۔ مذہب ہمارے لوگوں کے ایمان کا سرچشمہ ہے، اسے ذاتی دشمنی، زمین ہتھیانے اور سیاسی دکان چمکانے کا ہتھیار نہیں بننے دیا جائے گا۔ آج میں اپنے ملک کے غیر مسلم شہریوں سے بھی براہِ راست مخاطب ہوں۔ آپ کے مندر، چرچ، گوردوارے اور عبادت گاہیں اسی طرح مقدس ہیں جیسے مساجد۔ آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اس ریاست میں اپنی مساجد یا کسی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا ذات یا عقیدے سے ہو، ریاست کے کاروبار سے اُس کا کچھ لینا دینا نہیں ہو گا۔
اور اب کچھ بات اُن علیحدگی پسندوں کی بھی ہو جائے جو بے گناہ مزدوروں، مسافروں، اساتذہ، پولیس اور فوج کے جوانوں کو قتل کرتے ہیں۔ کوئی سیاسی محرومی کسی بے گناہ کے قتل کا جواز نہیں بن سکتی۔ علیحدگی کے نام پر بس سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھنے اور انسان کو گولی مار دینے والا کسی قوم کا خیر خواہ نہیں، قاتل ہے۔ ریاست ایسے قاتلوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ہر ناراض نوجوان دہشت گرد نہیں اور ریاست سے سوال پوچھنے والا ہر شخص غدار نہیں۔ لاپتا افراد کا مسئلہ محض پروپیگنڈا کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی شخص مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، اگر بے گناہ ہے تو رہا کیا جائے اور اگر ریاستی تحویل میں اس کے ساتھ کوئی جرم ہوا ہے تو ذمہ دار اہلکار کا عہدہ اسے قانون سے نہیں بچائے گا۔ آج میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں با اختیار ’کمیشن برائے حقیقت، انصاف اور مصالحت‘ قائم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ اسے تمام حراستی مراکز تک رسائی، گواہوں کے تحفظ اور مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کرنے کا اختیار ہو گا۔
اس کی سفارشات پارلیمان کے سامنے رکھی جائیں گی اور اُن پر من و عن عمل ہو گا۔ اِس اعلان کے بعد جو گروہ تشدد ترک کر کے آئین کے اندر مذاکرات چاہیں گے، ان کے لیے ہمارے دروازے کھلے رہیں گے۔ ہمارے ملک کے زیرِ انتظام کسی علاقے کے شہری کو غدار کہہ کر خاموش کرنا ہمارے مقدمے کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرتا ہے۔ ریاست کا موقف تب معتبر ہوتا ہے جب اس کا اپنا کردار اس موقف کی تصدیق کرے۔ معزز اراکین! آج میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک قومی جمہوری میثاق کی دعوت دیتا ہوں۔ حکومت اور حزبِ اختلاف مل کر یہ طے کریں گے کہ جیتنے والا پورا ملک نہیں جیت لیتا اور ہارنے والا پاکستان کا دشمن نہیں بن جاتا۔ قومی سلامتی، اہم معاہدوں اور بڑے معاشی فیصلوں پر پارلیمانی نگرانی یقینی بنائی جائے گی اور تمام ریاستی ادارے آئین کے متعین کردہ دائرے میں کام کریں گے۔ فوج کا وقار اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، قربانیوں اور سرحدوں کے دفاع میں ہے، سیاست میں اس کا نام استعمال کرنا نہ فوج کی خدمت ہے نہ جمہوریت کی۔
عدلیہ کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ جج جواب دہی سے بالاتر ہو جائیں اور پارلیمان کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریت آئین کی حدود مٹا دے۔ صحافت کی آزادی جھوٹ پھیلانے کا لائسنس نہیں اور جھوٹی خبر روکنے کے نام پر حکومت کو تنقید بند کرنے کا اختیار بھی نہیں۔ ہر ادارے کی عزت اسی وقت محفوظ ہوگی جب وہ اپنی آئینی حد کا احترام کرے گا۔ اب میں حکمرانی کی طرف آتا ہوں۔ ایک عام شہری حکومت کا مشاہدہ تین مواقع پر کرتا ہے : سڑک پر گزرتے ہوئے پروٹوکول میں، ٹیلی وژن پر پریس کانفرنس میں اور سرکاری دفتر کے باہر انتظار کرتے ہوئے۔ یہ تینوں تجربات اسے یقین دلاتے ہیں کہ ریاست موجود ضرور ہے مگر اس کے لیے نہیں۔ آج سے وفاقی وزرا، مشیروں اور اعلیٰ افسران کے غیر ضروری پروٹوکول، اضافی سرکاری گاڑیوں، بلاجواز کیمپ دفاتر، مفت مراعات اور شاہانہ تزئین و آرائش پر پابندی ہوگی۔
