عمران خان کی قید سے ملک کے حالات بہتر نہیں ہوں گے!
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 05 / اگست / 2026
تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو قید ہوئے تین سال پورے ہوگئے۔ ان میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران انہیں تقریباً قید تنہائی میں رکھا گیا ہے حتی کہ ان کے وکلا کو بھی ان تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ تحریک انصاف اعلان کے باوجود آج ملک میں کوئی مؤثر احتجاج منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
رہی سہی کسر ملک میں خبروں کی ترسیل پر عائد سنسر شپ نے پوری کردی ہے۔ میڈیا کو کسی بھی ناپسندیدہ خبر کی رپورٹنگ کی اجازت نہیں اور اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکی میڈیا کو سخت سرکاری رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یا ان پر پاکستان میں پابندی لگا کر حساب برابر کیا جاتا ہے۔ ایک مقبول اور قومی لیڈر کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ہر جمہوری روایت کا قلع قمع کرنے اور سیاسی کارکنوں تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جمہوریت کی یہ تعریف غلط ہے کہ : ’عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں‘۔ درحقیقت طاقت ان عناصر کے ہاتھوں میں ہے جو آزادی اظہار کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔
بظاہر عمران خان کرپشن اور سرکاری تحائف فروخت کرنے کے الزامات میں عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزاؤں کی وجہ سے جیل میں بند ہیں لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اس قید کی وجوہات سیاسی ہیں۔ اگرچہ بطور سیاسی لیڈر عمران خان کی طرف سے سامنے آنے والا چیلنج بھی ان کی گرفتاری اور طویل حراست کا سبب ہے لیکن ان کا اصل جرم سانحہ 9 مئی ہے۔ اور بعد از وقت اس غلط فیصلے کا اعتراف کرکے معاملات ٹھیک کرنے میں ناکامی ہے۔ اب تویہ سرکاری طور سے اعلان شدہ اور تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ملک کا نظام ناکام ہوچکا ہے۔ (اس مؤقف کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وزیر داخلہ نے نظام ناکام ہونے کی خبر دی ہے اور وزیر اعظم سمیت کسی عہدے دار نے اس کی تردید نہیں کی جسے اس اعلان کو حکومت کی بالواسطہ توثیق سمجھا جاسکتا ہے) اس لیے ملک کا عدالتی انتظام بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام ساڑھے تین سال پہلے ایک ایسے سانحہ کی تحقیقات کرنے اور حقائق سامنے لاکر ملزموں کو سزائیں نہیں دلوا سکا جس نے ملک میں بغاوت کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی اور فوج کے اندر بعض عناصر نے ایک مقبول لیڈر کی آڑ میں نظام کو یرغمال بنانے کا خواب دیکھا۔
تاہم عدالتی نظام کی اس ناکامی کی سزا بھی تحریک انصاف اور عمران خان کو دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ارباب بست و کشاد کو یقین کرنا چاہئے کہ جیسے عمران خان کو تین سال جیل میں بند رکھنے سے نظام شفاف نہیں ہوسکا اور نہ ہی تمام معاملات درست کیے جاسکے ہیں، اسی طرح انہیں مزید تکلیف دینے اور تحریک انصا ف کو دبانے سے بھی مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ اس لیے عمران خان اور ان کے بعض سینئر ساتھیوں کو مسلسل حراست میں رکھنے کا فیصلہ کرنے والی اتھارٹی جو بھی ہے، اسے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ اگرچہ عام طور سے تو یہی سمجھا جائے گا کہ عمران خان کو شہباز شریف کی سیاسی حکومت نے گرفتار کیا ہے اور وہی قید کے دوران انہیں ہراساں کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ گو کہ حکومت کے متعدد ارکان شاید اس مؤقف کو غیرسرکاری طور سے نہ مانیں۔ البتہ یہ کہنا زیادہ متوازن ہوگا کہ اگر شہباز شریف اس معاملہ میں بے قصور ہیں بھی تو انہیں ایک سیاسی لیڈر اور سیاسی پارٹی کے ساتھ ہونے والے سلوک کے معاملے میں ویسی بے بسی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے جو وہ بوجوہ لاپتہ افراد کے معاملہ پر کرتے رہے ہیں۔ اپنی وزارت عظمی کے سابقہ دور میں جب لاپتہ افراد کے اہل خاندان نے شہباز شریف سے اپنے عزیزوں کو انصاف دلانے کی اپیل کی تھی تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی تھی کہ ’وہ متعلقہ حکام تک یہ درخواست پہنچا دیں گے‘۔
کچھ حلقوں میں اگر یہ تاثر موجود ہے کہ عمران خان جیل سے رہاہوگئے تو وہ ریاست کے خلاف کوئی قیامت برپا کردیں گے یا ریاست کے وجود کو خطرہ لاحق ہوجائے گا تو یقین کیا جائے کہ جیل میں مظلوم کی زندگی گزارنے کے باوجود اگر عمران خان اپنے جاں نثاروں کو کوئی انقلاب برپا کرنے پر آمادہ نہیں کرسکے تو وہ آزاد حیثیت میں بھی کوئی طوفان نہیں اٹھا سکیں گے۔ موجودہ حکومت کے غیر قانونی انتخاب اور ناجائز تسلط کے بارے میں ضرور بات کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ 2024 کے اانتخانات دھاندلی شدہ تھے۔ تاہم یہ کوئی ایسا الزام نہیں ہے جس سے موجودہ حکومت ’ناکام ‘ ہوجائے۔ نہ ہی یہ کوئی ایسی حقیقت ہے جس پر وزیر اعظم یا کوئی صاحب اقتدار اب کوئی شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ اس کی ناکامی کے لیے تو کابینہ میں بیٹھے ہوئے محسن نقوی جیسے وفادار ہی کافی ہیں۔
البتہ ایک نام نہاد جمہوری نظام میں اگر ایک سیاسی لیڈر کو غیر معینہ مدت تک گرفتار رکھا جائے گا اور اس پر انصاف کے تمام جائز دروازے بند کیے جائیں گے تو اس سے قومی شعور میں خوف و ہراس کی بجائے ناراضی، بغاوت، احتجاج اور بے بسی کے ملے جلے جذبات پروان چڑھتے رہیں گے۔ اور ملک میں جس نظام کی اصلاح کی بات کی جارہی ہے، یہ عوامی احساسات اس کی اصلاح میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گے۔ اور اگر اتفاقاً کوئی ایسا سانحہ رونما ہوگیا جس کی بنیاد پر عوام کو اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنے کا موقع مل گیا تو یہی جذبات کسی ایسے طوفان کا پیش خیمہ ضرور بن سکتے ہیں جو سب کچھ بہا کر لے جاسکتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران میں سری لنکا اور بنگلہ دیش میں اس صورت حال کا مظاہرہ ہوچکا ہے۔ ایسے طوفان سب کچھ تباہ کرتے ہیں اور کچھ ٹھیک نہیں کرپاتے لیکن اس کے باوجود طوفان اٹھنے کے بعد اس کا راستہ روکنا محال ہوتا ہے۔ اس لیے دانشمندی اور قومی یک جہتی کا تقاضہ ہے کہ قبل از وقت مشکل صورت حال سے بچنے کا اہتمام کیا جائے۔عمران خان کو سیاسی مظلوم بنا کر حکومت یا ریاست کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکی۔ اب اس ناانصافی کا خاتمہ کرکے پاکستان کو معمول کا معاشرہ بنانے کی طرف پہلا اور قابل ذکر قدم ضرور اٹھایا جاسکتا ہے۔
اگرچہ یہ چند الفاظ اونچی دیواروں کے پیچھے ہونے والے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت نہیں رکھتے لیکن تاریخ میں ضرور یہ درج ہوسکے گا کہ جب تباہی کے آثار ہویدا تھے تو کہیں نہ کہیں سے اس کی طرف اشارہ ضرور کیا گیا تھا۔ کسی زندہ قوم کے باشعور ، ناانصافی کی نشاندہی سے مزاحمت کی وہ داستان رقم کرسکتے ہیں جو بعد کے وقتوں میں سبق سیکھنے اور اپنی زندگی کی علامت کے طور پر یاد رکھی جاسکے۔