پاکستان میں سسٹم کیوں بیٹھ گیا؟

ان دنوں ہمارے ملک میں ایسے الفاظ کی گونج ہے کہ “پاکستان کا سسٹم کولیپس کر گیا ہے”۔ کولیپس کا اگر اپنی ٹھیٹھ زبان میں ترجمہ کریں تو بنتا ہے کہ ہمارے نام نہاد سسٹم کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے، بیڑا غرق ہو گیا ہے۔

لہٰذا اب یہاں نئے سسٹم کی ضرورت ہے جو اسی صورت ممکن ہے کہ جب یہاں ریاست کی چار اکائیوں یا صوبوں کی بجائے تیس بتیس نئے صوبے تخلیق کر دیے جائیں تاکہ روایتی سیاستدان رخصت ہو جائیں اور نئے سیاستدان ابھر کر سامنے آئیں۔ اگر ایسے نہ کیا گیا تو انڈیا کی طرح یہاں بھی کاکروچوں یعنی نوجوانوں کی یلغار اٹھ کھڑی ہوگی جس کے سامنے اس کولیپس یعنی گلے سڑے سسٹم کو سرنڈر ہونا پڑے گا۔ بظاہر یہ الفاظ بڑے خوبصورت و خوشنما ہیں جن میں ہماری موجودہ سیاسی صورتحال سے نفرت و بیزاری ہی نہیں پائی جاتی بلکہ نوجوانوں یا جین زی کے سامنے ایک سہانے مستقبل کی امید بھی ہے کہ اے ہمارے ناراض نوجوانو! ہم آپ کے لیے مستقبل کی راہیں کشادہ کر رہے ہیں، جن میں تم لوگ اٹھو گے اور چھا جاؤ گے۔ اپنے نئے عزم اور ولولے کے طوفان سے ماضی کی ان تمام الائیشوں یعنی روایتی سیاستدانوں کو بہا کر لے جاؤ گے۔ جبکہ درویش ان خوشنما الفاظ کے پیچھے سہانا مستقبل نہیں ماضی جیسا گھسا پٹا بدصورت سراب ملاحظہ کر رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ ان نوجوانوں کو اصل میں جن سے شکایات ہیں جو اصل کلپرٹ ہیں وہ اس خوبصورتی و چالاکی سے اپنا دامن بچا کر ان کا دھیان یا ٹارگٹ دوسروں کی طرف موڑ دیں اور خود ان کے ہمدرد یا پشتیبان بن کر کھڑے ہو جائیں۔

ہماری شاعری میں انہی حیلوں سے قاتل محبوب اور محبوب قاتل یا محرم مجرم اور مجرم محرم بن جاتا ہے۔ جبکہ درویش اسے چور مچاۓ شور گردانتا ہے۔ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلمان نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضع میں تم ہو نصاری، تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دے کر شرمائیں یہود

آج کے حالات میں آپ یہاں مسلم کی جگہ “سسٹم” رکھ لیں تو کیا خوبصورت سماں بندھتا ہے:
شور ہے، ہو گیا ملک سے سسٹم نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھا بھی کہیں سسٹم موجود

اگلے مصرے کی اگر پیروڈی بنا دیں گے تو وہ ہضم نہ ہو سکے گی لہٰذا یہی عرض ہے کہ یہاں جناب نے کبھی سسٹم بننے ہی نہیں دیا۔ اگر رو دھو کے کبھی جیسا تیسا سسٹم بنا بھی لیا تو وہ کون معززین ہیں جنہوں نے غیر مرئی حلف اٹھا رکھا ہے یا تقیہ والی قسم کھا رکھی ہے کہ اسے چلنے نہیں دینا۔ درویش کی نظروں میں ہمارا سسٹم یا بھٹہ اسی روز بیٹھ گیا تھا جب ہم نے برٹش اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر 16 اگست 1946 کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے مناتے ہوئے سسٹم کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی تھی۔ اس کے بعد، چل سو چل، سسٹم کی نہیں، شخصی اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ اسی نے ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس، لبرٹی اینڈ فریڈم کا گلا گھونٹ کر یہاں جبرو آمریت کی شاہراہ اعظم تعمیر کر ڈالی جس سے ہٹنے یا اختلاف کرنے والوں کے لیے ہم نے غدار، وطن دشمن، بھارتی ایجنٹ اور فتنتہ الہند کی اصطلاحات ایجاد کر لیں۔ اور پھر جن پر چاہا، انہیں تھوپ ڈالا۔ ان کا پہلا شکار پہلے ہی  کے پی کے میں ڈاکٹر خان صاحب کی منتخب جمہوری صوبائی حکومت ہوئی، پھر یہی آمرانہ ذہنیت سندھ میں ایوب کھوڑو حکومت پر بجلی بن کر گری۔ ساتھ ہی یہ طے پایا کہ کیبنٹ میں جی جی کو جی جی نہ کرنے والا فارغ سمجھا جائے گا۔

جب اولوں سابقوں نے ریاست کیلیے یہ اصول طے فرمایا تو پھر متاخرین ثواب درین میں پیچھے کیوں بیٹھ رہتے۔ اس کے بعد شخصی اقتدار کی دوڑ لگنی ہی تھی بالآخر اس دوڑ میں کامیابی اسی کے ہاتھ آنی تھی جس کے ہاتھوں میں زیادہ طاقت بلکہ لٹھ یا بندوق کی طاقت تھی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ آئین یا اصول کو طاقت بنانے کی بجائے شخصی برتری، رعب دبدبے اور کرسی کی طاقت سے اپنی بات منوائیں تو بالمقابل بندوق والا اس شخصی اقتدار کی کرسی پرحاوی نہ ہو جائے اور پھر دما دم مست قلندر نہ ہو۔

قانون قدرت ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے۔ جناح، لیاقت علی، غلام محمد اور سکندر مرزا نے جو کیا، سو کیا، آگے چل کر جب بڑی طاقت چھوٹی طاقت سے ٹکرائی تو نتیجتاً جنرل ایوب، جنرل یحییٰ، جنرل ضیا، جنرل مشرف، جنرل کیانی اور جنرل باجوہ جیسے بڑے طاقتوروں کا ظہور ہوا۔ ہوا یا نہیں ہوا؟ (جاری ہے)