جان کے حقیقی خطرے اور عہدے کی نمائش میں فرق کیا جائے گا۔ سڑک بند کر کے گزرنے والا حکمران دراصل چند منٹ نہیں چھینتا، شہری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اس کا وقت کم قیمت ہے۔ ہر وزارت کے بنیادی کاموں، اہداف، اخراجات اور نتائج کا عوامی ڈیش بورڈ بنایا جائے گا۔ سرکاری خریداری مکمل طور پر الیکٹرانک ہوگی، ٹھیکوں، بولیوں اور حتمی مالکان کی تفصیل عوام کو دستیاب ہوگی۔ ہماری معیشت نے گزشتہ برسوں میں کچھ استحکام حاصل کیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے، مالی نظم میں پیش رفت ہوئی، ٹیکس وصولی بڑھی اور شرحِ نمو میں بحالی کے آثار ہیں۔ لیکن وزیراعظم کا فرض صرف یہ بتانا نہیں کہ معیشت کے گراف میں لکیر اوپر جا رہی ہے، اسے یہ بھی دیکھنا ہے کہ مزدور کے گھر میں چولہا جل رہا ہے یا نہیں۔ اگر قومی آمدن کے ساتھ غربت بھی بڑھ جائے، اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے مگر مزدور کا بچہ اسکول کی بجائے ورکشاپ میں کام کرے، بجٹ خسارہ کم ہو مگر یتیم بچی دوا نہ خرید سکے تو ایسی ترقی کو میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا۔
جس ملک کے کروڑوں بچے اسکول سے باہر ہوں، وہاں ہر سرکاری عمارت کی تزئین و آرائش سے پہلے یہ سوال ہونا چاہیے کہ کیا ہم نے ہر بچے کے لیے استاد اور کلاس روم مہیا کر دیا؟ وفاق اور صوبے دس سالہ قومی تعلیمی معاہدہ کریں گے۔ نصاب میں نفرت، رٹے اور جھوٹی عظمت کے بجائے زبان، ریاضی، سائنس، منطق، تاریخ، آئینی شعور اور برداشت کو جگہ دی جائے گی۔ مدرسے کے طالب علم کو جدید علوم سے محروم رکھنا دین کی خدمت نہیں اور سرکاری اسکول کے بچے کو ناقص تعلیم دینا جمہوریت نہیں۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ ہماری ہر ترقی کو نگل رہا ہے۔ یہ مسئلہ وعظ یا جبر سے حل نہیں ہو گا۔ لڑکیوں کی تعلیم، بنیادی صحت، خواتین کے معاشی اختیار، خاندانی منصوبہ بندی کی باعزت سہولت اور مذہبی و سماجی قیادت کی شمولیت سے حل ہو گا۔ عورت کو تعلیم، وراثت، روزگار اور فیصلہ سازی کا حق دیے بغیر آبادی، غربت اور صحت کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کسی قوم کی آدھی آبادی کو گھر کی چار دیواری میں محدود کر کے پوری معیشت دوڑائی نہیں جا سکتی۔
بلدیاتی حکومتوں کو آئینی روح کے مطابق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دیا جائے گا۔ گلی کی نالی، پینے کا پانی، کچرا، ٹرانسپورٹ اور بنیادی صحت کا فیصلہ صوبائی یا وفاقی دارالحکومت میں نہیں بلکہ یونین کونسل میں ہو گا۔ جمہوریت صرف وزیراعظم اور وزیراعلیٰ منتخب کرنے کا نام نہیں، جمہوریت اس وقت شروع ہوتی ہے جب شہری اپنے محلے کا جواب دہ نمائندہ منتخب کر سکے۔
میرا خواب ایک ایسا ملک ہے جہاں وزیراعظم کا قافلہ گزرنے پر ایمبولینس نہ رکے، تھانے میں غریب کی درخواست بغیر سفارش درج ہو، عدالت کا فیصلہ فریق کی حیثیت دیکھ کر نہ بدلے، بچے کا مستقبل اس کے باپ کے نام سے متعین نہ ہو، عورت کو تحفظ کے عوض آزادی قربان نہ کرنا پڑے، اقلیت کو برابر ثابت ہونے کے لیے اکثریت سے زیادہ وفادار نہ بننا پڑے اور نوجوان کو کامیابی کے لیے ملک چھوڑنا واحد راستہ محسوس نہ ہو۔ اگر ہم یہ نہ کر سکے تو ہمارے ترانے، نعرے، پریڈیں اور تقاریر اس حقیقت کو نہیں چھپا سکیں گی۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔‘
(بشکریہ: ہم سب لاہور)